سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی پاکستان کا حق ہے

پاکستان کو اس وقت توانائی کے بحران کا سامنا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے وہ ہر ممکن کوشش کر رہا ہے


Editorial June 05, 2015
سول جوہری ٹیکنالوجی توانائی کے حصول کا سستا ترین ذریعہ ہے اور دنیا کے بہت سے ممالک اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔ فوٹو : فائل

پاکستان کو اس وقت توانائی کے بحران کا سامنا ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے وہ ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ توانائی کے بغیر معاشی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا لہٰذا پاکستانی حکومت کو اس حقیقت کا بخوبی ادراک ہے کہ طویل عرصے سے جاری توانائی کا بحران معاشی ترقی کے تمام منصوبوں کی تکمیل میں سد راہ ہے۔

سول جوہری ٹیکنالوجی توانائی کے حصول کا سستا ترین ذریعہ ہے اور دنیا کے بہت سے ممالک اس سے استفادہ کر رہے ہیں لہٰذا پاکستان کی بھی کوشش ہے کہ وہ بھی اپنی توانائی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے اس ٹیکنالوجی سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہو۔اس تناظر میں پاکستان نے امریکا سے اپنی معاشی ترقی اور توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پرامن جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کا مطالبہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں واشنگٹن میں پاکستانی سیکریٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری اور امریکی انڈر سیکریٹری برائے آرمز کنٹرول اینڈ انٹرنیشنل سیکیورٹی روزگوٹمولر کے درمیان پاک امریکا ''مشترکہ اسٹرٹیجک مذاکرات'' کے تحت سیکیورٹی' اسٹرٹیجک استحکام اور ایٹمی عدم پھیلاؤ پر ورکنگ گروپ کے اجلاس میں بات چیت ہوئی۔

امریکا نے جب بھارت کو سول جوہری ٹیکنالوجی دینے کا معاہدہ کیا تب پاکستان نے بھی اس سے مطالبہ کیا کہ اسے بھی یہ ٹیکنالوجی دی جائے مگر امریکا نے امتیازی سلوک کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کو یہ ٹیکنالوجی نہ دی حتیٰ کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اس کا اہم اتحادی تھا۔ امریکا کے اس رویے پر پاکستان کے اندر سیاسی حلقوں نے بہت شور مچایا کہ سول جوہری ٹیکنالوجی کے حصول کا مقصد پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنا ہے اس کے کوئی فوجی مقاصد نہیں لہٰذا امریکا اپنے رویہ پر نظرثانی کرے مگر امریکا کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام امریکا اور یورپی ممالک کی آنکھوں میں مسلسل کھٹک رہا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان ایٹمی میدان میں ترقی کرے۔ لہٰذا وہ بہانے بہانے سے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خلاف شوشے چھوڑتے رہتے ہیں جب کہ دوسری جانب خطے میں بھارت بھی ایٹمی قوت ہے مگر امریکا اور یورپ نے اس کے اس پروگرام کو کبھی ہدف تنقید نہیں بنایا اور نہ کبھی اس پر پابندیاں لگانے کی دھمکی دی۔ واشنگٹن میں ہونے والے اجلاس کے دوران فریقین نے پاکستان کو عالمی سطح پر جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششوں میں شامل کرنے پر اتفاق اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کو غیر ریاستی عناصر کے ہاتھ لگنے سے روکنے کی کوششوں کو اہمیت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

پاکستان عالمی قوتوں کو بارہا یہ یقین دہانی کرا چکا ہے کہ اس کے ایٹمی اثاثے محفوظ ہاتھوں میں ہیں اور کسی بھی صورت ان کے غیر ریاستی عناصر کے ہاتھ لگنے کے امکانات موجود نہیں مگر امریکا اور یورپی قوتیں پاکستان کو دباؤ میں لانے کے لیے یہ پروپیگنڈا کرتی رہتی ہیں کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں جس سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیل سکتی ہے۔

اس اجلاس میں بھی پاکستان نے ایک بار پھر امریکی حکام کو یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ اس نے جوہری اثاثوں کے تحفظ کے لیے کثیر الحصار نظام اور ایک مضبوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم قائم کر رکھا ہے اور دہشتگردی کی لہر کو جوہری تنصیبات کے نزدیک بھی پھٹکنے نہیں دیا۔امریکا کی یہ دیرینہ خواہش رہی ہے کہ پاکستان جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) پر دستخط کر کے اپنا ایٹمی پروگرام رول بیک کر دے۔پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ خطے میں بھارت ایک بڑی ایٹمی قوت ہے جب تک وہ این پی ٹی پر معاہدہ نہیں کرتا پاکستان بھی ایسا نہیں کرے گا۔ مگر بھارت نے کبھی این پی ٹی پر دستخط کی حامی نہیں بھری بلکہ اپنے جوہری پروگرام کو ترقی دینے کے لیے ہر ممکن وسائل بروئے کار لاتا رہا ہے۔

اب ایک بار پھر پاکستانی سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پاکستان این پی ٹی پر دستخط نہیں کرے گا کیونکہ یہ ایک امتیازی معاہدہ ہے' پاکستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے' پاکستان کم سے کم ڈیٹرنس برقرار رکھے گا تاہم وہ کسی کے ساتھ ہتھیاروں کی دوڑ میں شامل نہیں' پاکستان بھارت کے ساتھ برابری کی بات نہیں کررہا وہ جانچ اور توازن کا نظام چاہتا ہے جس طرح کا سول جوہری تعاون کا معاہدہ امریکا نے بھارت کے ساتھ کیا تھا وہ پاکستان کا بھی حق ہے کیونکہ اس کی توانائی کی ضروریات کہیں زیادہ ہیں۔

پاکستان کو بخوبی ادراک ہے کہ امریکا اور دیگر عالمی قوتیں جنوبی ایشیاء میں بھارت کو چین کے مقابلے میں ایک بڑی قوت بنانے کے لیے سرگرم ہیں اور وہ پاکستان پر دباؤ ڈال کر اس کا ایٹمی پروگرام رول بیک کرنا چاہتی ہیں لہٰذا پاکستان نے اپنے قومی مفاد کو اولین ترجیح دیتے ہوئے امریکا اور دیگر عالمی قوتوں پر بارہا یہ واضح کیا کہ وہ اپنے ایٹمی پروگرام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا کیونکہ اس سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا۔ امریکا پاکستان کی توانائی کی ضروریات سے بخوبی آگاہ ہے لہٰذا اسے اپنا امتیازی رویہ ترک کرتے ہوئے بھارت کی طرح پاکستان کو بھی سول جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی دینی چاہیے۔