بجٹ وسائل محدود اور مسائل لامحدود
حزب اختلاف نے حسبِ روایت بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام دشمنی سے تعبیر کیا
دیگر ملکوں کی طرح پاکستان کی حکومتیں بھی ہر سال بجٹ کا اعلان کرتی ہیں جس میں ٹیکسوں میں ردوبدل کیا جاتا ہے، حکومتی آمدنی بڑھانے کے اقدامات ، ترقیاتی اورغیرترقیاتی مدوں میں اخراجات تجویزکیے جاتے ہیں۔
مروجہ طریقہ کار کے مطابق اس عمل کو مکمل کیا جاتا ہے جس کے بعد مجوزہ بجٹ نافذ العمل ہوجاتا ہے۔ ماضی کی طرح اس سال بھی وزیرخزانہ اسحق ڈار نے بجٹ 2015-2016پیش کیا ۔
ہر سال کی مانند اس بار بھی حکومتی بجٹ پر مختلف طرح کے ردعمل سامنے آئے۔ حکومت اور اس کے حامیوں کی طرف اس بجٹ کو عوام دوست قرار دیا گیا، حزب اختلاف نے حسبِ روایت بجٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے عوام دشمنی سے تعبیر کیا، غیر جاندار حلقوں کی طرف سے بجٹ کی خوبیاں اورخامیاں دونوں بیان کی گئیں اور اسے مزید بہتر بنانے کی تجاویز پیش کردی گئیں۔ ذرایع ابلاغ نے بھی اپنے قارئین اور ناظرین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بجٹ کے مختلف پہلوؤں کو اجاگرکیا۔ ہرسال بجٹ کے موقعے پر اس طرح کا ردعمل سامنے آتاہے لیکن بجٹ کی منظوری کے بعد سارا شور تھم جاتا ہے اور معمول کی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہوجاتی ہیں۔
سالانہ بجٹ کئی حوالوں سے معیشت پر انتہائی اہم اثرات مرتب کرتا ہے تاہم، کسی ایک بجٹ کے ذریعے معیشت کو بنیادی طور پر تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا اس لیے ہے کہ بجٹ اور ملک کی معیشت دو الگ چیزیں ہیں۔ پاکستان کی جی ڈی پی یا معیشت کا حجم 260 ارب ڈالر یعنی 260کھرب روپے ہے جب کہ اس مالی سال کا بجٹ محض 43 کھرب روپے پر مشتمل ہے ۔ بجٹ دراصل ملک کی معیشت کا نہیں بلکہ حکومت کی معیشت کا میزانیہ ہوتا ہے۔
کسی بھی ملک کے بجٹ کو دیکھ کر فوراً یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ متعلقہ ملک کی حکومت کی کیا مالی حیثیت ہے ، حکومت کی آمدنی کتنی ہے اور اس کے اخراجات کا حجم کیا ہے ؟ آمدنی کم اور اخراجات بہت زیادہ ہوں تو سمجھ لیں کہ حکومت کی مالی حالت بہت خراب ہے ۔ اسے یا تو اپنے اخراجات کم کرنے پڑیں گے یا پھر ٹیکس اور محصولات میں اضافہ کرکے اپنی آمدنی میں اضافہ کرنا ہوگا ۔
نئے سال کا جو بجٹ پیش کیا گیا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کے اخراجات اس کی آمدنی کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ حکومت کو مختلف مدوں سے جو آمدنی حاصل ہوتی ہے وہ صرف بیرونی اور اندرونی قرضو ں کی ادائیگی ، دفاع اور دیگر غیر ترقیاتی شعبوں میں خرچ ہوجاتی ہے۔ ترقیاتی اخراجات کے لیے حکومت کے پاس کوئی رقم نہیں بچتی لہٰذا نئے ٹیکس اور مزید قرضوں کے ذریعے ان اخراجات کو پورا کیا جاتاہے۔ ساری بحث صرف اس نکتے تک محدود رہتی ہے کہ عام لوگوں پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر حکومت کو کس طرح اپنی آمدنی میں اضافہ کرنا چاہیے ۔ دیگر حکومتی میزانیوں کی طرح اس مرتبہ بھی یہ دل چسپ حقیقت سامنے آئی ہے کہ حکومت غریب جب کہ معیشت اتنی زیادہ غریب نہیں ہے ۔
حکومت اتنی غریب کیوں ہے؟ اس سوال کے جواب میں اگر یہ کہا جائے کہ جمہوریت کے نہ ہونے سے حکومت کی غربت میں اضافہ ہوا ہے تو سوال یہ پیدا ہوگا کہ جمہوریت کا معیشت یا حکومت کی خراب مالی حالت سے کیا تعلق ہوسکتا ہے؟
اس کا ایک سادہ جواب یہ ہے کہ جن ملکوں میں جمہوریت مستحکم ہے وہاں قانون کی حکمرانی ہوتی ہے ، حکومتیں عوام کے سامنے جواب دہ ہوتی ہیں، میڈیا غلط معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتا ہے ، حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے غلطیوں کی نشان دہی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہتا ہے ۔ اس کے علاوہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی یہ اعتماد ہوتا ہے کہ معاشی پالیسیوں کا تسلسل جاری رہے گا اور نوکر شاہی انھیں بلیک میل نہیں کرسکے گی ۔ یہ تمام عوامل جب یک جا ہوتے ہیں تو معیشت میں ترقی کا پائیدار عمل شروع ہوجاتا ہے ۔ معیشت میں نمو ہوتی ہے تو حکومت کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوتا ہے ، خرانہ بھرتا ہے اور ترقیاتی و فلاحی منصوبوں کی راہ میں حائل مالی رکاوٹیں بھی ختم ہو جاتی ہیں۔
ایک ایسے ملک میں جہاں جمہوریت نہیں ہوتی وہاں معیشت یا تو ترقی نہیں کرتی یا اگر ترقی کر بھی لے تو بہت جلد زوال کا شکار ہوجاتی ہے۔ سخت گیر آمریتوں میں سارے وسائل پر حکمرانوں اور ان کے خلیفوں کا قبضہ ہوتا ہے۔ وہ ظلم و جبر کے ذریعے معاشی ترقی کے حصول کی راہ اپنا تے ہیں۔ اس طرح بہت کم وقت میں ایسے ملک معاشی طور پر ترقی یافتہ نظر آنے لگتے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ان ملکوں میں سنگین سیاسی اور سماجی پیدا ہونے لگتا ہے کیونکہ انسان بھوکا رہ سکتا ہے غلام نہیں رہ سکتا ۔ ایک نہیں درجنوں ملکوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
سوویت یونین، مشرقی یورپی ممالک اور مشرق و سطیٰ کے ملکوں میں سخت گیر آمرانہ نظام کے تحت بہ ظاہر بے مثال ترقی ہوئی لیکن بعد ازاں، یہ ممالک بحرانوں کا شکار ہوکر اپنا سب کچھ تباہ کر بیٹھے۔ ایسے مضبوط اور ترقی یافتہ نظر آنے والے کچھ ملک ٹوٹ گئے اور جو اس انجام سے بچ گئے وہ اندرونی خلفشارا ور خانہ جنگی کاشکار ہوگئے ۔ اس صورتحال سے یہ ثابت ہوتاہے کہ جمہوریت اورمعاشی ترقی کے درمیان ایک مضبوط اور مثبت تعلق ہے جب کہ آمریت اور معاشی ترقی ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
پاکستان کابھی یہ المیہ رہا ہے کہ یہاں طویل عرصے تک فوجی آمریتیں قائم رہیں جس سے ملک سیاسی عدم استحکام سے دوچار رہا اور پائیدار معاشی ترقی کا حقیقی عمل ابھی شروع نہ ہوسکا ۔ ہر آمریت کے بعد ملک سنگین سے سنگین تر سیاسی اور معاشی بحرانوں کی لپیٹ میں آتا چلا گیا۔ عارضی طور پر قائم ہونے والی جمہوری حکومتوں نے ملک کو بحرانوں سے نکالنے کی کوششیں کیں لیکن انھیں بھی زیادہ عرصے کے لیے برداشت نہیں کیا گیا، اس طرح معاشی زوال کا سلسلہ نہ رک سکا ۔ ملک کی معیشت تباہ ہوئی تو حکومت بھی مالی بحران میں مبتلا ہوگئی۔
یہ صورتحال 2008 تک عروج پر پہنچ چکی تھی۔ آخری فوجی آمر کے دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لینے کے عوض کم از کم 20ارب ڈالر کی امداد اور دیگر رعایتیں حاصل کی گئیں جس سے ملک کے ایک مخصوص طبقے، چند شہروں اور کاروبار کے بعض شعبوں میں خوش حالی نظر آئی لیکن جیسے ہی امریکا نے فوجی آمر پر '' ڈبل کراس'' کرنے کا الزام لگاکر امداد کے سلسلے کو موقوف کردیا تو معیشت میں نظر آنے والی یہ جعلی خوش حالی بھی ایک بلبلے کی طرح ختم ہوگئی۔
جب کوئی راہ نظر نہ آئی تو اقتدار جمہوری حکومت کو منتقل کرنا پڑا۔ 2008 سے 2013 تک، اس وقت کی جمہوری حکومت کی اولین کوشش یہ تھی کہ جمہوری عمل کے تسلسل کو ہر قیمت پر جاری رکھا جائے تاکہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک اقتدار جمہوری حکومت سے دوسری جمہوری کومنتقل ہو سکے ۔ اس کٹھن کام کی '' قیمت''' پیپلز پارٹی کی حکومت نے ادا کی۔ 2013 میں اقتدار جب موجودہ حکومت کو منتقل ہوا تو ملک کی سیاسی اور معاشی صورتحال انتہائی خراب تھی ۔ فوجی آمریتوں میں جو کچھ بویا گیا تھا اس کی ایک فصل پاکستان پیپلز پارٹی کی جمہوری حکومت کاٹ چکی ہے جب کہ دوسرے مرحلے میں اب پاکستان مسلم لیگ نواز کی باری آئی ہے ۔
میاں صاحب کی حکومت اس لحاظ سے خوش نصیب ہے کہ پارلیمنٹ میں اس کے پاس سادہ اکثریت ہے جو کہ پی پی پی کو حاصل نہیں تھی ۔ اس حکومت کو دوسرا فائدہ یہ ملا ہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے ملک میں سیاسی مفاہمت کا جو سلسلہ شروع کیا تھا وہ اب کافی مستحکم ہوگیا ہے ، اس لیے نواز حکومت کو حزب اختلاف اور دیگر اتحادیوں کی طرف سے مثبت اور تعاون حاصل ہے ۔
موجودہ حکومت جب بر سر اقتدار آئی تو زرمبادلہ کے ذخائر 7ارب ڈالر رہ گئے تھے اور یہ بات وثوق سے کہی جارہی تھی کہ 2014تک پاکستان عالمی سطح پر نادہندہ اور دیوالیہ ہوجائے گا۔ ایسے حالات میں بجٹ سازی سے زیادہ اہم کام پاکستان کو عالمی نادہندگی سے بچانا تھا جس کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے او رآج حالات پہلے کے مقابلے ہی کہیں بہتر ہوچکے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں اور نادہند ہونے کا خطرہ نہ صرف ٹل چکا ہے بلکہ عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستان کی معیشت پر اعتماد کا اظہارکرنا شروع کردیا ہے ۔ افراط زر، جو ایک وقت میں 13فیصد سے بڑھ گیا تھا کم ہو کر تقریباً 5فیصد ہوگیا ہے جس سے مہنگائی بھی نسبتاً کم اضافہ ہوا ہے۔
موجودہ بجٹ کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ حکومت کا ایک ایسا میزانیہ ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے حکومت مالی و سائل کے حوالے سے بہت غریب ہے ، اس کے اخراجات زیادہ اور آمدنی بہت کم ہے ۔ حکومت بجٹ سازی کے دوران بڑی محتاط نظر آتی ہے کیونکہ ملک میں بہ مشکل تمام کاروباری استحکام پیدا ہوا ہے، لہٰذا حکومت سخت گیر اقدامات سے گریز کرتی نظر آتی ہے تاکہ چند سو ارب روپے حاصل کرنے کی خواہش میں کہیں یہ استحکام خطرے میں نہ پڑ جائے ۔
ایک غریب حکومت سے زیادہ توقعات وابستہ کرنا درست نہیں ہوگا۔ یہ سمجھنا ہوگا کہ جب معیشت پائیدار انداز میں ترقی کرے گی، ٹیکس اصلاحات کا عمل مکمل ہوگا تب ہی حکومت کے پاس مالی وسائل دستیاب ہوں گے اور ایسے کام کرسکے گی جس کی اس وقت وہ محض تمنا کرسکتی ہے۔ جمہوری عمل کو جاری رہنا چاہیے تاکہ سیاسی استحکام کے نتیجے میں معیشت ترقی کرے اور اس کے ثمرات ان لوگوں تک پہنچ سکیں جن کی کئی نسلیں اس کی آرزو لیے پیو ند خاک ہوچکی ہیں۔