سندھ کا بجٹ اورعوام کی توقعات

بجٹ میں ترقیاتی کاموں کے لیے 213ارب روپے، تعلیم پر 144ارب، امن و امان پر65 ارب روپے، صحت پر 57ارب روپے خرچ ہوں گے


Editorial June 15, 2015
سندھ کے بجٹ میں جو جو اہداف مقرر کیے گئے ہیں‘ وہ اس وقت ہی حاصل ہو سکتے ہیں‘ جب تمام منصوبے کرپشن سے پاک ہوں۔ فوٹو : فائل

وفاقی بجٹ کے بعد سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کے شور شرابے میں سندھ کا 12 ارب 72کروڑ 76لاکھ روپے خسارے پرمشتمل 7 کھرب 39 ارب 30 کروڑ 18 لاکھ روپے کابجٹ پیش کردیا گیا۔ بجٹ میں ترقیاتی کاموں کے لیے 213ارب روپے، تعلیم پر 144ارب، امن و امان پر65 ارب روپے، صحت پر 57ارب روپے خرچ ہوںگے،سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، مزدور کی کم سے کم تنخواہ 13 ہزار روپے مقررکی گئی ہے۔

پولیس میں 10 ہزار اہلکاروں کی بھرتیوں سمیت روزگار کے 14 ہزارسے زائد نئے مواقعے پیدا ہوں گے، وطن عزیز میں سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی' بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کا خاتمہ اور امن وامان کی بحال ہے۔ گزشتہ برس کے مقابلے میں آیندہ سال کے لیے امن و امان کے میزانیے میں 11 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، پولیس کے لیے بلٹ پروف موبائل، بلٹ پروف جیکٹس، بلٹ پروف ہیلمٹس اور سی سی ٹی وی کیمروں کے لیے 4 ارب روپے سے زائد جب کہ اسلحہ اور دیگر اثاثوں کے لیے 2 ارب روپے رکھے گئے، دیگر فورسزرینجرز و ایف سی کے لیے ساڑھے 3 ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔

کراچی میں جو آپریشن جاری ہے اس پر کثیر اخراجات آرہے ہیں، عوام توقع رکھتے ہیں جلد ازجلد اس آپریشن سے مثبت نتائج حاصل کر کے امن بحال کیا جائے گا۔ پنجاب کے بھاری بھرکم بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ساڑھے سات فیصد اضافہ کا اعلان ہوا ہے جب کہ سندھ کا بجٹ اس مد میں پنجاب پر بازی لے گیا ہے کیونکہ یہاں سرکاری ملازمین کو اپنی تنخواہوں میں دس فیصد جب کہ میڈیکل الاؤنس میں پچیس فیصد اضافہ ملے گا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ حوصلہ افزا اقدام ہے، البتہ مزدور کی کم سے کم تنخواہ جو مقرر کی گئی وہ مہنگائی کے لحاظ سے کم ہے، دوسرا اس پر نجی شعبے سے عمل کروانا حکومت کا اولین فرض ہے ۔ کراچی پاکستان کی معیشت کا دل ہے، اور اسی دل کی دھڑکن سے ملکی معیشت کی رگوں میں خون دوڑتا ہے، کراچی ڈویژن کے لیے49ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے۔

5 بس ریپیڈ ٹرانزٹ ، 2 میٹروریل ٹرانزٹ منصوبے تیار، فراہمی و نکاسی کے بڑے منصوبوں کے فور اور ایس تھری کے لیے بھی رقوم مختص کی گئی ہیں۔حیدر آباد کے لیے 35 ارب' سکھر کے لیے 27 ارب روپے' لاڑکانہ کے لیے 33 ارب روپے' میر پور خاص کے لیے 35 ارب روپے جب کہ شہید بینظیر آباد ڈویژن کے لیے 18 ارب روپے مختص کیے۔ کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے' اس شہر کی تعمیر و ترقی کے لیے زیادہ بجٹ مختص کیا جانا چاہیے تھا۔ محکمہ توانائی کے لیے25.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں25 ارب روپے کی رقم حکومت کے مختلف محکموں پرکے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکوکے بجلی کے بلوں کی مد میں واجبات کی ادائیگیوں کے لیے رکھے گئے ہیں۔

تھرکول منصوبے کی 4 اسکیموں کے لیے 9.790 ارب روپے اور توانائی کے 4 اسکیموں کے لیے6.710 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ سال2014-15 میں توانائی کے لیے13.833 ارب روپے مختص کیے گئے تھے جس میں تھرکول کے لیے8.833 ارب روپے اور توانائی کے لیے5 ارب روپے مختص تھے، سندھ کے نئے بجٹ میں تھرکول کی جن 4 نئی اسکیموں کے لیے رقم مختص کی گئی ہے ان میں سندھ پاورپالیسی(تمام اضلاع) کے مطابق تمام اقسام کے پاور جنریشن ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن منصوبوں کے نفاذ سے متعلق رہنما اصولوں، طریقوں کی تیاری کے لیے ایک کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں ۔توانائی کے بحران کا پورے ملک کو سامنا کرنا پڑرہا ہے ، صنعتی ترقی کا عمل رک سا گیا ہے۔

بلاشبہ سندھ میں بجلی کی پیداوار بڑھانے میں تھرکول کا منصوبہ انتہائی مفید ثابت ہوگا اور اس سے بجلی کے بحران کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔ یہ پالیسی بہت اچھی ہے، مطلوبہ فنڈز کی فراہمی سے عوام کی زندگیوں میں سکون وراحت میسر آئے گا۔ صوبائی وزیر خزانہ مراد علی شاہ نے بجٹ پیش کیا تو بجٹ تقریر کے آغاز پر ہی چھوٹی اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا اور نشستوں پر کھڑے ہو کر نعرے بازی کی' بعد میں اسپیکر کے ڈائس کے سامنے کھڑے ہو کر نعرے لگائے اور بعدازاں اپوزیشن کے ارکان نے ایوان سے واک آؤٹ کیا اور کچھ دیر بعد ارکان ایوان میں واپس آ گئے۔

ادھر متحدہ قومی موومنٹ نے بجٹ کو متعصبانہ اور شہری دشمن قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے اور گزشتہ روز ایم کیو ایم کی اپیل پر کراچی میں آدھے دن کی شٹر ڈاؤن ہڑتال بھی کی گئی جو دوپہر ایک بجے کے بعد ختم ہوئی۔ پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ سندھ کی بڑی سیاسی جماعتیں۔ پیپلز پارٹی برسراقتدار ہے اور اس نے بجٹ پیش کیا ہے۔ سندھ کے عوام کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں سیاسی جماعتوں کو مثبت طرز عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ مجموعی طور پر سندھ کے بجٹ کو متوازن قراردیا جاسکتا ہے تاہم ایم کیو ایم کے تحفظات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے اور اپوزیشن کی چھوٹی جماعتوں کے تحفظات پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔

سندھ میں دیہی اور شہری تقسیم میں توازن برقرار رکھا جانا لازمی ہے۔ دیہی سندھ اور شہری سندھ دونوں بجٹ سے مطمئن ہوں گے تو صوبے میں ترقی کا سفر یکساں رفتار سے جاری رہے گا۔ سندھ کے بجٹ میں جو جو اہداف مقرر کیے گئے ہیں' وہ اس وقت ہی حاصل ہو سکتے ہیں' جب تمام منصوبے کرپشن سے پاک ہوں ، اور فنڈز کا درست انداز میں استعمال کیا جائے تو عوام کو بجٹ سے حقیقی ریلیف ملے گا۔