قانون کی شفافیت برقرار رکھی جائے

جرم کرنے والا عام آدمی ہو یا خود قانون کے رکھوالے، کسی کو چھوٹ نہیں دی جاسکتی


Editorial June 05, 2015
عوام کی نظر میں قانون کا احترام برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اداروں سے ان کرپٹ عناصر اور کالی بھیڑوں کا خاتمہ کیا جائے۔ فوٹو : فائل

جمعرات کو کراچی پولیس کے تشدد سے متحدہ قومی موومنٹ بلدیہ ٹائون سیکٹر کے کارکن کی ہلاکت کے بعد ایم کیو ایم کی جانب سے سوگ کا اعلان ہوتے ہی شہر کے مختلف علاقے بند اور حالات کشیدہ ہوگئے۔ پولیس کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل کی یہ پہلی واردات نہیں، اختیارات اور طاقت کی ڈور جب بے لگام ہوتی ہے تو ایسے ہی مظاہر سامنے آتے ہیں لیکن قانون ہر کسی سے بالاتر ہے، جرم کرنے والا عام آدمی ہو یا خود قانون کے رکھوالے، کسی کو چھوٹ نہیں دی جاسکتی۔

بلاشبہ مقتول کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد آئی جی سندھ کی ہدایت کے بعد ایس آئی ٹی سعودآباد کے انچارج انسپکٹر ظفر اقبال سمیت 4 اہلکاروں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف عزیز بھٹی تھانے میں قتل کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ لیکن اس سمت بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ آخرکار پولیس تشدد کے یہ واقعات ملک بھر میں کیوں جنم لے رہے ہیں، وہ کون سے محرکات ہیں جو طاقت اور اختیارات ہاتھ میں آتے ہیں خود قانون کے رکھوالوں کو قانون شکنی پر مائل کردیتے ہیں۔

ملک کے کسی حصے میں پولیس سٹیٹ کا منفی تاثر ابھرنا نہیں چاہیے۔اس ضمن میں پولیس کے ادارے پر بھی ملک گیر چیک اینڈ بیلنس کا موثر نظام قائم کرنے کی اشد ضرورت ہے، نیز اپنے پیٹی بند بھائیوں کے جرم کی پردہ پوشی بھی قابل مذمت ہے جیسا مذکورہ واقعے میں ہوا کہ مقتول کو اتوار اور پیر کی درمیانی شب اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم نے پولیس پارٹی کے ہمراہ اس کی رہائش گاہ بلدیہ ٹاؤن نمبر 3 مہاجر کیمپ سے گرفتار کیا لیکن وسیم کی ہلاکت کے بعد ایس ایس پی ایسٹ پیر محمد شاہ کو بچانے کے لیے وسیم اور اس کے بھائیوں کی گرفتاری عزیز بھٹی تھانے کی حدود سے ظاہر کی گئی۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں میں موجود یہ کالی بھیڑیں قانون کے تقدس کو پامال کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔ عوام کی نظر میں قانون کا احترام برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اداروں سے ان کرپٹ عناصر اور کالی بھیڑوں کا خاتمہ کیا جائے۔ قانون کی شفافیت ہر حال میں برقرار رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔