پاکستان ’’پیسہ‘‘ لیگ

ان دونوں ممالک کو بھاری خسارے کے وجہ سے لیگز ختم کرنا پڑیں، پاکستان کرکٹ کے دامن پرتو ویسے ہی کئی داغ لگے ہوئے ہیں


Saleem Khaliq June 17, 2015
اگربورڈ یہ سمجھتا ہے کہ ابھی ملکی حالات ایسی لیگ کیلیے سازگار نہیں ہیں تو انتظار کرے جلدی کیا ہے،فوٹو فائل

پی سی بی نے ملکی میدان پھرسونے کرنے کا پلان بنا لیا،زمبابوین کرکٹ ٹیم کے دورے کو یقینی بنانے کیلیے پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا،کروڑوں روپے کے اخراجات سے میچز کا انعقاد ممکن ہوا،اس کا کسی کو کوئی غم نہ تھاکیونکہ 6 برس بعد ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ جو واپس آ گئی تھی،اب امید کی جانے لگی کہ مزید غیرملکی ٹیموں کو بھی مدعو کیا جائے گا مگر ایسے میں بورڈ نے ٹی ٹوئنٹی لیگ امارات میں کرانے کے اعلان سے اپنے کیے کرائے پر خود ہی پانی پھیر دیا ہے۔

سیکیورٹی ایجنسیز نے دن رات بھرپور محنت سے سیریز کو کامیاب بنایا تھا،اب آپ جسے بھی بلائیں گے وہ یہی کہے گا کہ ''بھائی پہلے خود تو اپنی سیکیورٹی پر اعتماد کرو، اپنی لیگ دیار غیر میں کرا رہے ہو اور ہم سے ٹور کا کہتے ہو، کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے''۔ سب سے بڑا مذاق ایونٹ کو پاکستان سپر یا چیمپئنز لیگ کا نام دینا ہے جس کا انعقاد متحدہ عرب امارات میں ہوگا، درحقیقت اسے ''پیسہ لیگ'' قرار دینا چاہیے کیونکہ اس کا مقصد دولت کمانا ہی ہے، اب بیچارے عام پاکستانی جو500روپے کا میچ ٹکٹ مشکل سے خرید پاتے ہیں۔

کیا وہ میچز دیکھنے کیلیے دبئی جا کر ہزاروں روپے خرچ کریں گے؟ ایونٹ سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا، اگر پی سی بی یہ سوچ رہا ہے کہ بہت زیادہ مالی آمدنی ہو گی تو شاید یہ خواب بھی پورا نہ ہو پائے، البتہ من پسند چینل کو ٹی وی رائٹس اور دوستوں کو فرنچائزز فروخت کر کے ضرور نوازا جا سکتا ہے، آہستہ آہستہ بلی تھیلے سے باہر آئے گی تو لوگوں کو حقائق کا علم ہو گا۔

اگر پاکستان میں بھی معلومات حاصل کرنے کا قانون فعال ہوتا تو پی سی بی سے ضرور پوچھتا کہ ماضی میں سپر لیگ پر کتنے کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے،2بار کی ناکام کوشش میں آئی سی سی کے سابق چیف ہارون لورگاٹ کو بھاری رقوم کے چیک دیے گئے، موجودہ جی ایم میڈیا آغا اکبر سمیت کئی بڑے عہدوں پر براجمان آفیشلز کی تقرری اسی سپرلیگ کیلیے ہوئی مگر پھر ایونٹ نہ ہوا اور یہ بورڈ میں رہ گئے۔

یہ سب لوگ ماہانہ تنخواہوں میں ہی لاکھوں روپے لے جاتے ہیں، اب بھی ایسا ہی ہو گا، ابھی تو ایک غیرملکی کنسلٹنسی فرم کو ہی لاکھوں روپے دیے جا چکے ہیں آگے آگے دیکھے ہوتا ہے کیا۔ پورے ایشیا میں دیکھ لیں سوائے بھارت کسی کی ٹی ٹوئنٹی لیگ کامیاب نہیں ہوئی، بھارتی بورڈ کو بھی میچ فکسنگ کے کئی کیسز بھگتنا پڑے، سری نواسن کی کرسی اسی وجہ سے ہلی، سری سانتھ جیسے کئی کرکٹرز کے کیریئر ختم ہوئے، اب بھی انکوائریز چل رہی ہیں، سری لنکا اور بنگلہ دیش میں بھی فکسنگ کے کئی معاملات سامنے آئے۔

ان دونوں ممالک کو بھاری خسارے کے وجہ سے لیگز ختم کرنا پڑیں، پاکستان کرکٹ کے دامن پرتو ویسے ہی کئی داغ لگے ہوئے ہیں، اب نئے تنازعات کیلیے تیار رہنا چاہیے، سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کسی نے ایونٹ کیلیے کوئی پلاننگ ہی نہیں کی، پہلے فروری میں انعقاد کا کہا گیا حالانکہ ابتدائی دونوں ہفتوں میں امارات کے تینوں وینیوز ماسٹرز چیمپئنز لیگ کی میزبانی کریں گے، ان میں وسیم اکرم، برائن لارا اور جیک کیلس سمیت کئی ماضی کے اسٹارز شریک ہو رہے ہیں،11مارچ سے3 اپریل تک بھارت میں آئی سی سی ورلڈٹی ٹوئنٹی ایونٹ ہو رہا ہے۔

اس سے قبل وارم اپ میچز ہوں گے، ٹیموں کو کئی روز قبل وہاں جانا ہوگا، اگر فروری کے دستیاب 10،15 دن میں بھی پاکستان ایونٹ کی میزبانی کرتا تو اس عرصے میں صرف پاکستانی اور ویسٹ انڈین کرکٹرز ہی فارغ ہوتے، شاید کسی نے بورڈ کو یہ بات بتا دی اسی لیے اب چیئرمین کہتے ہیں کہ اپریل میں انعقاد ہوگا، شاید مشیر ایف ٹی پی میں خالی جگہ دیکھ کر خوشی سے سرشار ہو گئے ہوں گے، مگر انھوں نے یہ نہ سوچا کہ ایسا آئی پی ایل کی وجہ سے ہے جس کا انعقاد8 اپریل سے 29مئی تک ہوگا، دنیا بھر کے کرکٹرز اس میں حصہ لیں گے۔

اس سے آپ بورڈ آفیشلز کی اہلیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں،اگر پاکستان انہی دنوں میں اپنی لیگ کرا بھی لے تو کون اس میں دلچسپی لے گا؟کون سے پلیئرز کھیلیں گے؟ میچز دیکھنے کیلیے کتنے لوگ اسٹیڈیم آئیں گے یہ بھی اہم سوال ہے، ویسے اگر پاکستانی ٹیم کے بھی مقابلے ہوں تو یو اے ای میں صرف چھٹی کے دن ہی ہاؤس فل ہوتا ہے، زیادہ تر مزدور طبقے کے لوگ اپنے کھلاڑیوں کی ہمت بڑھانے کیلیے آتے ہیں۔

اگر انھیں اگلی صبح کام پر جانا ہو تو رات کو میچز دیکھنے کیسے آئیں گے؟کرکٹ کی بے لوث خدمت کرنے والے مرحوم ڈاکٹر محمد علی شاہ نے اکتوبر 2012میں ورلڈ الیون کو بلا کرکراچی میں تن تنہا میچز کرا دیے تھے،پلیئرز ریلیز کرنے کے سوا بورڈ نے ان کا کوئی ساتھ نہیں دیا تھا، جے سوریا اورآندرے نیل سمیت جنوبی افریقہ، سری لنکا، افغانستان و دیگر ممالک کے پلیئرز بے خوف و خطر یہاں کھیل کر گئے تھے، اب تو زمبابوے کے کامیاب دورے نے یہ کام مزید آسان کر دیا، بورڈ اگر پیسہ خرچ کرے تو کئی کھلاڑی یہاں آنے کو تیار ہو جائیں گے۔

پی سی بی کا کام صرف دولت کمانا نہیں ملک میں کرکٹ کا فروغ بھی ہے، یہاں لاہور میں زمبابوے سے میچز دیکھنے شائقین گھنٹوں لائن میں لگے رہے، انھیں امید کی ایک کرن دکھائی دی تھی جسے بورڈ نے خود ہی دھندلا کر دیا، اپنے ملک کا سوچیں صرف پیسے کا نہیں، مجھے یقین ہے کہ پاکستان میں بھی اگر لیگ ہوئی تو بڑی تعداد میں اسپانسرز سامنے آئیں گے،60،70 کھلاڑیوں اور آفیشلز کو دبئی لے جانے کا خرچ اور وہاں قیام و طعام کے بھاری اخراجات بھی بچ جائیں گے۔

اگربورڈ یہ سمجھتا ہے کہ ابھی ملکی حالات ایسی لیگ کیلیے سازگار نہیں ہیں تو انتظار کرے جلدی کیا ہے، اب بھی خزانے میں اتنی رقم موجود ہے کہ مزید کئی برس کچھ نہ کرنے والے ملازمین کوتنخواہیں ملتی اور افسران کے غیرملکی دورے جاری رہیں،صرف اپنوں میں ریوڑیاں بانٹنے کیلیے لیگ کرانے سے ملک کو کچھ حاصل نہ ہوگا۔