ترقی کے اشاریے
ترقی کا سادہ سا مطلب عوام کی قوت خرید میں اتنا اضافہ کہ وہ ایک آسودہ زندگی گزار سکیں۔
منڈی کی معیشت ایک نرالا فلسفہ ہے، اس کے گورکھ دھندے ایسے دلچسپ اور دلفریب ہیں کہ بڑے بڑے ماہرین معاشیات چکرا کر رہ جاتے ہیں، کسی بھی انسانی اور مہذب معاشرے میں ملکی اور قومی ترقی کا حقیقی مطلب عوام کی ترقی یعنی بہتر کھانا پینا، بہتر پہننا، بہتر رہائش، بہتر ٹرانسپورٹ اور قوت خرید میں اضافہ ہونا چاہیے اور اس ترقی اور خوشحالی کو ناپنے کا مثبت طریقہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ عام آدمی کا ناشتہ کیسا ہوتا ہے، لنچ اور ڈنر کیسا ہوتا ہے، اس کے کچن کا کیا حال ہے، اس کا لباس کیسا ہے، اس کی رہائش کا کیا حال ہے، اسے کس طرح کی ٹرانسپورٹ میسر ہے، اس کی بچت کا کیا حال ہے، اس کے بچوں کو تعلیم کیسی مل رہی ہے، اسے علاج معالجے کی کیسی سہولتیں حاصل ہیں، اس کی قوت خرید کا کیا حال ہے؟
یہ کسی بھی ملک کی ترقی ناپنے کا حقیقی اور منطقی پیمانہ ہے، لیکن ہمارے نظام معیشت و نظام سیاست میں یا منڈی کی معیشت کے نظام میں ملکی و قومی ترقی ناپنے کے پیمانے اس قدر دلچسپ ہیں کہ اس کے لیے فراڈ کو ہمارے ماہرین معیشت ترقی کا پیمانہ کہتے ہیں۔ اس پیمانے کے مطابق یہ دیکھا جاتا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر کتنے ہیں، اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا کیا حال ہے، سکہ کی قیمت بڑھ رہی ہے یا نہیں، سونے کی خریداری میں کتنا اضافہ ہو رہا ہے۔ شاپنگ مالز کی رونقوں میں اضافہ کتنا ہے، جوئے اور سٹے کے کاروبار میں کتنا اضافہ ہو رہا ہے، کتنے 5 اسٹار ہوٹل ہیں، تعمیراتی شعبہ کتنی ترقی کر رہا ہے، کاروں کی تیاری اور کھپت میں کتنا اضافہ ہو رہا ہے، بینکوں میں بچتیں کتنی بڑھ رہی ہیں، لیپ ٹاپ کی سیل میں کس قدر اضافہ ہو رہا ہے، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے پھیلاؤ میں کتنا اضافہ ہو رہا ہے، لگژری آئٹم کی فروخت میں کس قدر اضافہ ہو رہا ہے، ملک کی مڈل کلاس میں کس قدر اضافہ ہو رہا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
ہمارے عالی مرتبت معاشی ماہرین انھیں ترقی کے اشاریے، انڈیکیٹر کہتے ہیں۔ خوشحالی اور ترقی ناپنے کا یہ طریقہ صرف ترقی یافتہ ملکوں ہی میں نہیں بلکہ پسماندہ ملکوں میں بھی رائج ہے۔ ایلیٹ کے غلام معاشی ماہرین ہی نہیں بلکہ عوام کے دوست معیشت دان بھی اسی پیمانے کو اپنے پسماندہ ملکوں کی ترقی ناپنے کا پیمانے مانتے ہیں کیونکہ ان معاشی ماہرین غریبوں کے طرفدار معاشی ماہرین کو یہ اعزاز حاصل ہوتا ہے کہ وہ حکمرانوں کے معاشی مشیر کے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں اور مڈل کلاس کی ترجمانی کرتے ہیں۔
ہمارے ملک کا شمار دنیا کے پسماندہ ترین ملکوں میں ہوتا ہے، جہاں 50 فیصد سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارتے ہیں۔ ترقی کا سادہ سا مطلب عوام کی قوت خرید میں اتنا اضافہ کہ وہ ایک آسودہ زندگی گزار سکیں۔ ہمارے ملک میں فارمل اور انفارمل سیکٹر میں مزدوروں کی مجموعی تعداد ساڑھے چھ کروڑ بتائی جاتی ہے۔ ہمارے زرعی شعبے میں کام کرنے والے کسانوں ہاریوں کی تعداد کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ہماری آبادی کا لگ بھگ 60 فیصد حصہ ہیں، ان دو بڑے طبقات کے علاوہ سرکاری ملازمین چھوٹے کاروباری لوگ ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی اجرتوں تنخواہوں اور آمدنی میں اضافے کی رفتار کیا ہے اور ان کی فی کس آمدنی کیا ہے؟ انفارمل سیکٹر میں لاکھوں مزدور یا تو بے روزگاری کا شکار ہیں یا ٹھیکیداری نظام میں کام کر رہے ہیں۔ ہماری مہربان سرکار نے اگرچہ مزدوروں کی اجرت 13 ہزار ڈکلیئر کی ہے لیکن اس پر عملدرآمد؟۔۔۔۔۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ چونکہ اس نظام میں لیبر ڈپارٹمنٹ مالکان کے ایجنٹ کے طور پر کام کرتا ہے لہٰذا لیبر قوانین پر عملدرآمد اس کا مسئلہ نہیں رہتا۔
ہمارے یہاں اجرتوں اور تنخواہوں میں اضافے کا عالم یہ ہے کہ مزدور اور ملازمین برسوں اجرتوں اور تنخواہوں میں ضروریات زندگی کے تناسب سے اضافے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں اور اجرتوں اور تنخواہوں میں اضافے یعنی انکریمنٹ کو ہم اونٹ کے منہ میں زیرہ کہہ سکتے ہیں۔ مزدور انجمنیں برسوں بلکہ عشروں سے مہنگائی کے تناسب سے اجرتوں اور تنخواہوں میں اضافے کے لیے لڑ رہے ہیں لیکن ان کی آواز صدا بہ صحرا ثابت ہوتی ہے۔
کسان ہماری آبادی کا لگ بھگ 60 فیصد حصہ مانا جاتا ہے، اتنی بڑی آبادی باضابطہ اجرت یا تنخواہ سے محروم ہے، رات دن، گرمی سردی اور بارشوں میں جان لڑا کر ملک میں اجناس کا ڈھیر لگانے والے اس طبقے کو اتنا اناج بھی نہیں ملتا کہ وہ دو وقت کی روٹی کھا سکے۔ اس ظلم پر مزید ظلم یہ کہ اس کی حیثیت غلاموں جیسی ہوتی ہے۔ صرف شکایت زبان پر لانے کا مطلب زبان لڑانا ہوتا ہے۔ جاگیرداروں، وڈیروں کے مویشی خانوں کی صفائی کا کام کسانوں ہاریوں کے بیوی بچوں سے لیا جاتا ہے۔ کسانوں کے بچوں پر تعلیم حرام ہے، اسی لیے تعلیمی اداروں کو مویشی خانے بنا کر رکھا گیا ہے۔
68 سال میں بے شمار سول اور قومی حکومتیں آئیں اور گزر گئیں، ہر حکومت نے ملک کو ترقی یافتہ بنانے کے دعوے کیے لیکن ملک غربت اور پستی کے دلدل سے باہر نہ آ سکا۔ ترقی کا ایک اہم پیمانہ انڈسٹریلائزیشن کہا جاتا ہے، ہمارے ملک میں ایوب خان کے دور سے صنعتوں کے قیام کا آغاز ہوا، یہ امریکا کی مہربانی تھی، سوشلسٹ ملکوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے گھبرا کر امریکا نے پسماندہ ملکوں کو مختلف حوالوں سے امداد دینا شروع کیا، جس کا مقصد پسماندہ ملکوں کو سوشلزم سے دور کرنا تھا، ایوب خان کے دور میں کولمبو پلان کے تحت جو امداد دی گئی اس سے پہلی بار پاکستان میں صنعتی ترقی کا آغاز ہوا، کراچی اس ترقی کا مرکز تھا۔
کراچی میں تیزی سے صنعتیں لگنے لگیں، جس کا فائدہ عوام کو ہونا چاہیے تھا لیکن ہوا یہ کہ امریکا کی ایما پر حکومت پاکستان نے مزدوروں پر پابندیاں لگانی شروع کیں اور تنخواہوں میں اضافے وغیرہ کا مطالبہ کرنا جرم بن گیا، لیبر قوانین کا غلط اور من مانا استعمال کرتے ہوئے ہزاروں مزدوروں کو گرفتار کر لیا گیا اور ریاستی طاقت سے انھیں اس حد تک دبا دیا گیا کہ مزدور سر اٹھانے کے قابل نہیں رہے، دوسری طرف مالکان کو اتنی آزادی دے دی گئی کہ انھوں نے مزدوروں کے لیے اپنی ملوں میں پرائیویٹ جیلیں بنا دیں، یہ سلوک ان لوگوں کے ساتھ ہوا جو شعبہ صنعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے، پھر بھٹو کے دور میں ٹریڈ یونین ہی کو ختم کر دیا گیا۔
اگر ترقی دیکھنا ہو تو آپ صنعتی علاقوں سے متصل مزدور بستیوں میں جائیے، بے گھر عوام کی کچی بستیوں میں جائیے۔ ان غریبوں کے کچن ملاحظہ فرمائیے، ان کے ناشتوں، لنچ اور ڈنر پر نظر ڈالیے، ان کے پھٹے پرانے کپڑوں کو دیکھیے، ان کے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے دیکھیے، غریب طبقات کا علاج کیسے ہوتا ہے سرکاری اسپتالوں میں جا کر دیکھیے۔ روزگار کی کیا صورتحال ہے، ملوں کارخانوں کے باہر نوکری کے انتظار میں ہر روز گھنٹوں بیٹھنے والے مزدوروں کو دیکھیے۔ غریب سفر کس طرح کرتا ہے بسوں منی بسوں کو ملاحظہ کیجیے۔ عید بقر عید مسلمانوں کی دو بڑی عیدیں ہوتی ہیں، غریب بستیوں میں جا کر دیکھیے غریب کے بچے کس طرح عید مناتے ہیں۔ یہ ہیں ترقی کے اصل انڈیکیٹر جن سے ہمارے معاشی ماہرین دانستہ اغماز برتتے ہیں یہی ہمارا المیہ ہے۔