جنرل راحیل شریف کا ملکی تحفظ یقینی بنانے کا عزم

یہ بات انتہائی لائق تحسین ہے کہ دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارے کے لیے پوری قوم متحد اور پرعزم ہے۔


Editorial June 15, 2015
آپریشن ضرب عضب کے دوران پاک فوج کے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے شمالی وزیرستان کے 90 فیصد علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا ہے۔ فوٹو : فائل

پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے ہفتہ کو کراچی میں نیول اکیڈیمی میں پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف دشمن کے عزائم کو خاک میں ملا دینگے، لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں ناقابل برداشت ہیں، پوری دنیا ہمارے سیکیورٹی خدشات سے آگاہ ہے،کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزی، بلوچستان، قبائلی علاقوں اورکراچی میں خونریزی دشمن کے مذموم ارادوں کی عکاس ہے، مسلح افواج خواہ کشمیرکا معاملہ ہو یا نئی بندرگاہوں کی تعمیر یا پھر قدرتی وسائل سے استفادہ، ملک کے مفادات کے تحفظ کے لیے کوئی بھی قیمت چکانے کے لیے تیار ہیں، اس کے لیے کسی قربانی سے گریز نہیں کرینگے، گوادر بندرگاہ کی خطے میں ایک انتہائی اسٹرٹیجک اہمیت ہے جسے ہر قیمت پرتعمیر کیا جائے گا۔

آرمی چیف نے کہا ہم خطے کے عوام کی زندگیاں بدلنے کی صلاحیت کے حامل راہداری منصوبے کے خلاف دشمن کی مہم سے بخوبی آگاہ ہیں، پاکستان نے امن کے لیے دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے تاہم وہ ایسا اپنے قومی مفادات، خودمختاری اور قومی وقار کی قیمت پر نہیں کر سکتا۔ پوری قوم دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے، آپریشن ضرب عضب کے فیصلہ کن نتائج برآمد ہو رہے ہیں اور دہشت گرد اب مایوسی میں اکا دکا کارروائیاں کر رہے ہیں' مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف تنہا جنگ نہیں جیت سکتیں اور یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ اس قومی مقصد کے حصول کے لیے پوری قوم سینہ سپر ہے۔ پاکستان تمام ممالک کے ساتھ امن سے رہنا چاہتا ہے لیکن اس کے لیے ملکی مفادات، خود مختاری اور قومی وقار پر کوئی سودے بازی نہیں ہو گی۔ یہ بات انتہائی لائق تحسین ہے کہ دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارے کے لیے پوری قوم متحد اور پرعزم ہے۔

جب سے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا اعلان ہوا ہے تب سے اندرون اور بیرون ملک اس کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں' اندرون ملک سے اٹھنے والی مخالفانہ آوازوں پر تو حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس بلا کر اس پر اتفاق رائے حاصل کر لیا مگر خارجی سطح پر بھارت اس منصوبے کے خلاف مسلسل واویلا مچا رہا ہے جس پر حکومت پاکستان بارہا یہ واضح کر چکی ہے کہ اس منصوبے سے بھارت کو بھی فائدہ پہنچے گا لہذا وہ اس کی مخالفت نہ کرے۔ سیاسی ' عسکری قیادت سمیت قومی اور صوبائی سطح پر سوائے چند کے تمام سیاستدان اس امر پر متفق ہو چکے ہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ہر صورت میں پایہ تکمیل تک پہنچنا چاہیے۔ یہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا منصوبہ ہے' ملک بھر میں اس راہداری کے قریب متعدد مقامات پر صنعتی زون قائم کیے جائیں گے جس سے جہاں بیروز گاری پر قابو پانے میں مدد ملے گی وہاں صنعتی انقلاب کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

بھارت سمیت کچھ غیر ملکی قوتیں نہیں چاہتیں کہ پاکستان ترقی اور خوشحالی کی جانب آگے بڑھے وہ اسے مسلسل معاشی اور امن و امان کے مسائل میں الجھائے رکھنا چاہتی ہیں لہٰذا وہ اس منصوبے کے خلاف پروپیگنڈا میں جت گئی ہیں۔ اب آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے اس منصوبے کی مخالف قوتوں کو عندیہ دے دیا ہے کہ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود اس منصوبے کو ہر صورت مکمل کیا جائے گا۔ بھارت سرحدوں پر کشیدگی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو داخلی طور پر کمزور کرنے کے لیے دہشت گرد اور انتہا پسند قوتوں کی معاونت کر رہا ہے۔ یہ حقیقت آشکار ہو چکی ہے کہ کراچی اور بلوچستان میں ہونے والی گڑ بڑ کے پیچھے بھی بھارت کا ہاتھ ہے اور پاکستان اس کے ٹھوس شواہد عالمی سطح پر پیش کر چکا ہے۔

گزشتہ دنوں میانمار پر نام نہاد حملے کی آڑ لے کر بھارتی حکومت نے یہ پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ وہ اس طرح کی کارروائی پاکستان کے خلاف بھی کر سکتا ہے۔ جس کا پاکستانی حکومت نے بھرپور جواب دیا کہ اگر بھارت نے کوئی ایسی مذموم حرکت کرنے کی کوشش کی تو اسے سخت ردعمل کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اب آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے واضح کر دیا ہے کہ پاک فوج نہ صرف سرحدوں کا بھرپور دفاع کرے گی بلکہ اندرون ملک امن و امان کے مسائل پیدا کرنے والی قوتوں کے خلاف بھی بھرپور کارروائی کرے گی' انھوں نے کہا کہ پاکستان تمام ممالک کے ساتھ امن سے رہنا چاہتا ہے لیکن اس کے لیے ملکی مفادات' خود مختاری اور قومی وقار پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔

پاکستان نے بھارت کو باہمی تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بارہا پیش کش کی ہے مگر موجودہ بھارتی حکومت کی جانب سے مثبت اور ذمے دارانہ رویے کا اظہار نہیں کیا جا رہا۔ پوری قوم دہشت گردی کی لعنت سے چھٹکارا پانے کے لیے متحد اور پرعزم ہے۔ آپریشن ضرب عضب کے دوران پاک فوج کے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے شمالی وزیرستان کے 90 فیصد علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا ہے اس طرح دہشت گردوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ ہونے سے ملک بھر میں دہشت گردی کی وارداتوں میں خاطر خواہ کمی آئی ہے اور پوری قوم نے پاک فوج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے سکون کا سانس لیا ہے۔