بڑی مچھلیاں

کرپشن صرف ہمارے ملک کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ساری دنیا میں یہ بیماری ایک وبا کی طرح پھیلی ہوئی ہے


Zaheer Akhter Bedari May 11, 2015
[email protected]

لاہور: کرپشن صرف ہمارے ملک کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ساری دنیا میں یہ بیماری ایک وبا کی طرح پھیلی ہوئی ہے لیکن پاکستان کو اس حوالے سے یہ اعزاز ضرور حاصل ہے کہ وہ کرپٹ ملکوں میں سرفہرست ہے۔ پچھلے دنوں ہماری سینیٹ میں اس مسئلے پر بحث کرتے ہوئے اراکین نے کہا کہ جب تک بڑی مچھلیوں کو نہیں پکڑا جائے گا اس وقت تک کرپشن میں کمی ممکن نہیں۔ سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے کرپشن کی روک تھام کے لیے ایک کمیٹی قائم کرنے کا معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا، متحدہ کے رکن سینیٹر طاہر مشہدی نے اپنی پیش کردہ تحریک پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اداروں میں ہونے والی بھاری کرپشن ایک بہت بڑا مسئلہ ہے جس کے خلاف سخت ترین کارروائی کی ضرورت ہے، اراکین سینیٹ نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ بڑے سرمایہ کاروں کو قرضے دینے کے بجائے چھوٹے تاجروں اور کاشتکاروں کو قرضے دیے جائیں تا کہ اس کا درست استعمال بھی ہو اور واپسی کا امکان بھی ہو۔

اس حوالے سے اس افسوسناک حقیقت کی نشان دہی ضروری ہے کہ ایلیٹ کے شہزادوں اور شہزادیوں نے ماضی میں بینکوں سے دو کھرب سے زیادہ روپے قرض لے کر ہڑپ کر لیے تھے جس کا ذکر نہ صرف میڈیا میں آتا رہا بلکہ یہ کیس اعلیٰ عدلیہ کی میز تک بھی پہنچ گیا تھا لیکن ''نامعلوم وجوہات'' کی بنا پر یہ کیس اب تک پینڈنگ میں پڑا ہوا ہے۔ دو کھرب کی رقم بہت بھاری رقم ہوتی ہے جس سے ہر شہر میں ایک جناح اسپتال کراچی جیسا بڑا اسپتال اور ہر شہر میں آکسفورڈ یونیورسٹی جیسی ایک یونیورسٹی قائم کی جا سکتی ہے۔ 2007ء میں آزاد ہونے والی عدلیہ کا فرض ہے کہ وہ بڑی بڑی مچھلیوں کے کرپشن کیسز کو عشروں زیر سماعت رکھنے کے بجائے تیزی کے ساتھ ترجیحی سماعت کر کے مجرموں کو سخت سزائیں دے۔ چین اگرچہ سوشلزم کے راستے سے بھٹک گیا ہے جس میں کرپشن کا کوئی وجود نہ تھا لیکن چینی حکومت نے منڈی کی معیشت کی پیدا کردہ کرپشن کو روکنے کے لیے کرپشن کے مجرموں کو جن کا تعلق اعلیٰ ترین حلقوں سے تھا، سزائے موت دے کر اس ننگ انسانیت جرم کو روکنے کی کامیاب کوشش کی۔

پاکستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں اربوں روپوں کی کرپشن وہ طبقہ کر رہا ہے جو اقتدار میں ہے یا رہا ہے، اس طبقے نے اپنی کرپشن اپنے جرائم کو چھپانے کے لیے اور اس کا دفاع کرنے کے لیے آپس میں یہ اتحاد کر لیا ہے کہ وہ کرپشن کی سزاؤں سے بچنے اور اپنے اندرون اور بیرون ملک اربوں ڈالر کے اثاثوں کو بچانے کے لیے ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ کہا جاتا ہے کہ نئی متعارف کردہ ''مفاہمتی پالیسی'' کا اصل مقصد ایک دوسرے کا دفاع کرنا ہے۔

ہمارے ملک میں سابق اور موجودہ حکمران طبقات پر مالی بدعنوانی کے کیسزملکی اور غیر ملکی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور رہے ہیں، سوئس کیس بھی مشہور ہوا۔ حکمرانوںکی طاقت اور اثر و رسوخ کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ سابق چیف جسٹس نے حکومت کو اس کیس کے حوالے سے سوئس حکام کو ایک خط لکھنے کا حکم دیا اور حکومت یہ خط لکھنے سے گریزاں رہی اور اسی خط کی وجہ سے ایک وزیراعظم کی نوکری گئی، دوسرے وزیراعظم نے خط لکھنے سے بچنے کی کوشش کی اور آخر عدلیہ کے سخت دباؤ کی وجہ یہ تاریخی خط لکھ دیا گیا، لیکن پھر بھی کچھ نہ ہو سکا۔ اس پراسرار خط سے جہاں اشرافیہ کی طاقت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے وہیں عدلیہ کی بے بسی بھی سامنے آ جاتی ہے۔

کرپشن بلاشبہ سرمایہ دارانہ نظام کی شریانوں میں خون کی طرح دوڑ رہی ہے، ایک معمولی چپراسی سے لے کر اعلیٰ حلقوں تک سب اس بیماری میں مبتلا نظر آتے ہیں، لیکن قوم و ملک کو اس بیماری، کم از کم اعلیٰ سطح بیماری سے نجات اس لیے ممکن نہیں کہ قانون سے بہت زیادہ طاقت ور قانون بنانے والے اور ان کے باؤنڈری وال ہیں۔ قانون سو روپے کی رشوت لینے والے ایک سپاہی اور کلرک 25-50 ٹپ لینے والے ایک چپراسی کے خلاف تو فوراً حرکت میں آتا ہے لیکن اربوں کی کرپشن کرنے والوں کے خلاف قانون اور انصاف کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ ایک خوبرو ماڈل کرپشن کے الزام میں جیل میں بند ہے لیکن اربوں کی کرپشن کا جس اشرافیہ پر الزام ہے اس کے کیس عشروں سے زیر سماعت ہیں۔ ہمارے معاشرے میں یقیناً کوئی بلیک ہول ایسا موجود ہے جس میں اربوں کی کرپشن کے کیسز گم ہو جاتے ہیں۔ دو کھرب کی رقم اتنی بڑی ہوتی ہے کہ اس سے ہزاروں اسکول سیکڑوں کالج کھولے جا سکتے ہیں۔ دو کھرب کے بینک نادہندگان کا تعلق چونکہ ایلیٹ کلاس اور حکومت سے ہے لہٰذا یہ کیس بھی بلیک ہول میں چلا گیا ہے۔

میں جب یہ کالم لکھ رہا ہوں تو اس وقت میرے سامنے روزنامہ ایکسپریس کا ایک صفحہ کھلا ہوا ہے، جس پر ایک بڑی خبر یہ چھپی ہوئی ہے کہ 170 سرکاری ملازمین کو جب مہینوں بعد تنخواہ ملی تو فی کس دس ہزار وصول کیے اور بینک کے عملے نے مٹھائی کے نام پر ایک لاکھ ستر ہزار وصول کیے جس کی مجموعی رقم 17 لاکھ بنتی ہے۔ سینیٹ میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے بڑی مچھلیوں کو پکڑنا ضروری ہے اور بڑی مچھلیوں کی طاقت کا یہ عالم ہے کہ وہ قانون اور انصاف کے جال ہی کو دانتوں میں پکڑ کر سمندر میں گم ہو رہی ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کرپشن میں پورا معاشرہ غرق ہے لیکن پورے معاشرے کی مجموعی کرپشن سے بہت زیادہ چند ایلیٹ کے شہزادوں کی کرپشن ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ بڑی مچھلیوں کو پکڑے گا کون؟ سزا دے گا کون؟

مقبول خبریں