قومی چیلنج مشترکہ ذمے داری

قومی اسمبلی نے فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے پاکستان آرمی ترمیمی آرڈیننس 2015 میں مزید چار ماہ تک توسیع کر دی


Editorial June 16, 2015
انتہا پسندوں کی کارروائیوں کے باعث عالمی سطح پر ملکی ساکھ مجروح ہوئی۔ فوٹو: فائل

قومی اسمبلی نے فوجی عدالتوں کے قیام کے حوالے سے پاکستان آرمی ترمیمی آرڈیننس 2015 میں مزید چار ماہ تک توسیع کر دی، قرار داد اکثریت رائے سے منظور کرلی گئی، پاکستان آرمی ترمیمی آرڈیننس 2015 کے تحت فوجی عدالتوں کو مسلح افواج یا قانون نافذ کرنیوالے اداروں پر حملوں کے مرتکب اغوا برائے تاوان فوجی و سول تنصیبات پر حملوں مذہبی اقلیتوں پر حملوں میں ملوث ملزمان اور اس میں ان کی معاونت کرنے والوں کے خلاف مقدمات سننے کا اختیار ہوگا جب کہ فوجی عدالتیں تحفظ پاکستان آرڈیننس کی مختلف دفعات میں گرفتار مختلف جرائم کے ملزمان پر بھی کارروائی کر سکیں گی، وفاقی حکومت دیگر عدالتوں میں چلنے والے مقدمات بھی فوجی عدالتوں کو منتقل کر سکے گی۔

حقیقت میں فوجی عدالتوں کے قیام کی فوری یا عارضی غرض وغایت کسی سیاسی ایجنڈے سے مشروط دکھائی نہیں دیتی ، اس آرڈیننس کی ضرورت وہ حالات ہیں جن سے وطن عزیز کو گزرنا پڑ رہا ہے اور حکمران اپنے مشترکہ سیاسی و عسکری انداز نظر اور قومی حمایت و انتظامی ہم آہنگی سے امور ریاست و حکومت چلا رہے ہیں، دشمنوں نے کئی محاذ کھول رکھے ہیں۔ آرڈیننس کا اجرا یوں بھی جمہوری نظم حکمرانی میں مثالی نہیں سمجھا جاتا اس لیے کوشش یہ ہونی چاہیے کہ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے عزم کی حرمت و تسلسل میں انصاف کا خون نہ ہو۔

فوجی عدالتوں کے قیام کا مقصد ملک کو دہشتگردوں کے ظلم و ستم سے بچانا ہے، یہ کڑوا گھونٹ ضرور ہے کیونکہ دنیا بھر میں جمہوری حکومتیں انصاف کے لیے سویلین عدلیہ کی طرف دیکھتی ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا بجا ہے کہ سپریم کورٹ نے حصول انصاف اور آزاد عدلیہ کی موجودگی میں سزا و جزا کے ایک اور فورم پر جن تحفظات کا اظہار کیا ہے ان کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔

اس ضمن میں پیدا شدہ صورتحال اور زمینی و سیاسی حقائق کو مدنظر رکھنے کی اشد ضرورت ہے، فوجی عدالتیں ہنگامی حالات کا نتیجہ قرار دی جاسکتی ہیں جب کہ عدلیہ وفاق کی سالمیت، بنیادی انسانی حقوق کی ضامن اور ہر شہری کو انصاف کی فراہمی کے لیے کمیٹڈ ہے ۔ ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہے، سزائے موت رکوانے کے لیے اقوام متحدہ کا دباؤ اور مغربی قوتوں کی یلغار بلاوجہ نہیں، یہ پاکستان کو نفسیاتی محاصرے میں لینے کی کوشش ہے۔ ایک طرف دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں نے ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقوں میں ریاست کے اندر اپنی ریاستیں قائم کرنے کی کوشش میں غیر انسانی المیوں کو جنم دیا، اب شہر ان کی زد میں ہیں، ملکی معیشت کو اربوں روپے کا خسارہ ہوچکا ہے۔

انتہا پسندوں کی کارروائیوں کے باعث عالمی سطح پر ملکی ساکھ مجروح ہوئی ، بعض انتہا پسند ملک کی نظریاتی بنیادوں پر کلہاڑا چلانے اور جنوبی و شمالی وزیرستان میں اپنی خلافت و امارات قائم کرنے کے خواب دیکھنے لگے ، جسے پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب کے آہنی ہاتھوں سے کچل دیا گیا، اب داخلی طور پر سماجی ، سیاسی اور فرقہ وارانہ طور پر قوم کو تقسیم کرنے کی گھناؤنی سازشوں سے نمٹنے کا وقت ہے ۔

حکمرانوں اور انصاف کے اداروں کو مشترکہ ذمے اٹھانی ہے۔ ترمیمی آرڈیننس آئین پاکستان کے آرٹیکل 89 کی شق دو پیرا الف کے ذیلی پیرا دوئم کے تحت 25 جون سے مزید 120 دنوں کے لیے توسیع کی گئی ہے آرڈیننس میں وضاحت کی گئی ہے اس میں لفظ فرقے سے مراد مذہبی فرقے ہیں آرڈیننس کا مقصد دہشتگرد گروپ کی طرف سے درپیش خطرات کے تدارک کے لیے اقدامات اور عسکری گروپوں کے خلاف کارروائی کرنا ہے اس ترمیم میں سب سیکشن تین ایک سب سیکشن چار کا اضافہ کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے وفاقی حکومت کو سب کلاز تین اور چار کے تحت آنے والے جرائم کے مقدمات جو کسی عدالت میں زیر سماعت ہوں گے وہ اس عدالت کو منتقل کرنے کا اختیار ہوگا۔

بلاشبہ قومی اسمبلی نے ابھی آرڈیننس منظور نہیں کیا، آئین کے تحت بل ایوان میں پیش ہو چکا ہے۔ اسے قانون بننے کے لیے جمہوری پروسیس سے گزرنے دیا جائے، اگرچہ قرارداد کی ایم کیو ایم کی طرف سے سخت مخالفت کی گئی تاہم ایوان کا وقار برقرار رکھنا تمام پارلیمنٹیرینز کا فرض ہے، حالات غیر معمولی ہیں۔ ضرورت قومی سوچ اور ٹھنڈے دل و دماغ سے بل پر بحث و مباحثہ اور دلیل کے ساتھ اس نازک مسئلے پر قانون سازی کی ہے۔ اسپیکر ایاز صادق نے آپریشن ضرب عضب کا ایک سال مکمل ہونے پر پاک فوج اور آپریشن میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنیوالے وطن کے بیٹوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاک فوج نے دشمن کو بدترین شکست سے دوچار کیا، آپریشن میں ملک کا 90 فیصد علاقہ دہشتگردوں سے پاک کرا لیا گیا ہے، ہم شہداء کو سلام پیش کرتے ہیں۔

اسی جوش وجذبہ اور قومی یکجہتی کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو قانون و آئینی طریقے سے انجام تک پہنچایا جائے ۔ سیاست دان ملکی عدلیہ کے نئے اور آزادانہ کردار کی اہمیت کا ادراک کرچکے ہیں، قوم ریلیف چاہتی ہے، انصاف ہونا چاہیے چاہے آسمان ٹوٹ پڑے۔ فوجی عدالتوں کا مینڈیٹ دہشت گردی کے مقدمات سے مشروط ہے، اس چیلنج سے نمٹنا پوری قوم کی ذمے داری ہے جب کہ عدلیہ قومی امنگوں کی نگہبان ہے۔