کتبے دیواریں نام اور دروازے

ناموں کتبوں اور میناروں دروازوں میں دونوں مرکزی اور صوبائی حکومتیں نہایت ہی یدطولیٰ رکھتی تھیں،


Saad Ulllah Jaan Baraq June 09, 2015
[email protected]

ROME: ویسے تو ہمیں تحریک انصاف سے نہ کوئی لینا ہے نہ دینا لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ایں خانہ ھمہ آفتاب است، اس لیے طہٰ خان نے کہا ہے کہ سارے حاجیوں کو برا مت کہو کہ ان میں ایک دو حاجی بھی ہو سکتے ہیں، سو ایسے ہی ایک حاجی ضیاء اللہ آفریدی کا بیان بڑا اچھا لگا بلکہ میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں تھا، فرمایا ہے کہ پچھلی حکومتیں صرف مینار، دروازے بناتی تھیں اور ناموں کے کتبے لگاتی تھیں اور یہ بالکل ہی سچ ہے خاص طور پر جو پچھلا دور گزرا ہے جس کا دھواں ابھی تک پھیلا ہوا ہے۔

ناموں کتبوں اور میناروں دروازوں میں دونوں مرکزی اور صوبائی حکومتیں نہایت ہی یدطولیٰ رکھتی تھیں، ایک سے تو ہمیں ڈر تھا کہ اگر یہی لیل و نہار رہے تو کسی دن پاکستان کا نام بدل کر بے نظیرستان نہ رکھ دیا جائے اور وہ دوسری والی یعنی بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میاں سبحان اللہ۔ خیبرپختونخوا کی اس صوبائی حکومت یعنی چھوٹے میاں کو دروازوں کا کمپلیکس ہو گیا تھا، ایسے ایسے مقامات پر ایسے ایسے دروازے زرکثیر صرف کر کے بنائے گئے ہیں کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر سوائے ٹھیکیدار اور چند متعلقہ فنڈ خوروں کے کسی اور کو ملا کیا، بلکہ اچھے خاصے بازاروں اور سڑکوں پر تجاوزات کے لیے بنیادیں رکھ دی گئی ہیں کیوں کہ کم از کم دروازے تک تو یوں بھی سڑک بند ہے تو کیوں نہ اردگرد کچھ دھندا ہی کیا جائے۔

جس راستے سے ہمارا آنا جانا رہتا ہے اس میں لگ بھگ چھ دروازے ہیں اور جتنے عرصے میں ان کی تعمیر مکمل ہوئی ہے اور ان میں جو فن کاریاں کی گئی ہیں اس خرچے سے دو چار چھوٹے موٹے سو دو سو میگا واٹ کے بجلی گھر لگائے جا سکتے ہیں، پہلے پہل ہمارا خیال تھا کہ ان دروازوں کا کوئی نہ کوئی مقصد یا مصرف تو ہو گا، شاید کچھ دنوں بعد دودھ دینے لگیں یا پھل پھول دینا شروع کر دیں لیکن سوائے سڑک کو ننگ کرنے کے ''پھل'' کے اور کچھ بھی نہیں لگا اور ہم آتے جاتے ان دروازوں پر جب ٹریفک جام میں پھنستے ہیں تو باقی صدیقی کا شعر یاد آجاتا ہے کہ

سوچتا ہوں سر ساحل باقی
یہ سمندر ہمیں کیا دیتے ہیں

ویسے ان پارٹیوں کے بذریعہ نام بنی بنائی چیزوں پر قابض ہونے کے ہمیں اکثر سانپ یاد آجاتا ہے، بے چارے سانپ کے نہ پنجے ہوتے ہیں نہ چونچ اور نہ کچھ ۔۔۔۔ چنانچہ اپنے لیے ''بل'' نہ بنا سکتا ہے نہ بناتا ہے بلکہ کسی اور جانور کے بل پر زبردستی قبضہ جما لیتا ہے، ایک اسپتال جو ایوب ٹیچنگ اسپتال کے نام سے ایوب خان نے بنوانا شروع کیا تھا، آج شیر پاؤ اسپتال کہلاتا ہے حالانکہ بعد میں اس کا نام بدل کر خیبر اسپتال رکھ دیا گیا ہے، اب چھوٹے میاں ہی کو لے لیجیے، باچا خان ایک بہت بڑا نام ہے جس کے ساتھ ایک تحریک ایک فلسفہ ایک جدوجہد اور ایک مقصد وابستہ ہے لیکن کمال کرنے والوں نے سب کچھ چند مقامات کے نام رکھنے میں سب کچھ نمٹا لیا، بس نام رکھ دیا اللہ اللہ خیر سلا، اور ہاں صوبے کا نام تو ہم بھول گئے، خیر پختون خوا

بس نام رکھ لیا سب کچھ ہو گیا، سب کچھ مل گیا ،کچھ اور ملے نہ ملے اور نام بھی ایک نہیں دو دو، یعنی چپڑیاں اور وہ بھی دو دو ۔۔۔ اندھے کو کیا چاہیے ''دو آنکھیں'' چاہے وہ آنکھیں بے نور ہی کیوں نہ ہوں، گویا اب ہم کہہ سکتے ہیں کہ

سب کچھ خدا سے مانگ لیا تجھ کو مانگ کر،
اٹھتے نہیں ہیں ہاتھ میرے اس دعا کے بعد

کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ یہ پاکستانی قوم اور پھر خاص طور پر پختون تو بغیر حساب کتاب کے جنت جائیں گے کیوں کہ ان کو دنیا میں جو کچھ ملا ہے لیڈروں کی صورت میں، پارٹیوں کی شکل میں اور خاندانوں کے نام پر ' اس سے بڑی سزا اور کیا ہو سکتی ہے، اپنے اور اپنے لیڈروں کے سارے گناہوں کی سزا تو وہ یہی بھگت چکے ہیں بلکہ ابھی کہاں ابھی نہ جانے اور کتنی نسلوں کو بھگتنا ہو گی۔ غالباً دلی کے کسی شاعر نے کہا تھا کہ

شامت اعمال ما صورت نادر گرفت

میرے ہی اعمال کی سزا ''نادر'' کی صورت میں نازل ہو گئی ہے حالانکہ وہ گناہ اور اعمال جن کی پاداش میں نادر شاہ افشار دلی پر نازل ہوا تھا، قتل ہونے پر عوام نے نہیں کیے بلکہ محمد شاؤں اور رنگیلوں نے کیے تھے، معاف کیجیے ہم کچھ زیادہ تلخ ہو گئے،

رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائی سے معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے

اور یہ درد اس لیے سوا ہو رہا ہے کہ بارش سے بھاگے ، پرنالے کے نیچے آگئے۔ کل یہ جو نئے 45 ہزار بلکہ پچاس ہزار نئے خادم تشریف فرما ہو گئے اور جو تن خواہیں اور مراعات ان کی بتائی جارہی ہیں، اس کے لیے پوری قوم کو تقریباً اگلے پچاس سال کے لیے گروی رکھنا پڑے گا، ہم تو ابھی سے لرز رہے ہیں کیوں کہ جو لوگ آنے والے ہیں، آرہے ہیں اور آئیں گے ان کو ہم ذرا قریب سے جانتے ہیں اور پہچانتے بھی ہیں اور وہ اس لیے ہی آئے ہیں کہ
پلاؤ کھائیں گے احباب فاتحہ ہو گا

اور آخر میں پشتو کا ایک شعر کہ ۔۔۔ اس شخص کے حال پر رونا چاہیے جس کی آمدنی پانچ اور خرچ دس روپے ہو، اور اس گھر پر رونا چاہیے جس میں بڑے یا مشران بڑھ جائیں۔