مارکیٹنگ کا زمانہ
بے چارے سوگواران جب تک باقاعدہ تصاویر کے ذریعے اپنی سوگواری نہ دکھائیں سوگواری ہوتی ہی نہیں
سرکاری محکموں اورنجی اداروںنے یہ بڑا اچھا انتظام کیا ہوا ہے کہ اپنی کارکردگی اخبارات میں دکھانے لگے ہیں کیونکہ وہ جان گئے ہیں کہ یہ ''مشک'' کا زمانہ نہیں جو خود ''ببوئد'' کرتا تھا بلکہ یہ عطار کا زمانہ ہے جب تک ''مشک'' کے بارے میں باقاعدہ تقریر نہیں کرتا کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ ''مشک'' کس چڑیا کا نام ہے، یعنی جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا اس لیے ہر محکمے اور کمپنی کا ''مور'' تشہیری مہم میں اپنی دم پھیلا پھیلا کر ناچتا ہوا نظر آتا ہے، دراصل یہ دور ہی مارکیٹنگ کا ہے ،کسی مردے کے ایصال ثواب کے لیے بھی مارکیٹنگ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔
بے چارے سوگواران جب تک باقاعدہ تصاویر کے ذریعے اپنی سوگواری نہ دکھائیں سوگواری ہوتی ہی نہیں ہے اور تو اور بقول چشم گل چشم عرف قہر خداوندی، علامہ بریانی عرف برڈ فلو مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کو بھی اشتہاری مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں بلکہ نماز بھی لاؤڈ اسپیکر ہی میں پڑھاتے ہیں کیوں کہ ڈیڑھ صف مقتدیوں کو آواز پہنچانا مقصود ہوتا ہے۔
ویسے بھی علامہ کا نظریہ ہے کہ نیکی کا جتنا زیادہ پرچار کیا جا سکے اتنا ہی اچھا ہے تاکہ دوسروں کو بھی ترغیب ہو، چنانچہ ان دنوں دوسروں کے دیکھا دیکھی ایک اور ادارے محکمہ جانوران و مویشیان نے بھی اپنے پیر اونچے کیے ہوئے ہیں، نعلیں لگوانے کے لیے ۔۔۔ بلکہ دوسرے محکموں سے زیادہ ہی اپنے کارناموں کی تشہیر کر رہا ہے۔ مثلاً اتنے لاکھ جانوروں کو ٹیکے لگائے گئے، اب بے چارے جانور اخبار تو پڑھتے نہیں کہ وہ اس کی تصدیق یا تردید کر سکیں اور اگر بعض ''جانور'' پڑھے لکھے بھی ہوں تو کون پتہ کرے گا کہ کتنے جانوروں کو کتنے ٹیکے کس کس بیماری کے لگائے گئے ،کب لگائے گئے اور کہاں لگائے گئے، عام طور پر اس قسم کے اعداد و شمار جمع کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ جیسے شجر کاری کے موسم میں پودے فروخت کرنے والوں سے رجوع کیا جائے۔
ٹیکوں کے لیے دوا فروشوں کی خدمات حاصل کی جائیں اور بیماریوں کے علاج کے لیے ویٹرنری عملے کے دیے ہوئے ہندسے جمع کیے جائیں جو ویسے تو عام طور پر اسپتالوں میں کبھی دستیاب نہیں ہوتے لیکن اعداد و شمار مرتب کرنے کے لیے ''وقت'' نکال لیتے ہیں، ابھی تازہ اطلاع ہے' پتہ نہیں کس کو بتانے اور ''بنانے'' کے لیے، اس میں ساڑھے تیرہ لاکھ جانوروں کو بیماری سے بچاؤ کے ٹیکے لگائے گئے ہیں۔
تقریباً پانچ لاکھ جانوروں کی ڈی وارمنگ اور علاج، 48 ہزار مویشیوں کی مصنوعی افزائش نسل 55 ویٹرنری انسٹی ٹیوٹ کی بحالی 150 نئے ویٹرنری سینٹر اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے 260 لائیو اسٹاک فارمز کا انتخاب اگر واقعی میرے صوبے خیر پے خیر عرف خیبرپختونخوا میں اتنے جانور موجود ہیں تو پھر تو وارے بھی اور نیارے بھی، ایک بڑا پرانا قصہ یاد آیا، رمضان کے مہینے میں سحری کے بعد لوگ حکا پینے کے لیے ڈیرے میں آتے تو ہر ایک اپنی ''سحری'' کے لوازمات بھی بیان کرتا، ایک شخص نے کہا، لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں بھوک اور پیاس لگتی ہے۔
اس لیے لگتی ہے کہ وہ سحری میں کچھ کھاتے نہیں، اب مجھے دیکھو اصلی گھی کے پانچ پراٹھے ایک پاؤ ملائی کے ساتھ کھاتا ہوں، شام تک مجال ہے جو بھوک یا پیاس ستائے، ایک دور کے کونے میں اس کا چھوٹا بھائی بیٹھا تھا۔ وہ کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ توبہ کرنے لگا۔ پوچھا کیوں بھئی۔ بولا آدمی اتنا جھوٹ بولے کہ کم از کم ایک ریل گاڑی تو اسے لے جا سکے، ابھی ابھی ہم نے اکٹھے ہی بینگن کھائے ہیں، دراصل جس طرح اس بھائی کو اپنے بھائی کا پتہ تھا ویسا ہی ہمیں بھی اپنے بڑے بھائیوں یعنی محکموں کا اچھی طرح پتہ ہے جن کا سب کچھ سکڑ رہا ہے۔
علاج معالجہ تو دور کی بات کسی اہل کار کو ڈھونڈنا اور دیدار سے مشرف ہونا بھی جنرل مشرف سے ملنے کے برابر ہے ہاں البتہ اپنے کلینکوں اور دکانوں میں 25 گھنٹے دستیاب ہوتے ہیں بلکہ اگر کبھی کوئی خوش قسمت کسی سرکاری ڈاکٹر یا کمپاؤنڈر کو پکڑنے میں کامیاب بھی ہو جاتا ہے تو یہی خوش قسمتی ہی اس کی بدقسمتی ثابت ہوتی ہے کیوں کہ سرکاری علاج یافتہ مریض ایک سو ایک فی صد مرے گا البتہ اگر اس شخص کو اس کے کلینک سے پرائیویٹ طور پر لے جایا گیا ہو تو شاید وہ مرا ہوا جانور بھی دوبارہ جی اٹھے کیوں کہ ان کے ہاتھوں کی شفا صرف اس کے کلینک میں دستیاب ہوتی ہے، سرکاری اسپتال کے اسٹاک میں صرف موت کا آئٹم ملتا ہے رہے ٹیکے تو
ٹیکوں کو رہنے دو
ٹیکے نہ بتاؤ
ٹیکہ جو مل گیا
تو بھید کھل جائے گا
یقیناً اتنے ٹیکے لگے ہوں گے لیکن وایا لائیو اسٹاک یا ویٹرنری اسپتال نہیں بلکہ وایا پرائیویٹ دکانوں اور کلینکوں کے اور یہ 48 ہزار مویشیوں کی نسل کشی اور افزائش کہاں اور کیسے ہوئی کوئی مجھے بھی بتا دے۔ یہ غالباً ابھی تک صرف خیالوں میں ہیں یا کاغذات اور اگر ہیں بھی تو پھر وہاں ہوں گے جہاں سے کسی کی کوئی بھی ''خبر'' نہیں آتی، کافی سال پہلے ایک نہایت ہی خوش گلو، خوش بیاں اور خوش بیان شخص نے بسوں میں کسی مسجد کی تعمیر کا سلسلہ شروع کیا، وہ بس میں چڑھتا ایک چھوٹا سا ٹین کا صندوقچہ کھڑکاتا اور پھر ''مسلمانوں'' کو مسجد کی تعمیر میں کار ثواب کا حصے دار بنانے کے لیے تقریر دل پذیر شروع کرتا، نوشہرہ اور پشاور کے درمیان تقریباً ہر بس میں روزانہ وہ یہ کار ثواب کرتا، پوچھنے پر وہ ایک مقام کا نام لیتا کہ یہ مسجد اور اس کے ساتھ مدرسہ فلاں مقام پر تعمیر ہو رہا ہے۔
لگ بھگ آٹھ دس سال تک اس نے یہ نیک کام کیا ایک دن یونہی ہمارا اس مقام پر جانا ہوا ایک دوست سے ملاقات ہوئی تو اس مشہور و معروف زیر تعمیر مدرسے اور مسجد کے بارے میں پوچھا، یہ کہاں تعمیر ہو رہے ہیں ذرا ہم بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ ایک خدا کے بندے نے اپنی پوری زندگی اس کار خیر کے لیے وقف کی ہوئی ہے، وہ ہنس پڑا بولا ۔۔۔ اچھا وہ ۔۔۔ وہ مسجد اور وہ مدرسہ دراصل اپنے ساتھ لیے پھرتا ہے ورنہ میں دکھا دیتا مزید تفصیل چاہی تو وہ مدرسہ اور مسجد دونوں اس کے پیٹ کے اندر تعمیر ہو رہے ہیں اور ابھی نہ جانے کتنا عرصہ اور زیر تعمیر رہیں گے۔
جن جانوروں کو ٹیکے لگائے گئے ہیں، علاج کیا گیا ہے وہ پائے کہاں جاتے ہیں اور آیا اتنے مویشی اس پورے صوبے میں موجود بھی ہیں یا صرف ایک دن کے لیے آئے تھے اور پھر کہیں چلے گئے، ویسے ہمارا مشورہ ہے کہ اتنا جھوٹ بولو جو ہضم تو ہو اور یا اس کے ساتھ کوئی چورن وغیرہ بھی دیا کریں کیوں کہ عام حالات میں تو کسی کا نظام ہاضمہ اتنا مضبوط نہیں ہوتا جو اتنے اسپتالوں، سینٹروں ،انسٹی ٹیوٹوں اور مویشیوں کو ہضم کر سکے۔