خوش آمدیدزمبابوےسونے پاکستانی میدان آج پھرآباد ہوجائیں گے

ایک سنگل پر بھی گراؤنڈ میں کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی ہو گی، اس چیز کو شاہدآفریدی جیسے سینئرز بھی یاد کرتے ہوں گے


Saleem Khaliq May 22, 2015
نتائج چاہے جو بھی ہوں کرکٹ کی جیت ہو رہی ہے،فوٹو : فائل

6 سال بعد پاکستانی سرزمین پر انٹرنیشنل کرکٹ میچ کے انعقاد کا وقت آہی گیا، قومی ہیروز کو نظروں کے سامنے ایکشن میں دیکھنے کیلیے ترستے شائقین اپنے دل کا ارمان جمعے کوپورا کر لیں گے، زمبابوین کرکٹرز نے تمام تر مخالفت کے باوجود دورہ کر کے تمام پاکستانیوں کو گرویدہ بنا لیا ہے، اب ہمیں بھی اس عمدگی سے ان کی مہمان نوازی کرنی چاہیے کہ خوشگوار یادیں یہاں سے لے کر رخصت ہوں، یہ سیریز سخت سیکیورٹی حصار میں کھیلی جا رہی ہے، ''دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے'' کے مصداق حکومت اور پی سی بی اب کوئی غلطی کرنے کو تیار نہیں،2009میں سری لنکن ٹیم کو ناکافی سیکیورٹی کے ساتھ اسٹیڈیم بھیجنے کی غلطی کا خمیازہ ہم اب تک بھگت رہے ہیں، وہ تو اچھا ہوا کہ مہمان کرکٹرز زندہ سلامت یہاں سے گئے بصورت دیگر تو ہم اگلے 50 سال تک کینیا کی میزبانی کا بھی نہیں سوچ سکتے تھے۔

اس ایک واقعے نے تمام ملکی کرکٹ میدان ویران کر دیے، یو اے ای میں سیریز سے بھاری اخراجات کے سبب بورڈ کو زیادہ مالی آمدنی نہیں ہوپاتی، ٹیسٹ میچ میں تو شائقین کی نہ ہونے کے برابر تعداد اسٹیڈیم آتی ہے، دوسری جانب ہمارے ملک میں اگر میچز ہوتے تو شاید ایسا نہ ہوتا،اب ہم پیسے کی طاقت یا چاہے جیسے بھی زمبابوین ٹیم کو یہاں لے آئے ہیں تو بہترین سیکیورٹی دینی چاہیے، اب تک کے انتظامات تو قابل تعریف لگتے ہیں،بس کسی بھی لمحے سہل پسندی کا شکار نہیں ہونا چاہیے، پوری دنیا کی نظریں اس وقت پاکستان پر لگی ہوئی ہیں۔

صاف ظاہر ہے کہ آئی سی سی،پلیئرز کی عالمی تنظیم اور بھارت سمیت کوئی بھی اس بات سے خوش نہیں کہ یہاں انٹرنیشنل کرکٹ واپس آ گئی، ملک دشمن عناصر بھی جلے بھنے بیٹھے ہوں گے، ایسے میں ہماری سیکیورٹی اداروں کو اپنی تمام تر صلاحیتیں سیریز کے کامیاب انعقاد پر جھونک دینی چاہئیں تاکہ یکم جون کو جب زمبابوین ٹیم اپنے وطن واپس جائے تو ہم فخر سے کہہ سکیں کہ دیگر ٹیمیں بھی پاکستان آئیں ہم میزبانی کیلیے تیار ہیں۔

حالیہ سیریز کیلیے سخت سیکیورٹی تھوڑی پریشان ضرور کرے گی لیکن ہمیں اسے برداشت کرنا پڑے گا، اب دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے، میں نے ہر جگہ میچز کور کیے اور بخوبی جانتا ہوں کہ سیکیورٹی کس قدر سخت ہوتی ہے، خاص طور پر بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں تو انتہائی کڑے انتظامات کیے جاتے ہیں، اس میں شائقین کا ہی فائدہ ہے، ان کے درمیان شرپسند عناصر نہیں ہوئے تو آرام سے میچ دیکھ سکیں گے، ملک کیلیے بعض چھوٹی چھوٹی باتیں برداشت کرنا ہی پڑتی ہیں، ہم نے اتنا انتظار کیا تو اب زمبابوین ٹیم آئی ہے، لہذا ایسے میں اگر سخت تلاشی یا زیادہ پیدل چلنے جیسے مسائل برداشت کرنا پڑیں تو شائقین کو انھیں ہنس کربرداشت کرنا چاہیے۔

یہ سیریز کوئی بہت بڑا بریک تھرو ثابت نہیں ہو گی، ایسا نہیں ہے کہ کامیاب انعقاد کے بعد دیگر ٹیمیں بھی پاکستان آنے لگیں البتہ ہم نے آغاز کر دیا ہے اور آہستہ آہستہ اعتماد بحال ہو جائے گا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس میں ہمارے قریبی ممالک ساتھ نہیں دے رہے، بھارت سے تو توقع رکھنی نہیں چاہیے وہ تو کبھی نہیں چاہے گا کہ پاکستان میں حالات نارمل ہوں مگر بنگلہ دیش کو تو کٹھن وقت میں ہمارا ساتھ دینا چاہیے،ہر مشکل وقت میں ہم اس کی مدد کرتے نظر آئے مگر وہ اب لفٹ کرانے کو تیار نہیں، چیئرمین شہریارخان وہاں سے آکر ویمن ٹیم کے آنے کی خوشخبری سنانے لگے تو اگلے ہی روز بنگلہ دیشی بورڈ حکام نے تردید کر دی کہ فی الحال ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

خیر ہمارے حالات ہمیشہ ایسے نہیں رہیں گے، کافی بہتری آ چکی جلد اور اچھے دن آئیں گے، تب ہم بھی ایسے دوغلے دوستوں کا حساب چکتا کر سکیں گے، ایسے میں سری لنکا قابل تعریف ہے جس کی ٹیم یہاں سے گولیاں کھا کر گئی مگر اب بھی اگر سنجیدہ کوشش کی جائے تو ٹور پر آمادہ ہو جائے گی،مگر اس سے پہلے ہمیں اپنے حالات مثالی بنانے ہوں گے، زمبابوے کیخلاف سیریز میں کیے جانے والے انتظامات کامیاب رہے تو پھر سیکیورٹی اداروں کا اعتماد بھی بلند ہو گا اور وہ دیگر ٹیموں کو بلانے کیلیے گرین سگنل دے دیں گے، بہرحال ملکی کرکٹ کا مستقبل اب اگلے10روز پر منحصر ہے،اس دوران سب ٹھیک رہا تو امیدوں کے نئے دیے روشن ہوں گے۔



سیریز میں بورڈ نے کراچی جیسے بڑے شہر کو نظر انداز کیا، یہاں کم از کم ایک میچ تو رکھنا چاہیے تھا، اگر زمبابوے نے اعتراض کیا تو اسے دور کیا جا سکتا تھا، جس شہر میں سری لنکن ٹیم پر حملہ ہوا وہیں سے دوبارہ کرکٹ کا آغاز اچھی چیز ہے، اس سے ایک پیغام جائے گا کہ ہم نے اب سیکیورٹی حالات بہتر بنا لیے ہیں مگر شہر قائد میں بھی لوگ میچز کے بے چینی سے منتظر تھے، انھیں بورڈ کے اس فیصلے سے شدید مایوسی ہوئی ہے۔

حالیہ سیریز کیلیے قومی سلیکٹرز نے اسکواڈ میں 7 تبدیلیاں کر دیں، یہ لمحہ فکریہ ہے، اس سے سلیکشن میں عدم تسلسل ظاہر ہوتا ہے، صرف ایک میچ میں کارکردگی کی بنیاد پر 7 کھلاڑیوں کو نکالنا درست نہیں، البتہ ڈومیسٹک ایونٹ میں عمدہ پرفارم کرنے والے نعمان انور کی شمولیت خوش آئند ہے، وہ ان دنوں بہترین فارم میں دکھائی دے رہے ہیں، انھیں فوراً موقع دے دینا چاہیے، صرف اسکواڈ میں رکھنا اور پھر بغیر کھلائے اگلی سیریز سے ڈراپ کرنا درست نہ ہو گا، عمر اکمل سے بھی حکام کی ناراضی ختم ہو گئی اور وہ ٹیم میں واپس آ گئے۔

اب انھیں کوچ وقار یونس کو اچھے انداز سے سنبھالنا ہوگا، کوچنگ میں اب مین مینجمنٹ بھی اہم عنصر ہے، وقار یونس اس شعبے میں مار کھا جاتے ہیں، وہ اب بھی اپنے آپ کو 90کی دہائی کا سپراسٹار سمجھتے اور انا زیادہ ہے،اسی لیے بعض اوقات عمر اکمل، احمد شہزاد اور سرفراز احمد جیسے کھلاڑی عتاب میں آ جاتے ہیں،کوچ کو بچوں کی طرح بورڈ سے شکایتیں کرنے کے بجائے ان پلیئرزکے ساتھ اپنے بچوں جیسا سلوک کرنا چاہیے، کبھی پیار تو کبھی ڈانٹ سے سمجھائیں پھر دیکھیں کتنی بہتری آتی ہے، ہمارے بہت سے کھلاڑیوں کو اب تک ملک میں کھیلنے کا موقع نہیں ملا، ان کیلیے سنہری موقع ہے کہ ہوم گراؤنڈ پر اپنی صلاحیتوں کو ثابت کریں، اب انھیں احساس ہو گا کہ اپنے شائقین کے سامنے کھیلنے کا الگ ہی لطف ہوتا ہے۔

ایک سنگل پر بھی گراؤنڈ میں کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی ہو گی، اس چیز کو شاہدآفریدی جیسے سینئرز بھی یاد کرتے ہوں گے، انھیں بھی ''آفریدی آفریدی '' کے نعروں کی یاد ستاتی ہو گی، اب سب کی یہ محرومی ختم ہونے کا وقت آ گیا، پہلی بار ایسی سیریزہونے جا رہی ہے جس میں ہم یہ گانا گنگنا سکتے ہیں کہ ''تم جیتو یا ہارو ہمیں تم سے پیار ہے''۔

نتائج چاہے جو بھی ہوں کرکٹ کی جیت ہو رہی ہے، منفی عناصر کو پیغام دے دیا گیا کہ وہ جو بھی کریں پاکستان سے کرکٹ کا شوق ختم نہیں کر سکتے، ہم بطور اسپورٹس لور اپنی شناخت برقرار رکھیں گے،پہلا قدم اٹھا لیا منزل دور ضرور ہے لیکن ایک نہ ایک ضرور اسے پا لیں گے، یقیناً وہ وقت بھی آئے گا جب ہم ایک بار پھر ورلڈکپ جیسے ایونٹس کی میزبانی کریں گے، مگر یہ اکیلے پی سی بی یا حکومت کا کام نہیں، اس کیلیے تمام پاکستانیوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، سب سے پہلے اس سیریز میں اتنے بہترین رویے کا مظاہرہ کریں کہ ہر طرف ہماری واہ واہ ہو جائے،پھر مزید اچھے دن آئیں گے، مجھے ان کی آہٹ ابھی سے سنائی دینے لگی ہے۔