سینیٹ امریکاکیساتھ دہری شہریت کامعاہدہ منسوخ کرنیکامطالبہ

معاہدہ خودمختاری کیخلاف ہے،امریکا دشمنوںکیخلاف ہتھیاربھی اٹھانے کاحلف ہے،ربانی


Online/Numainda Express October 12, 2012
معاہدہ خودمختاری کیخلاف ہے،امریکا دشمنوںکیخلاف ہتھیاربھی اٹھانے کاحلف ہے،ربانی ۔ فوٹو فائل

سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے اراکین نے امریکاکے ساتھ دہری شہریت کے معاہدے کومنسوخ کرنے کامطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ایک شخص بیک وقت دو آئین کے ساتھ وفاداری کیسے نبھاسکتاہے۔

امریکی حلف نامے میں واضح ہے کہ شہریت حاصل کرنے والا امریکاکیلیے ہتھیار بھی اٹھائے گا۔آن لائن کے مطابق وقفہ سوالات کے دوران پیپلز پارٹی کی سیدہ صغری امام کے سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ پاکستان16ملکوں کے ساتھ دہری شہریت کے معاہدے رکھتا ہے تاہم سب سے جدید معاہدہ 29اگست 2002میں امریکاکے ساتھ کیا گیا۔

اس پر ضمنی سوال کرتے ہوئے صغری امام نے کہاکہ امریکاکے ساتھ معاہدہ مشرف دور میںکیاگیا تاہم جوبھی شخص امریکی شہریت کا خواہشمند ہوگااسے امریکی قوانین کے مطابق حلف نامے پر دستخط کرنا ہوں گے جس میں یہ واضح ہے کہ وہ دیگرتمام شہریتوںسے سبکدوش ہو گا اور وہ امریکی حکومت کی خاطر امریکادشمنوں کے خلاف ہتھیار بھی اٹھائے گا،انہوں نے وزیر مملکت برائے داخلہ امتیاز صفدر سے دریافت کیاکہ کیا آئین اورقانون کی روشنی میں پاکستانی حکومت کوامریکاکے ساتھ دہری شہریت کے معاہدے کوجاری رکھنا چاہیے اس پر وزیر مملکت جواب دینے سے گریز کرنے لگے۔

بعدازاں رضا ربانی نے بھی اس معاملے پر شدیدتشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اس امریکی معاہدے کومدنظررکھتے ہوئے پاکستان کو امریکاکے ساتھ دہری شہریت معاہدہ منسوخ کرناچاہیے۔ایک سوال پر وزیر ریلویز غلام بلور نے کہاکہ ابھی بھی دفاعی اورسرکاری اداروں کے زیر قبضہ ریلویزکی زمینیںہیںجنہیں واگزار کرانے کیلیے ان سے مذاکرات ہورہے ہیں،انھوں نے بتایا کہ گزشتہ دس برس میں 10لاکھ ایکڑ سے زائد اراضی لیز پر دی گئی ۔

انہوں نے مزیدکہاکہ مارچ 2008 سے اب تک مالی وانتظامی بدانتظامی کے 26 مقدمات کا سراغ لگایا گیا ہے جن کے خلاف تحقیقات ہورہی ہیں۔این این آئی کے مطابق وفاقی وزیرداخلہ رحمان ملک نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ پیرکورجسٹرارسپریم کورٹ کے خط پرہونیوالی کارروائی کی رپورٹ ایوان میں پیش کرونگا،ڈپٹی چیئرمین صابربلوچ نے رولنگ دی کہ رجسٹرار سپریم کورٹ نے جوخط لکھا ہے اسے ایوان میں پیش کیاجائے،رجسٹرارکاحکم سپریم کورٹ کا حکم نہیں۔آئی این پی کے مطابق زاہد خان نے نقطہ اعتراض پرکہاکہ جہانگیر بدر کیخلاف ایف آئی اے کی جانب سے انکوائری کی جارہی ہے جو کہ پارلیمنٹ کی توہین ہے۔

اعلیٰ عدلیہ کی توہین کیخلاف تو ہائیکورٹ نے فیصلہ دیدیا مگر دوسرے اداروںکے احترام کو بھی مدنظررکھا جائے ۔ اس پر وزیر داخلہ نے کہاکہ ایف آئی اے اہلکاروں نے پنجاب ہائوس جا کر قائد ایوان کوہراساں کرنیکی کوشش نہیں کی،ایک سپیشل کمیٹی بنائی جائے جو دیکھے کہ وہ لوگ کون تھے اورکس ادارے سے تعلق رکھتے تھے۔علاوہ ازیں وقفہ سوالات کے دوران وزراء کی عدم موجودگی پر رضاربانی نے کہاکہ چیئرمین سینٹ وزیر اعظم کو خط لکھیں جس میںان سے درخواست کی جائے کہ جب ایوان کا اجلاس ہورہا ہو تو اس روز کابینہ کی ہفتہ وار مٹینگ سمیت دیگرمیٹنگرکاانعقاد نہ کریںتاکہ ایوان میں وزراء کی حاضری ممکن ہوسکے۔

مقبول خبریں