سلمان خان کی شہرت اور بھارتی عدالتی نظام میں کھینچاتانی

سزا کی معطلی کی خبر سے فلمسازوں کی جان میں جان آئی، جن کے کروڑوں روپے داؤ پر لگے ہیں


Qaiser Iftikhar May 12, 2015
سزا کی معطلی کی خبر سے فلمسازوں کی جان میں جان آئی، جن کے کروڑوں روپے داؤ پر لگے ہیں ۔ فوٹو : فائل

بولی وڈکے معروف اداکارسلمان خان کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں، ان کا شمار بولی وڈ کے ان ٹاپ 5 کمرشل ہیروز میں ہوتا ہے جن کی فلمیں جیسے ہی سینما کی زینت بنتی ہیں تونا صرف بھارت بلکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہندی فلمیں دیکھنے والوں کی کثیر تعداد اپنی فیملیز کے ہمراہ سینماگھروں کا رخ کرلیتی ہے۔

ایکشن، ڈانس اوررومانس سے بھرپورفلموں کی وجہ سے سلمان خان کے چاہنے والوں میں جہاں بڑی تعداد خواتین کی ہے وہیں نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی انہیں ہرلحاظ سے پہلی پوزیشن پربراجمان رکھتی ہے۔ سلمان خان کی خوبصورت جسامت کے ساتھ ساتھ ان کا ہیئرسٹائل، ڈریسنگ اورکلائی پردکھائی دینے والا بریسلٹ ان کے چاہنے والوں کی جان بن چکا ہے۔ وہ چشمہ چہرے پرلگائیں یا شرٹ کے پیچھے لٹکائیں، بس نوجوان توان کوکاپی کرنے میں ایک قدم پیچھے نہیں رہتے۔ اس کے علاوہ ان کے فلمی ڈائیلاگ بھی اس قدرمقبول ہوچکے ہیں کہ سوشل میڈیا کے علاوہ اب توروزمرہ کی زندگی میں بھی نوجوان ہی نہیں بلکہ بڑی عمرکے لوگ کاروبار کرتے ہوئے بعض اوقات سلمان کے ڈائیلاگ ( اک بار جو میں نے کمٹمنٹ کرلی تومیں خود کی بھی نہیں سنتا) ہی دھراتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس سے بولی وڈ سٹار کی مقبولیت اورشہرت کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے جبکہ ان کے فلاحی کام بھی لوگوں کوبہت متاثرکرتے ہیں۔ وہ جس طرح سے اپنی آمدنی میں سے سالانہ کروڑوں روپے مستحق افراد میں تقسیم کرنے کے علاوہ تعلیم اورصحت کے شعبوں پرخرچ کرتے ہیں، ان کاموں کی وجہ سے ان کے چاہنے والوں کی تعداد میں ہر روز اضافہ ہورہا ہے۔

دوسری جانب فلموں کے معاوضے کی بات کی جائے تواس میں بھی سلمان خان بہت سی بولی وڈ سٹارز پربازی لے گئے ہیں۔ ان کی گزشتہ چند برسوں کے دوران نمائش کیلئے پیش کی جانے والی فلموں نے سو کروڑ سے زائد کا بزنس کرکے نئے ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ اس صورتحال میں جہاں بولی وڈ کوانٹرنیشنل مارکیٹ میں خاصا سراہا جارہا ہے، وہیں بولی وڈ فلم انڈسٹری میں سلمان خان کوایک ایسا کمرشل ہیروقراردیدیا گیا ہے جوکسی بھی فلم، شویا ٹی وی کمرشل کا حصہ بن جائیں تواس کی کامیابی کے آثارنمایاں ہوجاتے ہیں۔

اب ہم بات کرتے ہیں بھارتی عدلیہ کے اُس فیصلے کی جوانہوں نے چند روز قبل سلمان خان کوشراب کے نشے میں دوران ڈرائیونگ فٹ پاتھ پرسوئے لوگوں پرگاڑی چڑھانے سے پیش آنے والے حادثے کے کیس میں سنائی گئی تھی۔ یہ فیصلہ ویسے تودوروز بعد ہی اپیل کرنے پر معطل کردیا گیا تھا لیکن پانچ سال قید کی سزاکا فیصلہ جنگل کی آگ سے بھی تیزالیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے توسط سے دنیا بھرمیں پھیل گیا۔

اس خبرکے بارے میں جانتے ہی لوگوں کی کثیرتعداد نے سلمان خان کیلئے دعائیں مانگنا شروع کردیں، بلکہ بھارتی حکومت اورعدلیہ کے فیصلے کوبھی خاصا تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کی بڑی وجہ سلمان خان کی لوگوں میں مقبولیت کے ساتھ ساتھ ان کے فلاحی کام بھی تھے جن کی وجہ سے اب وہ بھارت کی ایک ایسی شخصیت بن چکے ہیں کہ ان کوہلکی سی خراش بھی آجائے تولوگ ان کی خیریت دریافت کرنے کیلئے ان کے گھرکے باہراکھٹے ہوجاتے ہیں۔

واضح رہے کہ سلمان سے پہلے بولی وڈ میں بگ بی امیتابھ بچن کی بھی ایک جھلک دیکھنے کیلئے لوگ ممبئی کے علاقہ جوہو بیچ پرجمع ہوجاتے اورپھر امیتابھ کچھ دیر کیلئے اپنے بنگلے سے باہرآتے ہیں اورہاتھ ہلاکراپنے چاہنے والوں کی چاہت اور محبت کا جواب دیتے۔ یہی سلسلہ اب سلمان خان کے ساتھ بھی جڑچکا ہے۔ وہ ممبئی میں ہوں توایک دن اورٹائم مقرر ہوجاتا ہے جس میں سلمان خان اپنے گھرکے ٹیرس پرآتے ہیں اورپھر اپنے چاہنے والوں کی محبت کا بھرپورجواب دیتے ہیں۔

اس لئے جونہی سلمان خان کوعدالت نے پانچ سال کی سزاسنائی توبولی وڈ سے ہی نہیں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ اس فیصلہ پراپنی اپنی مثبت اورمنفی رائے کا اظہارکرنے لگے۔ بولی وڈمیں اربوں روپے کی سرمایہ کاری سے بننے والی بڑے بجٹ کی فلموں میں سلمان خان مرکزی کردارادا کررہے ہیں اوران کے جیل جانے سے اربوں روپے کا نقصان صاف دکھائی دے رہا تھا۔

ایسے میں سلمان خان نے اپنے وکلاء کی مدد سے فیصلے کے خلاف اپیل کی تواس فیصلے کو معطل کردیا گیا اورپھرسلمان خان اوران کی فیملی کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ان کے چاہنے والے کروڑوں لوگوں نے سکھ کا سانس لیا بلکہ بولی وڈ فلم انڈسٹری کے فلم میکرز کی جان میں بھی جان آئی۔

اس بات میں توکوئی دورائے نہیں ہیں کہ سلمان خان ایک بڑے مقبول فنکارہیں اوران کا شماربولی وڈ کے صف اول کے فنکاروں میں ہوتاہے۔ ان کی فلمیں کروڑوں روپے کا بزنس کرتی ہیں بلکہ بولی وڈکودنیا بھرمیں ایک منفردپہچان دلوانے والے فنکاروں کا ذکر ہوتوان میں بھی سلمان خان کا کردار بڑانمایاں ہوگا۔

مگران سب باتوں کے باوجوداگردیکھاجائے توبھارتی عدلیہ نے جوفیصلہ کیا اس سے ایک نتیجہ جوعام لوگوں کیلئے مشعل راہ بھی بن سکتا ہے کہ کوئی بھی شخص چاہے وہ جتنا بھی مقبول ہو، امیر ہو یا بااثر ہو، وہ قانون سے ماورا نہیں ہے۔ سلمان خان کی شہرت، دولت ، مقبولیت کے ساتھ ساتھ ان کا اثرورسوخ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ وہ بولی وڈ میں ''بھائی'' کے نام سے پکارے جاتے ہیں۔ کسی بھی فنکاریا عام شخص کوکوئی بھی مسئلہ پیش آجائے تووہ اس کے حل کیلئے پیش پیش ہوتے ہیں ، اسی لئے فنکاربرادری اورعام لوگ ان سے بے پناہ پیارکرتے ہیں۔

مگران سب باتوں کے باوجود گواہوں اورثبوت ملنے کے بعد عدلیہ کے فیصلے نے یہ ثابت کردیا کہ قانون سب کیلئے ایک سا ہے اورجوبھی شخص جرم کرتا ہے اس کوسزاضرورملتی ہے۔ سلمان خان سے پہلے بولی وڈ کے ہردلعزیزفنکارسنجے دت کوبھی سزاسنائی گئی توبولی وڈ سمیت مختلف شعبوں کے لوگوں نے احتجاج بھی کئے لیکن ان کا جرم ثابت ہوا اوراب وہ جیل میں اپنی سزا پوری کررہے ہیں۔ بھارتی عدالت نے یہ ایک ایسی مثال قائم کی ہے جس کوہمیں مثبت سوچ کے ساتھ تسلیم کرنا چاہئے۔ سلمان خان نے ماضی میں بہت سی غلطیاں کی ہیں اوراسی لئے ان کے خلاف مقدمات بھارتی عدالتوں میں چلائے جارہے ہیں، اس لئے انہیں اپنی غلطیوں کی سزا ملے گی۔

اگراسی طرح ہمارے ہاں بھی قوانین کی پابندی کی جائے اورانصاف کا بول بالا ہوتوحالات میں خود بخود سدھار آنے لگے گا۔ ہمارے ملک میں بھی فنکاروں کو انکم ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس سمیت دیگرایشوز پرجرمانے کئے جاتے ہیں لیکن ان کی '' سپورٹ '' بااثرشخصیات میدان میں آجاتی ہیں اورفائلوںکوغائب کردیاجاتاہے۔ اسی طرح اگرہم سٹیج ڈراموں سے فحاشی کے خاتمے کی بات کریں توفنکاروں کو فحش گوئی اورعریاں رقص پربین کیا جاتا ہے لیکن وہ اگلے ہی روز دوبارہ سے سٹیج پردندناتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں قانون اور انصاف کی بات کرنا ممکن نہیں۔

بھارتی عدلیہ نے جس طرح سے اپنے ملک کے ایک بہت ہی مقبول سپرسٹارکا جرم ثابت ہونے پرسزا سنائی ہے ، اسی طرح ہمیں بھی فنون لطیفہ ہی نہیں بلکہ زندگی کے تمام شعبوں کو درست سمت میں لے جانے کیلئے قانون پرعمل کرنا ہوگا، اگر ہمارے ہاں ایسا نہ ہو سکا توہم دنیا میں بہتری کی نہیں بلکہ عبرت کی مثال بن جائیں گے۔