بلدیاتی انتخابات آتے ہیں غیب سے …
وہی جس کا وعدہ تھا جو لوح ازل میں لکھا ہمیں کوئی ’’چشم دید‘‘ گواہ تو نہیں ملا ہے ل
افسوس صد افسوس بلکہ صد سے بھی بے حد زیادہ افسوس کہ تحریک انصاف کی صاف شفاف بلکہ عفاف حکومت کے خلاف جدی پشتی ''منفی تنقیدیوں'' نے منفی تنقید بلکہ منفی پروپیگنڈے کا ایک پورا توپ خانہ کھول دیا ہے۔
پورے توپ خانے اور منفی آرٹلری کے ساتھ حملہ آور ہوئے ہیں خاص طور پر بلدیاتی انتخابات کو لے کر منفی تنقید کو اپ گریڈ کر کے منفی پروپیگنڈے کا جو شور شرابا برپا کیا جارہا ہے وہ نہایت ہی افسوس ناک، شرم ناک، تشویش ناک، خطرناک اور ناک ناک ہے، اب آپ اتنے بھی تو نالائق نہیں ہیں کہ ہم ''خدا'' کے بارے میں بھی آپ کو بتاتے پھریں، مطلب اس سارے بیان کا یہ ہے کہ کوئی دھاندلی نہیں ہوئی ہے، انتخابات قطعی صاف شفاف عفاف کفاف اور منبی بر انصاف تھے۔
وہی جس کا وعدہ تھا جو لوح ازل میں لکھا ہمیں کوئی ''چشم دید'' گواہ تو نہیں ملا ہے لیکن بے شمار ''چشمہ دید'' گواہ پیش کر سکتے ہیں جو کسی بھی گیتا، سیتا، انتیا، پری نیتا بلکہ ببلی ببیتا پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا سکتے ہیں کہ انتخابات شیشے کی طرح صاف، شبنم کی طرح شفاف اور کانچ کی طرح نظاف ہوئے ہیں اور جن چیزوں کو منفی تنقیدیے دھاندلی کہتے ہیں وہ دھاندلی بالکل نہیں تھی کیوں کہ دھاندلی تو چوری چھپے ہوتی ہے اور یہاں جو کچھ ہوا علی الاعلان برسر میدان اور ڈنکے کی چوٹ پر ہوا ہے یعنی ہاتھوں میں چراغ بلکہ ٹارچ بلکہ سرچ لائٹ لے کر کیا گیا ہے اور اس میں تحریک انصاف یا صوبے کی شفاف حکومت کا کوئی ہاتھ نہیں تھا بلکہ سب کچھ اوپر سے یعنی نوشتہ تقدیر کے مطابق ہوا ہے۔
دراصل غیبی قوتوں نے وہی کیا ہے جو ہونا تھا اور پڑوسی ملک کی تازہ ترین آکاش وانی کے مطابق جب کرنے والے کرنے کی ٹھان لیتے ہیں تو پوری کائنات اس کرنے میں لگ جاتی ہے یعنی جب جب جو جو ہوتا ہے تب تب سو سو ہوتا ہے اور یہ کون نہیں جانتا کہ کائنات میں ایسی بے شمار قوتیں ہیں جو نادیدہ ناشنیدہ ناامیدہ ہو کر بھی سب کچھ کر سکتی ہیں، یہ معمولی قسم کے کام جیسے ووٹوں کی کاپیاں بنڈلوں کے بنڈل چھانپا پہنچانا پھیلانا اور صندوقوں میں ڈالنا تو چھوٹی چھوٹی شعبدہ بازیاں ہیں۔
ہمیں اچھی طرح یاد ہے 1965ء کی جنگ جو حضرت ایوب خان کی ولولہ انگیز قیادت میں لڑی گئی تھی اور ابتداء انھوں نے کلمہ طیبہ سے کرتے ہوئے بھارت کو چتاؤنی دی تھی کہ تم نہیں جانتے تم نے کس قوم کو للکارا ہے اور بھارت کیا پھر ساری دنیا جان گئی کہ اس نے کس قوم کو للکارا ہے اور جب لال بہادر شاستری کو بمقام تاشقند اس حقیقت کا ادراک ہو گیا تو وہیں پر چٹ پٹ ہو گیا۔
مر گیا صدمہ یک جنش لب میں غالب
ناتوانی میں حریف دم عیسیٰ نہ ہوا
دم عیسیٰ کے بجائے وہ ''حریف دم بکری'' نہیں ہوا تھا، ہاں تو اس جنگ کا واقعہ ہے، ہمیں کئی ایک چشم دید گواہوں نے بتایا کہ جنگ کے دوران جب بھارتی طیارے راوی اور اٹک پل پر بم گراتے تھے تو ''پل'' کے اوپر ایک سبز پوش بزرگ کھڑے اپنی انگلی سے اشارہ کرتے تھے اور بم پل سے اپنا رخ موڑ کر دریا میں جا گرتا تھا بلکہ ایک چشم دید گواہ نے ہم کو بصیغہ راز بتایا کہ لال بہادر شاستری اپنی کابینہ اور جرنیلوں کے ساتھ واہگہ بارڈر پر کھڑا تھا کہ جیسے ہی لاہور فتح ہو وہ جا کر لاہور جم خانہ میں ناؤ و ونوش کریں، ناؤ و نوش کا سامان بھی تھا، اوہو ہم بھی کیا پرانے قصے لے بیٹھے۔
اس لیے ہم نے اپنی معلومات کا ذریعہ چشمہ دید گواہوں کو بنایا، ان چشمہ دید گواہوں نے انصاف کے اس ترازو پر ہاتھ رکھ کر حلفیہ کہا ہے جو تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے مشترکہ طور پر کھڑا کیا ہوا ہے اور جس کے لیے ''باٹ'' عوامی اتحاد نامی ادارے نے مہیا کیے ہیں ''باٹ'' تو سمجھتے ہیں نا آپ ... جن کے بارے میں انور مسعود نے کہا ہے کہ
یہی معیار دیانت ہے تو کل کا تاجر
برف کے باٹ لیے دھوپ میں بیٹھا ہو گا
لیکن چشمہ دید گواہوں نے اس ترازو اور باٹوں پر ہاتھ رکھ کر کہا ہے کہ تاجر دھوپ میں نہیں بلکہ سائے میں بیٹھا ہے البتہ ترازو اور باٹوں پر دھوپ اتر رہی ہے، ان چشمہ دید گواہوں کے مطابق انھوں نے بہ چشمہ خود دیکھا کہ ہر پولنگ اسٹیشن کے اوپر الیکشن سے ایک دن پہلے کی شام کو اوپر سے کچھ مخلوقات اتر رہی تھیں جو سبز پوش نہیں بلکہ ''ست رنگی'' لباس میں ہوتی تھیں۔
وہ انگلی سے اشارہ کرتی تھیں اور غیب سے پرچیاں پتنگوں کی طرح اڑتی ہوئی آکر صندوقوں کا رخ کرتی تھیں، ایسے دو چار نہیں بلکہ درجنوں چشمہ دید گواہوں سے ہم نے انٹرویو کیا ہے، سب کے بیانات ایک جیسے تھے، تھوڑا سا فرق ایک دو چشمہ دید گواہوں کے بیانات میں یہ تھا کہ انھوں نے کہیں کہیں پر ووٹوں کی پوری پوری گڈیاں اترتے دیکھی تھیں، تب ہمیں یقین ہو گیا بلکہ یقین کے تینوں درجات سے گزار کر ''ہک بک یقین'' ہو گیا کہ یہ ایک آسمانی فیصلہ تھا، اس میں حکومت یا کسی انسان کا کوئی عمل دخل نہیں تھا جو کچھ کیا غیبی اور آسمانی قوتوں نے کیا، یعنی
آتی ہیں غیب سے یہ پرچیاں خیال میں
غالب ''صریر ووٹ'' نوائے سروش ہے
جہاں تک صوبائی حکومت اور اس کے وزراء مشراء معاونین اور منتخب نمایندوں کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں تو ہمارے پاس روز اول سے بے شمار چشمہ دید گواہ موجود ہیں جنہوں نے اپنے چشموں میں صاف صاف دیکھا ہے کہ '' فرشتوں'' کے پرے کے پرے آسمان سے اترتے ہیں تاکہ یہ دامن نچوڑیں اور وہ وضو کر سکیں، ان تمام شہادتوں اور چشمہ دید گواہوں کی روشنی میں ہمیں وہ آکاش وانی یاد آجاتی ہے جو کئی کئی مقامات پر تحریک انصاف کے امیدواروں نے سنائی تھی کہ صوبے میں حکومت ہماری، انتظامیہ ہماری، انصاف ہمارا، ترازو ہمارا، افسران ہمارے، اہل کار ہمارے یعنی سب کچھ ہمارا ہے تو بلدیات بھی ہمارے اور انتخابات بھی ہمارے ۔۔۔ یہ باقی لوگ کیا بیچنے آئے ہیں اور واقعی کیا بیچنے آئے تھے؟