مودی کی زہر افشانیاں
برصغیر اور جنوبی ایشیا کے بہتر مستقبل کا ہر خواہش مند اس حقیقت کا ادراک رکھتا ہے
برصغیر اور جنوبی ایشیا کے بہتر مستقبل کا ہر خواہش مند اس حقیقت کا ادراک رکھتا ہے کہ جب تک ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تعلقات بہتر نہیں ہوں گے اس خطے کے بہتر مستقبل کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کے لیے دونوں ملکوں کے حکمرانوں کو روایتی سیاست سے ہٹ کر جرأت مندانہ فیصلے کرنے ہوں گے۔
بدقسمتی سے دونوں ملکوں خصوصاً بھارت کی سیاسی قیادت نے کشمیر کے حوالے سے جو بے لچک مؤقف اختیار کیا ہے اس کے پس منظر میں اس موقف سے پسپائی بھارتی عوام میں ناراضی پیدا کرسکتی ہے لیکن اگر عوام کے بہتر مستقبل کی خاطر عوام کی پیدا کی ہوئی توقعات کے برعکس فیصلے بھی کیے جاتے ہیں تو عوام جلد یا بدیر ان فیصلوں کو قبول کرلیتی ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ اس قسم کے فیصلوں کے لیے جس قسم کے سازگار ماحول کی ضرورت ہوتی ہے ۔
اس قسم کا ماحول پیدا کرنے کے بجائے ایسی احمقانہ تقاریر کی جارہی ہیں جس سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔بھارت کے وزیر داخلہ اور وزیر دفاع کے احمقانہ اور اشتعال انگیز بیانات کی صدائے باز گشت ابھی باقی ہی تھی کہ بھارت کے عاقل و بالغ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے دورہ بنگلہ دیش کے دوران ایسے جارحانہ بیانات دیے ہیں کہ پاکستان میں اس کا شدید ردعمل ایک منطقی بات ہے۔ مودی نے ڈھاکا بندھو کنونشن سینٹر میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بنگلہ دیش کے قیام کی جنگ میں بھارتی فوجیوں کا خون بھی شامل ہے، جب بنگلہ دیش کی علیحدگی کے لیے مکتی باہنی والے اپنا خون بہارہے تھے تو بھارتی بھی کندھے سے کندھا ملائے ان کے ساتھ تھے۔
مہاشے نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ یہ بھی فرمادیا کہ میں بھی بنگلہ دیش کی علیحدگی کی تحریک میں ایک رضاکار کی حیثیت سے شریک تھا۔ مودی کا تعلق ایک انتہائی غریب گھرانے سے ہے، وہ ایک ہوٹل میں باہر والے کی حیثیت سے کام کرتے تھے، اسی نسبت سے اگرچہ بھارتی جمہوریت کو سر بلند کردیا لیکن مودی کو اب یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ اب ہوٹل کا باہر والا نہیں ہے بلکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور آبادی کے حوالے سے دنیا کے دوسرے بڑے ملک کے وزیراعظم ہیں۔ اس قابل فخر پوزیشن میں قابل شرم بیانات دینا کسی طرح بھی مودی کو زیب نہیں دیتا۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان ایک مہاشے نے ٹوئیٹر پر لکھا ہے کہ ''ہر بھارتی چاہتا تھا کہ بنگلہ دیش کی علیحدگی کا خواب حقیقت بنے گا''۔
ہمارا خیال ہے کہ اس قسم کے احمقانہ بیانات سے نہ دونوں ملکوں کو کوئی فائدہ مل سکتا ہے نہ دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان محبت اور بھائی چارے کی فضا پیدا ہوسکتی ہے۔ البتہ دونوں ملکوں میں مذہبی انتہاپسندی کے استحکام میں مدد مل سکتی ہے۔ نریندر مودی نے فرمایا ہے کہ دہشت گردی انسانیت کی دشمن ہے اور تمام انسان دوست قوتوں کو مل کر اس عفریت کے خلاف لڑنا ہوگا۔ مودی کی یہ بات بالکل درست ہے لیکن حیرت اس بات پر ہے کہ ایک طرف تو مودی دہشت گردی کو انسانیت کی سب سے بڑی دشمن طاقت کہہ رہے ہیں اور دوسری طرف ایسے بیانات داغ رہے ہیں جو صرف پاکستان ہی میں نہیں بلکہ بھارت میں بھی مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔
حسینہ واجد کی سیاست بدقسمتی سے غیر متوازن رہی ہے، بے شک 1971 سے پہلے مشرقی پاکستان کے عوام کے ساتھ مغربی پاکستان کی سول اور فوجی بیورو کریسی نے بہت زیادتیاں کی ہیں لیکن ان زیادتیوں میں پاکستانی عوام شامل تھے نہ ان کی مرضی شامل تھی بلکہ دونوں ملکوں کے عوام اپنی غلطیوں کا ازالہ کرکے اپنے درمیان محبت اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنا چاہتے تھے۔
جس کا میں ذاتی طور پر گواہ ہوں اور 1970 میں اپنے دورۂ ڈھاکا کے دوران میں نے اس قسم کے جذبات کا مشاہدہ کیا ہے۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد بھارت دوستی کے نشے میں اس قدر سرشار ہیں کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کے آداب تک کا خیال کرنے کے لیے تیار نظر نہیں آتیں۔ بے شک وہ بھارت سے دوستی رکھیں لیکن دوستی ایسی اعتدال پسندانہ اور غیر جانبدارانہ ہو کہ کسی مہمان کو اول فول بکنے کی بحث نہ ہو۔
برصغیر اور جنوبی ایشیا کے عوام کے بہتر مستقبل کے لیے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات ناگزیر ہیں اور بھارتی وزیراعظم بھی کبھی کبھی یہ سریلا راگ الاپتے دکھائی دیتے ہیں لیکن جب دو متحارب ممالک کے درمیان جنگی تاریخ کشیدگی جنگوں اور نفرتوں سے بھری ہوئی ہو تو سیاسی قیادتوں کا فرض اور ذمے داری ہے کہ وہ اپنی گفتگو میں غیر معمولی احتیاط کا مظاہرہ کریں۔ حیرت ہے کہ نریندر مودی کہہ رہے ہیں کہ وہ بنگلہ دیش کی تحریک آزادی میں ایک رضاکار کی حیثیت سے شریک تھے۔ مشرقی پاکستان، پاکستان کا ایک اٹوٹ انگ تھا اس انگ کی علیحدگی کی جنگ میں مودی خود شریک تھے جب کہ کشمیر ابتدا سے ایک متنازعہ علاقہ ہے بلکہ اس کا نصف کے قریب حصہ پاکستان کے ساتھ منسلک ہے۔
اگر کشمیر میں رائے شماری کروائی جائے تو 90 فیصد عوام بھارتی غلامی اور جبر سے آزادی کے حق میں رائے دیں گے اور اقوام متحدہ جیسے بین الاقوامی ادارے نے کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کیا ہے۔
ایسے متنازعہ اور مذہبی پس منظر والے خطے میں اگر ''عوام'' آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں تو کیا پاکستان کو ان کی مدد نہیں کرنی چاہیے؟ یہ سوال کشمیر کی جنگ آزادی کی حمایت کے حوالے سے نہیں کیا جارہا ہے بلکہ بنگلہ دیش کے دورے کے دوران بھارتی وزیراعظم کے انتہائی اشتعال انگیز بیانات کے پس منظر میں کیا جارہا ہے۔
مودی کے بیانات بلاواسطہ بھارتی سیکولر سیاست کی روح کے خلاف ہیں، ان بیانات سے دونوں ملکوں کی انتہاپسند طاقتوں کو تو فائدہ پہنچ سکتا ہے اور دہشت گردی میں اضافہ تو ہوسکتا ہے لیکن دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کی رہی سہی امیدیں بھی ختم ہوجاتی ہیں۔ کیا بھارت کی وہ طاقتیں اور میڈیا جو دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کو اس پورے خطے کے عوام کے بہتر مستقبل کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے، کیا وہ مودی کی بکواس کے مضمرات کو سمجھتا ہے؟ اب وقت آگیا ہے کہ بھارتی عوام کے بہی خواہ بھارتی حلقے مودی کی ناک میں نکیل ڈالنے کی کوشش کریں۔