یمن میں عارضی جنگ بندی

سعودی اتحادی جنگی طیاروں نے یمنی باغیوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے


Editorial May 13, 2015
سعودی عرب اور یمنی باغیوں کے درمیان پانچ روزہ جنگ بندی کا اعلان ہوا ہے، فوٹو: اے ایف پی/ فائل

یمن میں خانہ جنگی بدستور جاری ہے' مختلف شہروں اور قصبوں میں حوثی باغیوں اور معزول صدر ہادی منصور کے حامیوں کے درمیان لڑائی کی خبریں عالمی میڈیا پر آ رہی ہیں' گزشتہ روز سعودی عرب کے سرحدی شہر نجران پر حوثی باغیوں نے میزائل سے حملے کیے۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اس میزائل حملے میں تین افراد جاں بحق ہوئے جن میں ایک پاکستانی شہری بھی شامل ہے۔

ادھر پیر کو سعودی اتحادی جنگی طیاروں نے یمنی باغیوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں' اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالات خاصے خراب ہیں تاہم اس سارے منظرنامے میں ایک پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ سعودی عرب اور یمنی باغیوں کے درمیان پانچ روزہ جنگ بندی کا اعلان ہوا ہے' اس پر منگل سے عملدرآمد ہو گا۔ اس جنگ بندی کا مقصد یمنی عوام کو امدادی اشیاء کی فراہمی ممکن بنانا ہے۔ حوثی باغیوں کا کہنا ہے کہ وہ سعودی جنگ بندی کے اعلان کا مثبت جواب دیں گے۔ یہ ایک اچھی پیشرفت ہے۔ یہ پانچ روزہ جنگ بندی گو ایک عارضی اقدام ہے لیکن اس کا جنگ سے تباہ حال شہریوں کو فائدہ پہنچے گا۔

اس ساری لڑائی کا درد ناک پہلو یہ ہے کہ اس سے عام شہری بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ہزاروں شہری اپنے گھر بار چھوڑ کر محفوظ علاقوں کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں' جو لوگ شہروں میں موجود ہیں' وہ ایک طرح سے گھروں میں قید ہیں کیونکہ مسلسل فضائی حملوں اور حوثیوں اور سرکاری فوجوں کے درمیان لڑائی کے باعث عام آدمی کے لیے گھروں سے نکلنا ممکن نہیں ہے۔ بازار اور شاپنگ مالز بند ہیں اور لوگوں کو کھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ اسپتالوں میں علاج معالجے کے معاملات بھی خاصے ڈسٹرب ہوئے ہیں' اب پانچ روزہ جنگ بندی سے تجارتی اور کاروباری مراکز کسی حد تک کھل جائیں گے اور عوام اپنی روز مرہ ضرورت کی اشیاء خرید سکیں گے۔

بہر حال ہونا تو یہ چاہیے کہ اس پانچ روزہ جنگ بندی سے سفارتی سطح پر بھرپور فائدہ اٹھایا جائے اور اس جنگ بندی کو مستقل کرنے کی کوئی راہ نکالی جائے۔ اس کے بعد فریقین کے درمیان مثبت اور باعمل مذاکرات کا راستہ نکالا جائے تاکہ اس بحران کا کوئی حل سامنے آ سکے۔ اس معاملے میں اس خطے میں پراکسی جنگ لڑنے والے ممالک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس بحران کو پیدا ہوئے خاصے دن ہو چکے ہیں' پاکستان اور ترکی نے معاملات کو بہتر بنانے کی کوششیں کی ہیں لیکن جنگ کے فریق کسی حل پر متفق ہوتے نظر نہیں آ رہے ہیں' ایران کھل کر یمنی باغیوں کی مدد کر رہا ہے جب کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی یمن پر حملے کر رہے ہیں۔

یوں دیکھا جائے تو یہ جھگڑا مسلم ممالک خصوصاً مشرق وسطیٰ کے ممالک کے درمیان ہے اور وہ اس میں دیگر مسلم ممالک کو بھی گھسیٹنے کی کوشش کر رہے ہیں' امریکا' مغربی یورپ' روس اور چین بھی کوئی عملی قدم نہیں اٹھا رہے ہیںکیونکہ اس معاملے میں ان کے مفادات زیادہ متاثر نہیں ہورہے' مسلم ممالک اور عالمی برادری کے اس کی وجہ سے حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں' حالات کی نزاکت کا تقاضا ہے کہ سعودی عرب اور ایران اپنے باہمی رابطے بحال کریں اور یمن میں حالات کو نارمل بنانے کے لیے اقدامات کریں' یہ بحران جتنا زیادہ طویل ہوتا جائے گا' مشرق وسطیٰ اتنا ہی زیادہ تباہی کا شکار ہو جائے گا۔