خیبر پختونخوا ایک قدم آگے

خیبرپختونخوا اور بلوچستان دونوں صوبوں میں ابھی تک قبائلی اور سرداری نظام قائم ہے جسے پسماندہ نظام کہا جاتا ہے


Zaheer Akhter Bedari June 05, 2015
[email protected]

خیبرپختونخوا میں آخر بلدیاتی انتخابات ہو ہی گئے۔ ہماری روایات کے مطابق دھاندلی کے الزامات بھی لگے اور خون خرابہ بھی ہوا لیکن اچھی بات یہ ہے کہ انتظامی اور مالیاتی اختیارات کو نچلی سطح تک لے جانے کی راہ ہموار ہوئی جو اس ملک کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ماضی میں جب خیبرپختونخوا میں اے این پی کی حکومت تھی تو اے این پی کے مارکسسٹ دانشور نے فرمایا تھا کہ ہتھیار ہمارا زیور ہے جس کے بغیر ہماری زندگی ادھوری رہتی ہے۔

اس فکر سے اس علاقے کی سماجی زندگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ اب نوشہرہ مردان کے مسائل کے حل کے لیے عوام کو پشاور جانے کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ ہر شہر ہر علاقے کے مسائل اسی علاقے میں حل ہوں گے، یہی بلدیاتی نظام کی وہ خوبی ہے جو ارتکاز اختیارات کے بادشاہانہ کلچر کی نفی کرتی ہے۔

خیبرپختونخوا اور بلوچستان دونوں صوبوں میں ابھی تک قبائلی اور سرداری نظام قائم ہے جسے پسماندہ نظام کہا جاتا ہے لیکن ان دونوں صوبوں کی سیاسی قیادت نے اپنے اپنے صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کروا کر یہ ثابت کر دیا ہے کہ پنجاب اور سندھ بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے مقابلے میں فکری اور سیاسی حوالے سے زیادہ پسماندہ صوبے ہیں جہاں کا حکمران طبقہ برسوں سے بلدیاتی الیکشن کرانے سے گریزاں ہے۔ ان صوبوں کے حکمرانوں کو یہ خوف لاحق ہے کہ اگر ان کے شہروں میں بلدیاتی نظام رائج ہو گیا تو انتظامی اور مالیاتی اختیارات ان کے ہاتھوں سے نکل جائیں گے جن کے بغیر ان صوبوں کے حکمران اپنے آپ کو بے دست و پا محسوس کرتے ہیں۔

صوبوں میں بلدیاتی نظام نہ ہونے کی وجہ علاقائی مسائل کے حل کی ذمے داری بے چارے ایم این ایز اور ایم پی ایز پر آتی ہے اور علاقائی مسائل حل کرنے کے لیے جو کروڑوں کے فنڈز جاری کیے جاتے ہیں یہی فنڈز ایم این ایز اور ایم پی ایز کو قابو میں رکھنے کے کام آتے ہیں۔ صوبائی حکومتوں کو یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ اگر یہ بھاری فنڈ ایم این ایز اور ایم پی ایز کو نہ ملیں تو نہ صرف یہ کہ انھیں قابو میں رکھنا ممکن نہیں رہتا۔ تحریک انصاف پر بعض عالی مرتبت شخصیات کی طرف سے بھی الزام لگایا جا رہا ہے کہ حکومت نے بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی کے ریکارڈ قائم کر دیے۔ ہماری سیاست میں تنقید کا اصل مقصد اپنے مخالفین کو بدنام کرنا اور عوام کے دلوں میں بدگمانیاں پیدا کرنا ہوتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات میں دھاندلیاں ہوئیں لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ دھاندلیاں نچلی سطح پر علاقائی عوام نے اپنے نمایندوں کو منتخب کرانے کے لیے کیں حکومت پر ان دھاندلیوں کا الزام اس لیے غیر منطقی نظر آتا ہے۔ پنجاب میں 2013ء کے الیکشن میں مبینہ دھاندلیوں کے خلاف عمران خان کی شکایت پر معاملہ جوڈیشل کونسل تک پہنچا ہوا ہے اس تناظر میں عمران حکومت پر بلدیاتی انتخابات میں دھاندلیوں کا الزام بہتان تراشی کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آتا۔

ہم نے 2014ء میں عمران خان اور طاہرالقادری کی دھرنا تحریک کی بھرپور حمایت اس لیے کی تھی کہ یہ دونوں اکابرین ملک میں 68 سال سے نافذ کرپٹ ترین نظام کو بدلنے کے لیے اسٹیٹس کو Status Quo توڑنے کی باتیں کر رہے تھے اور اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہی Status Quo ہے جو بھی عوام کی گردنوں کو جکڑنے والے اس شکنجے کو توڑنے کی بات کرے گا عوام اس کی حمایت کریں گے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ عمران اور قادری نہ صرف اپنے اس موقف سے بوجوہ پیچھے ہٹ گئے بلکہ اسی Status Quo کا حصہ بننے پر آمادہ ہو گئے۔

اس حوالے سے اگر عمران کے مخالفین تنقید کرتے ہیں تو اسے غلط نہیں کہا جا سکتا۔ خیبرپختونخوا کا سب سے بڑا مسئلہ اس صوبے سے قبائلی نظام کو ختم کرنا ہے، اسی نظام کی وجہ سے مذہبی انتہا پسندی اس انتہا کو پہنچی، اسی نظام کی وجہ دہشت گردی کا کلچر مستحکم ہوا، اسی نظام کی وجہ خودکش حملوں کی وہ خطرناک تکنیک متعارف ہوئی جس سے ترقی یافتہ ملک بھی ''چہ کنم'' میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اور یہ نظام یہ خطرناک کلچر اسی وقت ختم ہو سکتا ہے جب تعلیم لازمی اور عام ہو۔

اس پسماندہ صوبے میں ویسے تو بے شمار مسائل موجود ہیں لیکن تعلیم کا مسئلہ ان میں سرفہرست اس لیے ہے کہ تعلیم انسان کو ذہنی پسماندگی سے نکالتی ہے جس کا نتیجہ معاشرہ ان تمام برائیوں اور کمزوریوں سے معاشرہ نجات حاصل کر لیتا ہے جو معاشرے کا حلیہ بگاڑنے کا سبب بنے رہتے ہیں۔بلدیاتی الیکشن کا بڑا مرحلہ طے کر لیا گیا الیکشن کے دوران جو تلخیاں پیدا ہوتی ہیں وہ ایک عرصے تک باقی رہتی ہیں لیکن اگر بلدیاتی اداروں کو فعال کر دیا جائے اور علاقوں کی سطح پر عوام کے مسائل حل کرنے کا آغاز ہو تو الیکشن کی تلخیاں موجود رہنے کا جواز ختم ہو جاتا ہے۔ عمران خان اپنی سیاست میں نئے پاکستان کو اپنا بنیادی نعرہ بنائے ہوئے ہیں بظاہر تو یہ نعرہ بڑا متاثر کن نظر آتا ہے لیکن ہمارا دانشور حلقہ اسے ایک ایسی مبہم اصطلاح سمجھتا ہے جو محض عوام کو متاثر کرنے اور ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

بھٹو صاحب نے بھی روٹی کپڑا اور مکان ہی نہیں مزدور کسان راج کے انقلابی نعرے لگائے لیکن جس پارٹی پر اشرافیہ کی بالادستی ہوتی ہے وہ کبھی ان انقلابی نعروں پر عملدرآمد نہیں ہونے دیتی۔ تحریک انصاف کو اگرچہ جاگیرداروں کی پارٹی نہیں کہا جا سکتا لیکن کپتان کے دائیں بائیں یہ فیوڈل اکابرین فعال نظر آتے ہیں کپتان کے حامیوں میں نوجوان طبقہ ایک موثر طاقت کی حیثیت سے موجود ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اس طبقے کو شخصیت پرستی کے دھندلکوں سے نکال کر پارٹی کے منشور کے طابع کیا جائے اور نئے پاکستان کی مبہم اصطلاح کو ایک واضح ترقی پسند منشور میں بدلا جائے تو عوام کی حمایت کے حصول کا ایک منطقی جواز مل جاتا ہے۔

مقبول خبریں