ملازمتوں تبادلوں اور ترقیوں کے نرخنامے
حکومت نے زرکثیر صرف کر کے ’’خصوصی اجرتی‘‘ مقرر کر رکھے ہیں جیسے اوگرا، بوگرا، نیپرا، شیپرا، پیمرا، ڈیمرا وغیرہ
یہ جو حضرت انسان ہے، یہ کسی بھی حال میں خوش نہیں رہتا اور وہ انسان جو پاکستان میں رہتے ہیں ''کالانعام'' تخلص کرتے ہیں اور عوام کہلاتے ہیں حالانکہ ان کا جدی پشتی اور خاندانی نام ''ووٹ'' اور تخلص ''ہندسہ'' ہے، بقول رحمٰن بابا، یہ کبھی خوش نہیں رہتے ہیں،
کلہ پہ نمر سوزی کلہ ریگدی پہ ساڑہ
کلہ مری د لوگے کلہ مری پہ ڈیر خواڑہ
ترجمہ: کبھی تو گرمی سے ہانپتے ہیں اور کبھی سردی سے کانپتے ہیں۔ کبھی بھوک سے پیٹ پکڑے رہتے ہیں اور کبھی زیادہ کھانے سے روتے ہیں۔کبھی ہاتھ اٹھا اٹھا کر بارش مانگتے ہیں اور کبھی بارش رکنے کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔کبھی بے اولادی کو لے کر دکھی ہوتے ہیں تو کبھی اولاد کے ہاتھوں نالاں رہتے ہیں۔ قسمت بھی ایسی پائی ہے کہ
مقدر میں جو سختی تھی وہ مر کر بھی نہیں نکلی
قبر کھودی گئی میری تو پتھریلی زمیں
نکلی
چنانچہ منہ میں جھاگ بھر بھر کر گلے کی رگیں پھلا پھلا کر اور نعرے لگا لگا کر کسی حکومت کو مانگتے ہیں لیکن چند ہی روز بعد اس حکومت کے خلاف جلسے جلوس نکالتے ہیں، خوش کسی حال میں بھی نہیں رہتے، اب دیکھئے نا ہمیشہ یہ گلہ کرتے ہیں کہ بازار میں دکاندار لوگ نرخ نامے نہیں لگاتے اور اپنی مرضی جو چاہیں وصول کر لیتے ہیں لیکن جب حکومت اپنے وزیروں باتدبیروں اور مشیروں باضمیروں کے ذریعے نرخ نامے مقرر کرتی ہے، تب بھی آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں، بجلی، گیس اور پٹرولیم کے نرخ دیکھئے کتنے تسلسل اور ترتیب کے ساتھ مقرر کیے جاتے ہیں، اس غرض کے لیے حکومت نے زرکثیر صرف کر کے ''خصوصی اجرتی'' مقرر کر رکھے ہیں جیسے اوگرا، بوگرا، نیپرا، شیپرا، پیمرا، ڈیمرا وغیرہ، یہ سب بڑی باقاعدگی سے عوام کے لیے نئے نئے بالترتیب اور ہندسوں، اعشاریوں سے مزّین نرخ نامے جاری کرتے ہیں لیکن پھر بھی لوگوں کی جاں اور چیخ دونوں نکل جاتی ہیں،
جاں کیوں نکلنے لگتی ہے تن سے دم سماع
گر وہ ''صدا'' سمائی ہے چنگ و رباب میں
لیکن آج ہمارا موضوع بحث یہ نرخ نامے نہیں ہیں بلکہ وہ نرخ نامے ہیں جو عوام کے پر زور اصرار پر، پبلک کی ڈیمانڈ پر اور ملک و قوم کی بہبود کے لیے مقرر کیے گئے ہیں، یہ نرخنامے ان ملازمتوں، تبادلوں اور ترقیوں کے ہیں جو ہر محکمے ہر ادارے اور ہر وزیر و شہیر کے دفتر میں کسی سے بھی دستیاب ہو جاتے ہیں، باقاعدہ دروازوں پر بھی چسپاں کر دیے گئے لیکن ان کو کسی ایسی سیاہی سے لکھا گیا ہے جو صرف متعلقہ لوگوں کو نظر آتی ہے، اس سے پہلے ملازمتوں کا معاملہ بڑا بے ڈھب تھا، کوئی بھی ایرا غیرا نتھو خیرا پڑھ پڑھا کر اور ''میرٹ'' کو گلے میں لٹکا کر ملازمت حاصل کر لیتا تھا ''اہلیت اور قابلیت'' کے غلط راستوں سے ''غلط'' لوگ ملازمتوں میں آ جاتے تھے، لیکن ملاؤں کی حکومت نے اﷲ کا نام لے کر ابتداء کی اور بعد کی نازل ہونے والی ''عوامی'' حکومتوں نے انتہائی محنت سے اس نظام کو باقاعدہ نرخ ناموں کے ساتھ بالترتیب بنا ڈالا، اب کسی کو اگر ملازمت کی ضرورت ہوتی ہے تو ادھر ادھر درخواستیں دے دے کر سڑکیں ناپ ناپ کر اور ڈگریاں وغیرہ لے لے کر خوار ہونے کی بالکل ضرورت نہیں ہوتی، بڑی آسانی سے کسی وزیر مشیر کے چمچے سے رجوع کر کے ''نرخ نامہ'' حاصل کیا جاتا ہے، متعلقہ ملازمت کے نرخ پر ٹک مار کر کے کہیں سے ''نقد'' کا بندوبست کرنا پڑتا ہے، پھر ملازمت جیب میں سمجھئے اور اس قسم کے چمچے گلی گلی میں بڑی آسانی سے دستیاب ہیں
دل کے آئینے میں ہے تصویر یار
جب ذرا گردن جھکائی دیکھ لی
ٹھیک یہی حال تبادلوں کا ہے، وہ اہمیت یا کسی پوسٹ پر مخصوص مدت گزارنے یا روٹین کے تھرو پراپر چینل تبادلوں کا زمانہ گزر گیا، اب سیدھے سادے نرخ نامے میں کوئی پوسٹ تاکیے، نرخ نامہ پڑھئے ''خرچ'' اور آمدن کا حساب لگایئے اور متعلقہ وزیر یا ایجنٹ سے رجوع کیجیے اور اپنی پسند کا تبادلہ کرا لیجیے، وہ جگہ پسند نہیں آئی تو نرخ نامے کے مطابق پھر پیسے جمع کیجیے اور گوہر مراد پایئے، مطلب یہ کہ اب پسند کی پوسٹ جمشید کا ''جام جم'' نہیں بلکہ غالب کا جام سفال ہو گیا ہے
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ساغر جم سے میرا جام سفال اچھا ہے
اور یہ سب نرخ ناموں اور ان نرخ ناموں کے اپ ٹو ڈیٹ رکھنے کی برکت ہے، یہی کلیہ اور اصول ترقیوں کا بھی ہے جس طرح اکثر اخباروں میں لکھا ہوتا ہے کہ ''پہلے آیئے پہلے پایئے'' ٹھیک اسی طرح ملازمتوں، تبادلوں اور ترقیوں کا ماٹو یہ ہے کہ زیادہ لایئے زیادہ پایئے، یا اچھا لایئے اچھا پایئے، ہم نے بڑی کھوج لگائی کہ ان نرخ ناموں تک ہماری رسائی ہو جائے لیکن جیسا کہ ہم نے کہا یہ کسی ایسی روشنائی سے لکھے جاتے ہیں جو غیر متعلقہ لوگوں کو نظر نہیں آتی صرف ''فریقین'' ہی اس سے استفادہ کر سکتے ہیں، اصل میں ان نرخ ناموں کو پڑھنے کی سعادت صرف وہ لوگ حاصل کر سکتے ہیں جن کے بدن میں ابھی لہو باقی ہے
ابھی تو بدن میں لہو ہے بہت
قلم چھین لے روشنائی نہ دے
پھر اتنا پتہ چلا ہے کہ ان نرخ ناموں کا ایک عمومی اصول یہ ہوتا ہے کہ فیس داخلہ کو آمدن یا متوقع آمدن کے تابع رکھا جاتا ہے یعنی کس ملازمت یا پوسٹ میں کتنی ''کمائی'' ہے، اس کا اندازہ کر کے اس کمائی کو متعلقہ لوگوں پر تقسیم کر دیا جاتا ہے، طریقہ کار بڑا سادہ ہے کیوں کہ ہر کسی کی آمدنی ہر کسی کو معلوم ہوتی ہے مثلاً کسٹم، پولیس، تعمیرات وغیرہ کے محکموں میں ملازمتوں اور تبادلوں کی آمدنی تو سب کو معلوم ہوتی ہی ہے۔ کچھ لوگ اس کا ذکر ''نیلامی'' کے نام سے بھی کرتے ہیں یعنی کہا جاتا ہے کہ ''کرسیاں'' باقاعدہ نیلام ہوتی ہیں جو زیادہ بولی دیتا ہے، اسی کی ہو جاتی ہیں، لیکن ایسا ان پوسٹوں اور کرسیوں پر ہوتا ہے جن کی آمدنی مقرر ہے جیسے کسٹم، ایکسائز ڈیوٹی، تعلیمات وغیرہ، لیکن بہت ساری پوسٹوں اور کرسیوں کا پورا حساب کتاب معلوم نہیں ہوتا ہے چنانچہ ان پر ''لم سم'' کا طریقہ رائج ہے لم سم دے دیجیے تقرری کروا لیجیے پوسٹ حاصل کر لیجیے تبادلہ کروا لیجیے اور پھر آگے آپ جانئے اور کمائی
سپردم بتو مایہ خویش را
تو دانی حسابِ کم و بیش را
حالانکہ یہ بڑا اچھا نظام ہے جو الاماشاء اﷲ ہماری موجود رائج الوقت حکومت نے نہایت ہی بام عروج پر پہنچایا ہوا ہے، مجال ہے جو کسی دفتر میں چپڑاسی اور کلرک کی تقرری یا تبادلہ بھی اس کے بغیر ہو، گویا سب کچھ نہایت ہی بالترتیب اور باقاعدہ انداز تجارت کے زرین اصولوں کے تحت ہو رہا ہے لیکن پھر بھی لوگ نالاں ہیں، وہی انسان کی پیدائشی طبیعت کہ ہر چیز میں کوئی نہ کوئی نقص نکال ہی دیتا ہے، نرخ نامے نہیں تھے تو بھی ان کو شکایت تھی اب نرخ نامے لاگو ہو گئے تو بھی رو رہے ہیں مطلب اس کا یہ ہوا کہ اصل خرابی ان کالانعاموں ہی میں ہے ورنہ حکومتیں تو ان کی بھلائی کے لیے کیا کیا نہیں کرتیں۔
ساتھ ہر ایک کو اس راہ میں چلنا ہو گا
عشق میں رہزن و رہبر نہیں دیکھے جاتے