میں نے ڈرون حملوں کی اجازت نہیں دی تھی پرویزمشرف

اجازت دی ہے تو موجودہ حکومت واپس کیوں نہیں لیتی، نوازشریف کوہٹانے کا فیصلہ درست تھا


Online October 14, 2012
اجازت دی ہے تو موجودہ حکومت واپس کیوں نہیں لیتی، نوازشریف کوہٹانے کا فیصلہ درست تھا۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر اورسابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ میری حکومت نے امریکا کو ڈرون حملوں کی اجازت نہیں دی تھی۔

ہم ڈرون حملوں کی مذمت کرتے ہیں، اگرکوئی یہ سمجھتا ہے کہ ڈرون حملوں کی اجازت ہم نے دی تھی تو موجودہ حکومت ڈرون حملے بندکرادے اور امریکا کو کہہ دے کہ سابق حکومت کا معاہدہ ختم ہوا اور سابق پالیسیاں بھی ختم ہوگئیں۔آل پاکستان مسلم لیگ کے کارکنوں سے ٹیلیفونک خطاب اور سوالوں کے جواب میں انھوں نے کہا کہ 2008 تک ہماری حکومت میں کے سال دوران سات سے آٹھ ڈرون حملے ہوئے تھے جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں سیکڑوں حملے ہوچکے ہیں پھر یہ اجازت ہم نے کیسے دی تھی؟۔

انھوں نے کہا کہ 12 اکتوبرکو نوازشریف کی حکومت برطرف کرنے کا فیصلہ درست تھا۔ یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا تھا۔ نوازشریف نے خود اپنے پائوں پر کلہاڑی چلائی۔ انھوں نے آئینی طریقہ کار کے برعکس غیرآئینی طریقہ اختیارکیا اورآرمی چیف کو برطرف کرنا چاہا۔ اس وقت پاکستان دیوالیہ ہو رہا تھا۔ نوازشریف ملک کا بیڑا غرق کررہا تھا۔ ہم نے پاکستان کو بچایا اور اسے ڈیفالٹ ہونے سے نکالاجب اپ کے پاس دو میں سے ایک ہی راستہ ہوکہ یا تو ملک بچے یا آئین تو آپ کیا کرینگے ؟

انھوں نے کہا کہ 2008 میں نہ تو ملک میں فر قہ واریت تھی، نہ کراچی میں لسانی جھگڑے تھے اور نہ ہی بلوچستان مین پنجابیوں اور ہزارے وال کا قتل عام ہو رہا تھا، یہ موجودہ حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہو رہا ہے، چوہدری شجاعت کے متعلق سوال پر مشرف نے کہا کہ لال مسجد، اکبر بگٹی کے واقعے سمیت ہرمعاملے میں پرویزالہٰی اور چوہدری شجاعت کے مشورے شامل تھے۔ شجاعت ذاتی مفاد کے لیے پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں جبکہ ہم آج بھی سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں۔ ذاتی مفادات کے حصول نے پاکستان میں منافقانہ سیاست کوجنم دیاہے۔

مقبول خبریں