’’ایشین بریڈ مین‘‘ کے گلے شکوے

آج کل پاکستان میں کئی اہم پوسٹوں کے فیصلے گالف کورس میں ہوتے ہیں


Saleem Khaliq June 04, 2015
’’ہمارا میڈیا سچن ٹنڈولکر کو تو خوب عزت دیتا ہے، اپنے عظیم ہیروز کو پوچھتا تک نہیں، ظہیر عباس۔ فوٹو: فائل

KARACHI: ''زندگی میں مزید آگے بڑھنا چاہتے ہو تو گالف کھیلو''

جب میرے ایک کرم فرما نے مجھ سے یہ بات کہی تو حیران ہو کر پوچھا کہ میں نے اپنا اتنا وزن بڑھا لیا ہے اب گالف کھیل کر کون سا ٹائیگر ووڈ بن جاؤں گا تو وہ مسکرا کر کہنے لگے '' آج کل پاکستان میں کئی اہم پوسٹوں کے فیصلے گالف کورس میں ہوتے ہیں، تقریباً ہر بڑے آدمی کو اس کھیل کا شوق ہے، وہاں جا کر اچھے موڈ میں ان سے بات کرنے کا موقع ملتا ہے تو پھر وہ کہیں نہ کہیں فائدہ پہنچا ہی دیتے ہیں، ''پھر انھوں نے مجھے ایک میڈیا گروپ جس کی کشتی اب ڈوب چکی اس کے بارے میں بتایا کہ'' فلاں صحافی کو وہاں ملازمت گالف کورس میں بنے تعلقات کی بنا پر ملی اور ہاں اپنے ظہیرعباس کو بھی گالف کا بڑا شوق ہے''۔

یہ باتیں سن کر میں گھر واپس آیا تو پاکستان کرکٹ کی ایک بہت بڑی شخصیت کا فون آیا کہ ہم ظہیر عباس کو بطور آئی سی سی صدر نامزد کر رہے ہیں، کیا خیال ہے؟ ویسے بھی آپ نے کل ایاز خان صاحب کے ٹی وی شو اور آج اپنے کالم میں اس کا ذکر تو کر ہی دیا ہے، میں نے جواب دیا جناب فیصلہ تو اب ہو ہی چکا ہوگا، ظہیرعباس ہمارے ملک کا بڑا نام ہیں، آئی سی سی میں انھیں کچھ کرنا تو ہے نہیں، یہ تو ایک نمائشی عہدہ ہے، جس کو بھی بھیجیں کوئی فرق نہیں پڑے گا،یہیں گفتگو کا اختتام ہوگیا۔

ظہیر عباس اور پی سی بی کی طاقتور کرکٹ کمیٹی کے سربراہ نجم سیٹھی میں خاصی قربت ہے، سابق چیئرمین پی سی بی نے جب ملک میں اختیارات ختم ہوتے دیکھے تو آئی سی سی کی پوسٹ کو چھوڑ دیا، ایسے میں انھوں نے اپنے قریبی ساتھی کے تقرر سے ایسا قدم اٹھایا کہ ان کی ذہانت کو داد دینے کو دل چاہتا ہے، پاکستان کرکٹ بورڈ میں بھی اب وہ مضبوط رہیں گے ساتھ ہی کونسل کی نشست بھی اپنے کو ہی مل گئی،پہلے بھی یہ کہہ چکا کہ نجم سیٹھی اب وکٹ پر اچھی طرح سیٹ ہو چکے اور کھل کر اسٹروکس کھیلنے کیلیے تیار ہیں۔

شہریارخان کی عادت مصباح الحق کی طرح احتیاط سے کام لینے کی ہے، مگر نجم سیٹھی ان سے بالکل مختلف ہیں،ان کا انداز شاہد آفریدی جیسا مگر ساتھ بے حدذہین بھی ہیں،یہی وجہ ہے کہ چیئرمین نہ ہونے کے باوجود وہ ہر فیصلے میں شریک ہوتے ہیں، ظہیرعباس کا نام بھی انھوں نے ہی پیش کیا ہو گا، بالکل اسی طرح جیسے ہارون رشید کو چیف سلیکٹر بنوایا یا معین خان کو کئی مختلف پوسٹ دلائیں، وہ اور شہریارخان اگر مل کر کام کریں تو پاکستان کرکٹ کو بہت فائدہ ہو سکتا ہے، سب سے پہلے انھیں بھارت میں اپنا اثرورسوخ استعمال کر کے اسے گرین شرٹس کے ساتھ سیریز کھیلنے پر قائل کرنا چاہیے، اسی طرح کے چند دیگر اقدامات ہوئے تو لوگ ان کے حوالے سے سیاسی وجوہات کے سبب منفی باتیں کرنا چھوڑ دیں گے۔

ویسے ظہیرعباس کی پاکستان کرکٹ کیلیے بڑی خدمات ہیں ایسے میں اگر وہ آئی سی سی کے صدر بن رہے ہیں تو کوئی قباحت نہیں ہے، اب آپ یہ نہیں کہیے گا کہ خدمات تو جاوید میانداد،ماجد خان اور عبدالقادر جیسے کرکٹرز کی بھی ہیں،انھیںکیوں موقع نہیں مل رہا، بات دراصل یہ ہے کہ میانداد کے کرم فرما جب اعلیٰ پوسٹ پر تھے تب وہ بھی بغیر کام کیے بطور ڈی جی پی سی بی کروڑوں روپے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرا چکے، بعد میں بھی ایسے مواقع آئیں گے، پاکستان میں ملازمت یا کسی بھی کام کیلیے صرف صلاحیت کافی نہیں تعلقات ہونا بھی لازمی ہیں۔

بعض شعبوں میں تو صلاحیت بھی ضروری نہیں،دوستی ہی کام آ جاتی ہے، ایسے میں ظہیرعباس کے تقرر پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ کرکٹ فیلڈ میں کئی کارنامے انجام دے چکے، اسی لیے انھیں ایشین بریڈمین کے نام سے پکارا جاتا ہے، جب مجھے ان کی تقرری کا علم ہوا تو مبارکباد کیلیے فون کیا، اس وقت تک انھیں بھی اس کا علم نہیں تھا یا وہ انجان بنے رہے، ظہیرعباس کو میڈیا سے بڑی شکایت ہے، وہ مجھ سے کہنے لگے کہ ''ہمارا میڈیا سچن ٹنڈولکر کو تو خوب عزت دیتا ہے، اپنے عظیم ہیروز کو پوچھتا تک نہیں، 10لوگوں سے پوچھیں 9کو علم تک نہیں ہو گا کہ میں نے کیا خدمات انجام دی ہیں، یا مجھے کیوں ایشین بریڈ مین قرار دیا جاتا ہے۔

100فرسٹ کلاس سنچریاں کوئی معمولی بات نہیں'' ،میں نے ان سے کہا کہ آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ جب آپ کرکٹ کھیلتے تھے تب صرف ایک ٹی وی چینل تھا، اخبارات بھی کھیلوں کو تھوڑی سی کوریج دیتے تھے، مگر اب زمانہ بدل چکا، ٹنڈولکر نے میڈیا کے دور میں عروج پایا جس کی وجہ سے وہ پوری دنیا میں سپراسٹار بن گئے،مگر آپ ہمارے لیے ٹنڈولکر سے بڑھ کر ہیں، اب آئی سی سی کی صدارت مل رہی ہے تو یقیناً ہر پاکستانی اس پر بیحد خوش ہوگا۔ یہ سن کر ظہیرعباس کہنے لگے '' مجھ سے بھی جو کچھ ہو سکا اپنے ملک کیلیے کرنے کی کوشش کروں گا''، اسی پر گفتگو کا اختتام ہوا اور میں سوچنے لگاکہ ظہیرعباس کا گلہ غلط نہیں، واقعی ہمیں موجودہ کرکٹرز کے ساتھ سابق ہیروز کی خدمات سے بھی عوام کو آگاہ کرتے رہنا چاہیے تاکہ انھیں یہ احساس ہو کہ اپنی جوانی کرکٹ میں گزار کر کچھ غلط نہیں کیا تھا،ہمیں چڑھتے سورج کی پوجا چھوڑنا ہوگی۔