مودی کی طرف سے امن و آشتی کا پیغام

پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کا ہمسایہ ہونے کے ناطے مل جل کر امن سے رہنا چاہیے۔


Editorial June 18, 2015
امن کے قیام اور دیرینہ تنازعات و مسائل کے باہمی حل میں ہی برصغیر کی تعمیری اور کشیدگی سے پاک سیاست کا اصل مستقبل مضمر ہے۔ فوٹو فائل

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ روز وزیراعظم نواز شریف کو ٹیلیفون کیا اور رمضان المبارک کی آمد پر مبارکباد دی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو تقریباً پانچ منٹ تک جاری رہی۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کو اپنے اختلافات اور جنگ کی باتوں کو بھلا کر امن و آشتی کی طرف جانا چاہیے تاکہ دونوں ملکوں کے عوام اپنے لیڈروں کو ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد رکھیں۔ پاکستان اور بھارت کو ایک دوسرے کا ہمسایہ ہونے کے ناطے مل جل کر امن سے رہنا چاہیے اور اپنے باہمی اختلافات کو اس راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔

مودی کی طرف سے خیرسگالی کا یہ پیغام ماہ رمضان کی مبارک ساعتوں کے حوالہ سے اہل پاکستان کو ملا ہے اس لیے اسے خطے کی ضرورت اور خوش آیند پیش رفت کے طور پر دل سے قبول کرنے کو ہر امن پسند تیار ہے۔ تاہم یہ خلش ضرور رہے گی کہ بھارتی وزیراعظم اپنے ان وعدوں کی تکمیل کے لیے بھی اقدام اٹھائیں جو انھوں نے اپنی وزارت عظمیٰ کا حلف لینے سے پہلے اور بعد میں میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کیے تھے۔

مودی کو یاد ہوگا کہ انھوں نے وزیراعظم نواز شریف کو اس تقریب میں مدعو بھی اسی جذبہ سے کیا تھا کہ'' میں سارک تنظیم کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتا ہوں، خطے میں دو طرفہ اشتراک و تعاون ، پاک بھارت تنازعات کا پر امن تصفیہ اور قربت و روابطconnectivity مجھے مجبور کر رہی ہے کہ ہم سیاحت سے لے کر دہشت گردی سمیت شملہ معاہدہ اور لاہور ڈیکلیئریشن کو آیندہ پیش قدمی کی بنیاد بنائیں۔'' بھارت کو اب سیاسی کشیدگی و مخاصمت اور پاکستان دشمنی کے روایتی گھنائونے چکر سے نکلنا ہوگا، عملیت پسندی کا تقاضہ ہے کہ دو طرفہ تعلقات کو ہر قسم کی کشیدگی اور سرحدی تنائو سے آزاد ہونا چاہیے، مودی سرکار اگر مقید سوچ اور بلاجواز انتہاپسندانہ شعلہ نوائی سے سنجیدہ طرز سیاست اور مذاکرات کی طرف آنا چاہتی ہے ۔

متنازع امور پر دو طرفہ سیاسی فیصلوں پر رضامند ہے تو اس سے اچھی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔ بھارتی وزیراعظم کا کہنا ہے کہ رمضان کے مقدس موقع پر بھارتی حکومت خیرسگالی کے طور پر گرفتار شدہ پاکستانی ماہی گیروں کو رہا کر رہی ہے، پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں جب کہ وزیراعظم نواز شریف نے بھی جذبہ خیر سگالی کے تحت بھارتی ماہی گیروں کو رہا کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

نواز شریف نے کہا کہ قوموں کے حکمران گھر کے سربراہ کی طرح ہوتے ہیں جو اپنے خاندانوں کو لڑائی جھگڑے سے بچا کر امن کی طرف لے جاتے ہیں اور ہر آفت سے ان کی حفاظت کرتے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے افغان صدر اشرف غنی اور بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو بھی فون کیا اور رمضان المبارک کی آمد پر خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

ان پیغامات کے یقیناً مثبت اور دوررس نتائج برآمد ہوسکتے ہیں بشرطیکہ خطے میں امن ، خیر سگالی ، اقتصادی ترقی کا روڈ میپ تشکیل دیا جائے اور باہمی تنازعات کو اقوام متحدہ کے منشور اور قراردادوں کی روشنی میں ڈائیلاگ اور جامع مذاکرات کے ذریعہ حل کیا جائے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان بیانات کی وجہ سے پائے جانے والی کشیدگی کم کرنے پر بھی گفتگو ہوئی ہے اور دونوں رہنماؤں نے آیندہ متنازعہ بیانات نہ دینے پر اتفاق کیا دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے نواز شریف کو ٹیلی فون کر کے امریکی حکومت کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا ۔

انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی موجودہ صورتحال کو سراہتے ہوئے کہا کہ تمام شعبوں میں دوطرفہ تعاون میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے وزیراعظم نوازشریف کی پالیسیاں اور عزم قابل تحسین ہیں۔ دوستانہ اور گرمجوشی سے بھرپور تبادلہ خیال کے دوران انھوں نے جنوبی ایشیا میں پرامن ہمسائیگی کے حوالے سے نواز شریف کے عزم کی بھی تعریف کی۔ وزیرا عظم نے پاک امریکا دوطرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان امریکا کے ساتھ تعلقات کو نہایت اہمیت دیتا ہے۔

دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پوری پاکستانی قوم میں اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔ پاکستان کی معیشت گزشتہ دو سال سے مستحکم ہوئی ہے اور بیرونی سرمایہ کار بھی پاکستان آرہے ہیں۔ دلچسپ اضافی پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نے یوگا کی اہمیت اور ضرورت پراتنا زور دیا کہ ان کی یہ تجویز اقوام متحدہ کی طرف سے قبول کر لی گئی کہ21 جون کو یوگا کا عالمی دن منایا جائے۔

بھارتی وزیراعظم خود پابندی سے یوگا کیا کرتے ہیں اور گزشتہ برس انھوں نے باقاعدہ ایک یوگا وزارت قائم کی، جب کہ عالمی ادارے نے مودی کی یہ تجویز مان بھی لی اور اس سال پہلی بار 21 جون بروز اتوار نئی دہلی میں یہ دن منایا جائے گا اور اس موقع پر رنگا رنگ تقاریب کا انعقاد بھی ہوگا جن میں مختلف اسکولوں کو بھی حصہ لینے کو کہا گیا ہے۔

یوگا بلاشبہ جسمانی،اعصابی اور ذہنی ورزشوں میں کمال کی ایکسرسائز ہے، مودی سیاسی سطح پر بھی ایسے خوشگوار امن اور مفاہمت کے لیے کشمیر سمیت تمام حل طلب تنازعات پر دو طرفہ بات کو اپنا ایجنڈا بنائیں تو خطے کی تقدیر بدل سکتی ہے ۔ دہشت گردی کے خاتمہ ، امن کے قیام اور دیرینہ تنازعات و مسائل کے باہمی حل میں ہی برصغیر کی تعمیری اور کشیدگی سے پاک سیاست کا اصل مستقبل مضمر ہے۔