پھر وہی کیمیکل لوچا

ہمارے ساتھ تو تقریباً وہ ہو گیا جو ایک بے چاری بیوہ کے ساتھ ہوا تھا،


Saad Ulllah Jaan Baraq June 10, 2015
[email protected]

ہمارے ساتھ تو تقریباً وہ ہو گیا جو ایک بے چاری بیوہ کے ساتھ ہوا تھا، شوہر نامدار جو کچھ زیادہ ہی نامدار تھا کی وفات ''مسرت آیات'' پر جب ایک رات عزیز رشتے دار جمع تھے، مردوں کا جمگھٹا الگ تھا اور خواتین ذرا ہٹ کر بیھٹی ہوئی تھی، ایسی کہ مردوں کی باتیں سنائی دے رہی تھیں۔ ویسے بھی عورتیں کو ہمیشہ یہ تجس رہتا ہے کہ یہ مردوئے کیا باتیں کرتے ہیں۔ اسی ضمن میں ایک دن ایک عورت نے دوسری سے پوچھا کہ مرد لوگ ڈیروں اور بیٹھکوں میں کیا باتیں کرتے ہیں، دوسری جو ذرا جہان دیدہ تھی نے جواب دیا، ویسی ہی باتیں کرتے ہیں جیسے ہم تم کرتی ہیں۔

اس پر دوسری نے شرما کر کہا، ارے یہ مردوئے تو بڑے بے شرم ہیں، اتنی بری باتیں؟ چنانچہ مرحوم کی بیوہ بھی مردوں کی طرف کان لگائے بیٹھی تھی۔ مردوں میں مرحوم کی تعریفوں کے پل باندھے جارہے تھے۔

نام تو سب کو معلوم تھا، اس لیے بغیر نام لیے دنیا بھر کی صفات مرحوم میں ڈالی جارہی تھی۔ ایک نے اس کی بہادری اور دلیری کا قصیدہ پڑھا، دوسرے نے اس کی نیک دلی اور شرافت بیان کی، تیسرا اس کی سخاوت اور دیالو پن کے گیت گانے لگا، یوں مرحوم کو جب بانس پر چڑھا کر بہت اونچا کر دیا گیا تو اس کی بیوہ سے نہ رہا گیا، دوسری خواتین سے بولیں، یہ مرد لوگ بھی عجیب ہوتے ہیں، آئے ہیں میرے شوہر کا پرسہ دینے اور تعریف نہ جانے کس کی کر رہے ہیں؟ ہمارے ساتھ بھی ایسا ہی بلکہ اس سے کچھ زیادہ ہو رہا ہے، صبح اخبار اٹھاتے ہیں تو یہ بڑے بڑے جمبو قسم کے اشتہار چیختے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ بدل رہا ہے خیبر پختون خوا۔ اس مین ٹائٹل کے نیچے تقریباً ہر محکمہ کل والے محکمے سے آگے بڑھ کر اپنے کارنامے بتا رہا ہوتا ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ صوبہ خیبر پختون خوا کی مکمل طور پر کایا کلپ ہو چکی ہے، کرپشن کو دفن ہوئے تو عرصہ گزرا ہے، اب تو اس کی ہڈیاں بھی بھربھری ہو چکی ہوں گی، پٹواری کو پٹوا کر نہ جانے کہاں بھگا دیا گیا، تھانوں کی جگہ فلاحی ادارے دن رات لنگر چلا رہے ہیں، تعلیم کا محکمہ شاید ختم ہی کر دیا جائے کیوں کہ لٹریسی چار سو پچھتر فی صد ہو چکی ہے، صحت کا یوں ہے کہ سارے اسپتالوں کا عملہ ہاتھوں میں پھولوں کے ہار لیے دروازوں پر کھڑا رہتا ہے۔

تاکہ اگر کوئی مریض آئے تو یہ آگے بڑھ کر ۔۔۔۔ اے آمد نت مبارک ۔۔۔ اور چلتے چلتے ہی اس کا علاج معالجہ مکمل کر کے دوسرے دروازے سے یوں نیا نویلا رخصت کرے جیسے واشنگ مشین میں میلے کپڑے ڈال کر صاف اور استری شدہ کپڑے نکلتے ہیں یا کسی آٹو فیکٹری کے پہلے سے سرے پر زنگ آلود لوہا ڈالا جائے اور آؤٹ گوئنگ پر نئی چمک دار کار جلوے دکھاتی ہوئی برآمد ہو جائے، اب یہ تو ہو نہیں سکتا کہ بدل رہا ہے خیبر پختون خوا والے جھوٹ بول رہے ہوں کیوں کہ جھوٹ تو وہ کبھی بولتے ہی نہیں خاص طور پر ان محکموں کے وزیروں کے بارے میں تو ایسا سوچنا بھی گناہ عظیم ہے

ہے، ہے خدا نہ کردہ وہ اور دروغ گوئی
اے شوق منفصل یہ تجھے کیا خیال ہے

اس لیے ضرور یہ ہماری آنکھوں ناک کانوں اور بینائی میں کوئی کیمیکل لوچا پیدا ہو چکا ہو گا اور ضرور پیدا ہو گیا ہو گا کیوں کہ اپنے دماغ پر تو ہمیں ایک عرصے سے کسی خطرناک کیمیکل لوچے کا شک ہو رہا تھا اور اگر ہمیں یہ سب دکھائی نہیں دے رہا ہے تو یقیناً وہ ''بیوہ'' ہو رہے ہیں جس نے مردوں کی باتوں کا غلط مطلب لیا تھا، یہی شک ہمیں بھی تھا کیوں کہ اس بیوہ کی کہانی ہم نے سنی ہوئی تھی اس لیے پہلے خیال آیا کہ یہ کوئی اور جگہ ہو گی، شاید لیبر پختون خوا ہو، فیبر، کیبر، ویبر، نیبر پختون خوا ہو اور ہم اسے خواہ مخواہ بدل رہا ہے خیبر پختون خوا سمجھ رہے ہوں۔

کیوں کہ کتابت طباعت اور کمپوزنگ میں غلطی بھی تو ہو جاتی ہے لیکن پھر جب دوسرے تیسرے چوتھے پانچویں اخبار میں دسویں دن اٹھارویں محکمہ بھی یہی اعلان کر رہا تھا کہ بدل رہا ہے خیبر پختون خوا ۔۔۔ اور ہم نے باقاعدہ ہجے کر کر کے پڑھا تو واقعی ''خیبر پختون خوا'' ہی تھا جو بدل رہا تھا یعنی وہ پختون خوا جو خیبر بھی ہے اور وہ خیبر جو پختون خوا بھی ہے مطلب یہ کہ ''ٹو ان ون'' صوبہ تو پاکستان میں بس ایک ہی ہے کیوں کہ جناب اسفندیار ولی خان ہم تو پختون خوا مانگ رہے تھے انھوں نے (خدا جنت نصیب کرے) خیبر بھی ساتھ دے دیا، بائی ون گٹ ون فری، ایک ٹپہ کے مطابق

دیدن مے ووخت او خولہ ئے راکڑہ
خدا یہ سخی جنیئی لہ ورکڑے جنتونہ

یعنی میں تو اس سے صرف دیدار مانگ رہا تھا اور اس نے ساتھ میں بوسہ بھی دے دیا، خدا اس سخی لڑکی کو جنتیں عطا فرمائے، مطلب یہ کہ ذکر تو اسی پختون خوا کا ہے جو خیبر بھی ہے اور اسی خیبر کا ذکر ہے جو پختون خوا بھی ہے گویا ہمارے دماغ میں وہ ''لوچے'' والی بات صحیح ہے ، سامنے اتنا کچھ ہو چکا ہے اتنا کچھ ہو رہا ہے اور اتنا کچھ ہونے والا ہے اور ہمیں کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

لائی ہے زندگی میرے کس موڑ پر مجھے
آنکھیں ہیں اور کچھ نہیں آتا نظر مجھے

اس طرح جو بات یقینی ہو جاتی ہے، وہ ہمارے سر میں ''کیمیکل لوچے'' والی بات ہے، اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ ہم کسی بھی نزدیکی سرکاری اسپتال کا رخ کریں اہل کار تو ہاروں سمیت کھڑے ہوں گے ہی جو ہمیں ہاتھوں ہاتھ لے لیں گے لیکن کیس ذرا پیچیدہ ہے، اس لیے کھڑے کھڑے تو شاید علاج ممکن نہ ہو سکے اس لیے یقیناً ہمیں داخل کر لیا جائے گا، باقی اللہ مالک ہے لیکن امید ہے کہ سرکاری عملے کا ''دست شفا'' ہمیں مکمل صحت دلا دے گا اور پھر جب ہم اسپتال سے نکلیں گے تو یقیناً وہ ہی پختون خوا دیکھیں جو بدل چکا ہے بدل رہا ہے اور بدل کر رہے گا، دعا کریں کہ خدا ہمیں صحت کاملہ و عاجلہ ویسا ہی عطا فرمائے جیسا کہ اس دائم المریض خیبر پختون خوا کو نصیب ہوا ہے۔