’’ربڑ اسٹیمپ‘‘گورننگ بورڈ آج کیا کرے گا
اسی کلچر نے آج ہماری کرکٹ کو اس حال پر پہنچا دیا کہ ٹیم کی چیمپئنز ٹرافی میں شرکت مشکوک دکھائی دے رہی ہے
کرکٹ سے تعلق رکھنے والا ہر شخص جانتا ہو گاکہ پی سی بی کا ایک بورڈ آف گورنرزبھی ہے،اس کا کام کھیل کے فروغ کیلیے تجاویزکا جائزہ لینا اور ہر بڑی تقرری کی منظوری وغیرہ دینا ہوتا ہے، شاید میں غلط ہوں مگر مجھے یاد نہیں پڑتا کہ کبھی گورننگ بورڈ نے حکام کے کسی فیصلے کو مسترد کیا ہو، اسی لیے اسے 'ربڑ اسٹیمپ 'کہا جاتا ہے، ارکان کو ہر چند ماہ بعد اجلاس کیلیے جمع ہونے پر10ہزار روپے یومیہ الاؤنس، فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام اور مفت سفری سہولتیں حاصل ہوتی ہیں،میٹنگ میں سب اکھٹے ہوکرچائے نوش کرتے ہوئے ارباب اختیار کی باتوں پر' یس سر' کہہ کر گھروں کو چل دیتے ہیں۔
اس میں بعض اچھے لوگ بھی ہیں جنھوں نے''آسٹریلیا کے تفریحی دورے'' سے انکار کیا اور خاموشی سے مثبت اقدامات میں مصروف رہتے ہیں، مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنے گا اسی لیے خاموش رہنا پڑتا ہے، مضبوط اپوزیشن نہ ملنے کی وجہ سے ہی بورڈ میں اب بھی چند چہرے من پسند فیصلے کر لیتے ہیں،ایسے میں جمہوریت کا دعویٰ فضول قرار دیا جا سکتا ہے، ملکی کرکٹ کی تباہی کا سبب بننے والے کئی خراب فیصلوں کی منظوری اسی گورننگ بورڈ نے دی، جواب میں اسے کیا فائدہ ملتا ہے یہ شاید ایک راز ہے۔
البتہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ ورلڈکپ میچز دیکھنے کیلیے گورننگ بورڈ ارکان کو اہلیہ کے ساتھ آسٹریلیا و نیوزی لینڈکے دورے کا موقع دیا گیا تھا،کئی نے اس پیشکش سے فائدہ اٹھایا،البتہ بورڈ نے یہ جواب دینا ضروری نہ سمجھا کہ کروڑوں روپے فضول میں خرچ کرنے کااسے کیا فائدہ حاصل ہوا،اب کوئی یہ نہ کہے کہ آپ کو معلوم نہیں کہ اسی گورننگ بورڈ کے ایک ممبر کا قریبی رشتہ دار حال ہی میں قومی ٹیم میں شامل ہوا ہے، اسی طرح ایک اور رکن اپنے شہر کے کرکٹرز کو زیادہ باصلاحیت نہ ہونے کے باوجود قومی ٹیم میں شامل کرا دیتا ہے، دیگر شہروں کے پلیئرز بھی اگر اس کی ٹیم سے کھیلیں تو قومی ٹیم میں آ جاتے ہیں، سب سے دلچسپ صورتحال اب پیدا ہونے والی ہے۔
پی سی بی کے سربراہ شہریارخان مکمل اختیارات کے ساتھ کام کرنے کا خواب بکھرنے پر اب کچھ نیا سوچ رہے ہیں، نجم سیٹھی نے آئی سی سی کی صدارت چھوڑ کر انھیں واضح پیغام دیا کہ وہ ملکی کرکٹ کے معاملات میں کردار ادا کرتے رہیں گے،گذشتہ دنوں شہریارخان نے کراچی میں اعلان کیا تھا کہ وہ سابق کرکٹرز پر مشتمل کرکٹ کمیٹی بنائیں گے جو شکیل شیخ کی زیرسربراہی کمیٹی کی جگہ لے گی، شکیل کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ سابق سربراہ کی انتہائی قریبی شخصیت ہیں۔
ان کے طاقتور ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس کرکٹ کمیٹی کے وہ چیئرمین ہیں اقبال قاسم، انتخاب عالم، ذاکر خان اور ہارون رشید جیسے کرکٹرز اس کے ارکان ہیں، یوں کرکٹرز کی کمیٹی کا سربراہ ایک نان کرکٹر ہے، یہ فہرست دیکھ کر آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ارے بھئی5میں سے 4ارکان تو ویسے ہی کرکٹرز ہیں تو شہریارخان کو یہ کہنے کی ضرورت کیوں پیش آ گئی کہ سابق کھلاڑیوں کو اس میں لائیں گے، اب یہ بھی مجھے بتانا پڑے گا کہ اس کا مقصد شکیل شیخ کو ہٹانا ہے۔
جنھوں نے گذشتہ دنوں ایک انٹرویو میں ماجد خان سمیت کئی سابق عظیم کرکٹرز کو ''ڈفر'' قرار دیا تھا، جس شخص کی ایسی سوچ ہو وہ ملکی کرکٹ کیلیے کیسے اچھے فیصلے کر سکتا ہے، سابق کرکٹر محمد وسیم مجھ سے کئی بار ٹویٹر پر شکوہ کر چکے کہ میں نے اس موضوع پر کچھ نہیں لکھا شاید اب انھیں بھی کچھ تسلی ہو جائے، سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ہفتے کو لاہور میں نئی کرکٹ کمیٹی کی جو گورننگ بورڈ منظوری دے گا یا تجویز کو مسترد کرے گا اس میں شکیل شیخ اور اقبال قاسم ویسے ہی موجود ہیں، اب وہ اپنے آپ کو نکالنے کی بات کیسے منظور کریں گے؟
گورننگ بورڈ میں نجم سیٹھی بھی ہیں، ان سب کا دیگر ارکان پر بھی اثرورسوخ ہو گا، اب آپ اندازہ لگائیں کہ ملک میں کرکٹ کے معاملات کیسے چلائے جا رہے ہیں، جس کو ہٹانا ہے وہی اپنے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ دیکھتے ہیں کہ گورننگ بورڈ کیاکرتا ہے، ممکن ہے ہفتے کو پہلی بار کسی تجویز کی مخالفت سامنے آ جائے یوں یہ کہا جائے گا کہ دیکھا ہم ربڑ اسٹیمپ نہیں ہیں تجاویز کو مسترد بھی کرتے ہیں، مگر اس کی وجہ کیا ہو گی وہ اب آپ بخوبی جان گئے ہوں گے، اگرواقعی بورڈ کو کرکٹ کمیٹی بنانی ہے تو اس میں اقبال قاسم، انتخاب عالم، ذاکر خان، ہارون رشید، محمد اکرم اورباسط علی وغیرہ جیسے خود سے منسلک افراد کو کسی صورت نہ رکھیں۔
جاوید میانداد، عبدالقادر، راشد لطیف اور ایسے کئی سابق عظیم کھلاڑی بھی موجود ہیں انھیں موقع دیا جائے، ان کا کوئی مفاد وابستہ نہیں لہذا درست فیصلوں میں مدد دے سکیں گے، اگر اپنے ہی من پسند افراد پر مشتمل کرکٹ کمیٹی بنانی ہے تو اس سے کچھ حاصل نہ ہوگا، سب ''یس سر،ضرور سر'' کہتے ہوئے اپنے فائدے حاصل کرتے رہیں گے۔ اسی کلچر نے آج ہماری کرکٹ کو اس حال پر پہنچا دیا کہ ٹیم کی چیمپئنز ٹرافی میں شرکت مشکوک دکھائی دے رہی ہے،نجانے ارباب اختیار کب ہوش کے ناخن لیتے ہوئے جلدکچھ اچھے اقدامات کریں گے،تب تک انتظار کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔