دہشت گردی میں ’’را‘‘ کا مذموم کردار
بھارت کو پاکستان دنیا کے ہر فورم سے دہشت گردی کے خاتمے اور پاکستان میں را کو مداخلت سے باز رکھنے کو کہتا رہا ہے
پاکستان کی امن پسندی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، امن سب کی مشترکہ ضرورت ہے،فوٹو : فائل
KARACHI:
پاکستانی حکام نے بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کی جانب سے پاکستان میں ہونے والے دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں ملوث شدت پسندوں کی معاونت کے ثبوت امریکا کے حوالے کردیے۔ سفارتی ذرایع کے مطابق پاکستانی حکام نے پیرکو امریکی خصوصی نمایندہ برائے افغانستان وپاکستان ڈینیئل فیلڈمین کو پاکستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں را کے ملوث ہونے کے بارے میں آگاہ کیا، امریکی نمایندے نے بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اورمشیرامورخارجہ سرتاج عزیزسے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے دوران پاکستان کی امریکی نمایندے سے ملاقات اور انھیں بھارتی خفیہ ایجنسی را کی کارستانیوں سے آگاہ کرنے کے لیے شواہد کے ساتھ گفتگو ایک اہم پیش رفت ہے، امریکا خود بھی افغانستان میں بدنام زمانہ را کی تخریب کارانہ سرگرمیوں سے اچھی طرح واقف ہے جب کہ پاکستان کو داخلی عدم استحکام سے دوچار کرنے کی جن ریشہ دوانیوں میں را مصروف ہے اس کی تفصیل فیلڈمین کے لیے یاد دہانی کے مترادف ہے۔
پورے بھارتی میڈیا کا جائزہ لے لیں تو متعدد تجزیوں ، تبصروں ، انٹرویوز اور شایع ہونے والی کتابوں میں پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے را کی خفیہ یا پراکسی جنگ ''کوورٹ وار'' کا تذکرہ شد و مد سے ملتا ہے اور امریکی تجزیہ کارکرسٹین فیئر کی کتاب ''فائیٹنگ ٹو دی اینڈ'' میں پوری باریک بینی سے بھارتی را ایجنسی کی منصوبہ بندیوں کا حوالہ دیا گیا ہے، مصنفہ کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام نے انھیں بتایا کہ بلوچستان کی شورش میں ہم خوب پیسہ بہا رہے ہیں، کرسٹین نے لفظ ''پمپنگ'' استعمال کیا ہے، وہ قندھار، مزارشریف اور جلال آباد کی بھارتی قونصلیٹوں میں را کے اثر ونفوذ اور وہاں سے پاک بھارت تعلقات میں رخنہ اندازی اور مداخلت کاری کی اسٹرٹیجی ، شمالی اتحاد سے رابطہ ،اور ایران سے روابط کی جو کہانیاں سناتی ہیں وہ حیران کن نہیں۔
بھارت کو پاکستان دنیا کے ہر فورم سے دہشت گردی کے خاتمے اور پاکستان میں را کو مداخلت سے باز رکھنے کو کہتا رہا ہے تاہم بھارت پاکستان میں دہشت گردوں کی حمایت کرنے ، انھیں درپردہ فنڈز کی فراہمی اور سندھ اور بلوچستان میں امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے والی پاکستان دشمن قوتوں کے ساتھ ساز باز میں ملوث ہے جس کے بارے میں پاکستان نے احتجاج کیا اورایک اعلامیہ میں واضح کیا کہ دہشت گردی میں را ملوث ہے اور افغانستان اپنی سر زمین اسے استعمال نہ کرنے دے، گزشتہ دنوں وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے افغانستان کا دورہ کیا اور افغان صدر اشرف غنی سے پاک افغان تعلقات میں مزید استحکام اور خطے میں دہشت گردی کے خاتمہ میں مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق رائے کیا۔
سفارتی ذرایع کا کہنا ہے کہ بھارت کو پاکستان میں را کی مذموم سرگرمیوں کے بارے میں مہیا کردہ ٹھوس شواہد کے مطابق را طالبان کے انتہاپسندوں سے ملی بھگت کرکے پاکستان میں دہشت گردی کی خفیہ کارروائیوں میں سہولت کار کا رول ادا کر رہی ہے۔ اس تناظر میں امریکی نمایندہ کو صورتحال سے مکمل آگاہ کرنا بے حد ضروری ہے۔
چنانچہ آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کے ساتھ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سلامتی کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا، امریکی نمایندے نے علاقائی امن وسلامتی کے لیے پاکستانی سیکیورٹی فورسزکی کوششوں کوسراہا، دفترخارجہ کے بیان کے مطابق سینئرامریکی اہلکارکی سرتاج عزیزکیساتھ ملاقات میں پاک امریکا تعلقات اورعلاقائی سلامتی کی صورتحال پربات چیت ہوئی، پاکستانی حکام نے بھارت کی پاکستان مخالف کارروائیوں پرگہری تشویش ظاہرکرتے ہوئے خبردارکیا کہ اس سے علاقے میں کشیدگی کے خاتمے اوردیرپا امن کے لیے کوششوں پر منفی اثرات مرتب ہونگے۔
سرتاج عزیز نے امریکی نمایندے کو پاکستان کی جانب سے افغانستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوششوں پر بھی اعتماد میں لیا اور پاکستان اور بھارت تعلقات کی موجودہ نوعیت کے بارے میں بھی بتایا ۔ادھر وفاقی وزیرخزانہ اسحق ڈارسے بھی امریکی خصوصی نمایندہ برائے افغانستان و پاکستان ڈینیل فیلڈمین نے اسلام آباد میں ملاقات کی، ڈینیل فیلڈمین نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ساتویں جائزہ کی کامیابی پر وزیرخزانہ کو مبارکباد دی اورکہا کہ یہ معیشت کے استحکام کے لیے پاکستان کی کامیابیوں کا عکاس ہے، وزیر خزانہ نے آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے امریکا کے خصوصی نمایندے کوآگاہ کرتے ہوئے بتایاکہ تمام دہشت گردوں کے خلاف بغیرکسی تفریق کے کارروائی کی جا رہی ہے ۔
حقیقت میں امریکا کو یہ یاد دلانا لازم ہے کہ دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے بنائے گئے قومی ایکشن پلان کے تحت ملک بھر سے 30 ہزار کے قریب مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ،ان میں 140 افراد ایسے بھی ہیں جو دشمن خفیہ ایجنسیوں کی معاونت کررہے تھے، ان جاسوسوں کو بلوچستان،کراچی ،اور قبائلی علاقے سے حراست میں لیا گیا ۔ گزشتہ روز سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ نے سندھ اسمبلی سے اپنے خطاب میں انکشاف کیا کہ سانحہ صفورا میں 4ملزمان پکڑے گئے جنھوں نے اعتراف بھی کرلیا ہے۔
ان کی گرفتاری پر وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف زرداری نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شاباش دی ہے اور پولیس افسران کو انعام اور تعریفی اسناد دینے کی ہدایت کی ہے۔ یہ دہشت گردی کے نیٹ ورک کو تہس نہس کرنے کی جانب ایک بڑی پیش قدمی ہے۔ ملزمان کا تعلق القاعدہ سے بتایا جاتا ہے ،جب کہ ان کے دیگر ماسٹر مائنڈ کو 3 ساتھیوں سمیت گرفتار کرلیا گیا ہے جنھیں مزید تحقیقات کے لیے کاؤنٹر ٹیرر ازم ڈپارٹمنٹ سول لائن کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔
پاکستان کی امن پسندی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں، امن سب کی مشترکہ ضرورت ہے، خطے میں اصل مسائل کشمیر سمیت دیگر دیرینہ تنازعات کا بات چیت کے ذریعے حل نکالنا ہے، غربت، پسماندگی ،دہشت گردی ، فرقہ وارانہ شدت پسندی کا خاتمہ اور پڑوسیوں کے مابین تعلقات میں بہتری کی مخلصانہ کوششیں ان سرگرمیوں کے مقابلے میں ہیچ اور قابل مذمت ہیں جن کا مقصد خطے میں دہشت گردی کی درپردہ حمایت ہو اور امن دشمنوں پر پیسوں کی بارش برسائی جائے۔
بھارت کی طرف سے پاکستان دشمنی میں را کو فرنٹ لائن پر رکھنے، اور پراکسی وار و خفیہ ایجنسیوں کی کارستانیوں کی شکل میں بلوچستان ، پختونخوا ، پنجاب اور سندھ میں مداخلت کارانہ سرگرمیوں میں ملوث کرنا نہ صرف پاکستان کی خود مختاری ،داخلی سلامتی اور اندرونی معاملات میں مداخلت اور شرارت انگیزی ہے بلکہ اس سے ان تجزیہ کاروں کے اندازے درست ثابت ہوجاتے ہیں اور پاکستان کی طرف سے دیے گئے شواہد اس پر صاد کرتے ہیں کہ پاکستان میں بھارتی مداخلت کوئی راز نہیں بلکہ را کو ایک خود مختار امن پسند پڑوسی ملک میں بدامنی کے لیے دامے درمے قدمے سخنے ہر قسم کی خفیہ سازش کی کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ پاکستان کا انتباہ بھارت کے لیے بر وقت ہے ، مودی سرکار کو کسی غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔