سیاسی استحکام
آج کل ہمارے حکمرانوں کی طرف سے یہ بیانات تواتر کے ساتھ آ رہے ہیں
آج کل ہمارے حکمرانوں کی طرف سے یہ بیانات تواتر کے ساتھ آ رہے ہیں کہ اس وقت ملک میں ''سیاسی استحکام'' کی شدید ضرورت ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سیاسی استحکام کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا لیکن پچھلے 68 سالہ دور میں بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ جب بھی ملک میں جمہوریت کا دور دورہ رہا ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا اور اگر کسی جمہوری دور میں سیاسی استحکام موجود رہا بھی تو وہ دور ترقی کے بجائے تنزل میں مبتلا رہا۔
دور کیوں جائیں سابقہ پی پی پی کے دور کو دیکھیں 2008ء سے 2013ء تک ملک میں سیاسی استحکام موجود رہا اور اس سیاسی استحکام ہی کی وجہ سابقہ حکومت پاکستان کی جمہوری تاریخ میں پہلی بار اپنی 5 سالہ آئینی مدت پوری کی جس پر ہمارے سیاست دانوں نے خوب بغلیں بجائیں۔ اس سیاسی استحکام کی وجہ یہ تھی کہ اپوزیشن مسلم لیگ (ن)فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی تھی۔
حکمران جماعت سے خاموش انڈر اسٹینڈنگ دیکھی گئی کہ ''آپ ہمیں ڈسٹرب نہ کریں ہم آپ کو ڈسٹرب نہیںکریں گے۔'' اسی غیر تحریری انڈراسٹینڈنگ کی وجہ سے پی پی پی بغیر کسی مداخلت کے 5سال حکومت کرتی رہی۔ اس کی دوسری بڑی وجہ یہ تھی کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب پر پورے سیاسی استحکام کے ساتھ 5 سال حکومت کرتی رہی اور پنجاب پاکستان کے تینوں صوبوں کی مجموعی آبادی سے زیادہ آبادی رکھنے والا صوبہ تھا۔ پی پی کے دور میں جو سیاسی استحکام رہا اس کا منطقی تقاضا یہ تھا کہ ملک ترقی کرتا۔ کیا ایسا ہوا؟ اس کا جواب نہ صرف نفی میں آتا ہے بلکہ افسوس اس بات کا ہے کہ اس دور کو کرپشن کے حوالے سے پاکستان کی تاریخ کا بدترین دور کہا جاتا ہے۔
اس دور کی خصوصیت یہ تھی کہ اس سیاسی استحکام میں کسی سیاسی جماعت کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی البتہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار اعلیٰ عدلیہ اس سیاسی استحکام میں رکاوٹ ڈالتی دکھائی دی۔ اس کی وجہ تھی اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کا سوئس کیس۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری حکومت کو تسلسل کے ساتھ یہ حکم دیتے رہے کہ وہ سوئس حکام کو ایک عدد خط لکھے۔ پی پی پی کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی یہ ''تاریخی خط'' لکھنے میں پس و پیش کرتے رہے جس کے نتیجے میں موصوف کو وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا۔ شہیدوں کی تاریخ میں ایک وزارت عظمیٰ کی شہادت کا اضافہ ہوا۔
یوسف رضا گیلانی کی اس سیاسی شہادت کے بعد ان کی جگہ پی پی پی ہی کے ایک نامور رہنما پرویز اشرف نے لی لیکن عدلیہ کی طرف سے سوئس حکام کو خط لکھنے کا حکم راجہ پرویز اشرف کے سامنے بھی موجود تھا۔ راجہ جی نے بھی گیلانی جی کی طرح مسئلے کو ٹالنے کی اپنی سی کوشش کی لیکن چیف جسٹس مصر تھے کہ وہ فوری سوئس حکام کو خط لکھیں اور آخر کار بھاری قانونی مشاورت کے بعد راجہ جی نے یہ خط لکھ دیا۔ لیکن یہ تاریخی خط راستے میں کہیں ایسا گم ہو گیا کہ آج تک پتہ نہ چل سکا کہ اس کا انجام کیا ہوا تاہم عوام کے ذہنوں میں بہرحال ایک سوال جم کر رہ گیا کہ عدلیہ برتر ہے یا انتظامیہ؟
2008ء سے 2013ء کے دوران جو سیاسی استحکام تھا، اس میں کسی سیاسی جماعت نے تو رکاوٹ نہیں ڈالی لیکن بے چاری پی پی عدلیہ کے احکامات کی وجہ مسلسل پریشانی کا شکار رہی۔ بدقسمتی اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس تاریخی سیاسی استحکام کے 5 سالہ دور میں حکمرانوں پر بھاری کرپشن کے بھاری بھرکم کیس چلتے رہے، جس میں دو وزرائے اعظم یعنی یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف کا نام بھی شامل ہے۔ ان کیسوں کی خوبی یا انفرادیت یہ ہے کہ یہ عشروں سے زیر سماعت ہیں اور انصاف کی صورتحال یہ ہے کہ ''بج رہا ہے اور بے آواز ہے۔'' اس قسم کی صورتحال ہمارے سرمایہ دارانہ نظام میں قدم قدم پر پائی جاتی ہے اور عوام سے کہا جاتا ہے کہ کوئی معاشرہ قانون کی بالادستی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔
2013ء کے بعد ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ فرینڈلی اپوزیشن کا کلچر نہ صرف برقرار ہے بلکہ اس کی مضبوطی کے ایسے ایسے واقعات عوام کے سامنے آئے کہ عوام کو ہماری جمہوریت پر فخر ہونے لگا۔ 2008ء سے 2013ء تک حکومت کے ساتھ مسلم لیگ کا جو دوستانہ رویہ رہا' اس کا اخلاقی تقاضا یہی تھا کہ پی پی پی شریف حکومت کے لیے پرامن ماحول برقرار رکھے اور سیاسی استحکام میں کوئی رخنہ اندازی نہ کرے اور یہ فرض پی پی پوری طرح نبھا رہی ہے، لیکن برا ہو عمران اور قادری کا ان دو حضرات نے سیاسی استحکام کے غبارے سے اس طرح ہوا نکال دی کہ حکومت ان کے اٹھائے ہوئے دھرنا طوفان میں پتوں کی طرح لرزتی رہی۔
عمران اور قادری کے دھرنوں نے اگرچہ حکمرانوں کی نیندیں حرام کر دیں اور ایسا محسوس ہونے لگا کہ حکومت اب گئی کہ جب گئی۔ اور صورتحال اس لیے تشویشناک ہوتی گئی کہ ہزاروں عوام بچے جوان خواتین اور بزرگ ان دونوں رہنماؤں کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ لیکن ان دونوں حضرات کی بدقسمتی یہ رہی کہ وہ بچگانہ اور خیالی مطالبات کے ساتھ یہ جنگ لڑتے رہے جس کا نتیجہ وہی ہوا جو ہونا تھا۔مسلم لیگ کی خوش قسمتی یا جمہوریت کی کرامات یہ تھی کہ جب حکومت کے سیاسی استحکام کو عمران اور قادری کی طرف سے خطرہ لاحق ہوا تو تیرہ سیاسی جماعتوں نے حکومت کی حمایت میں بلکہ جمہوریت کی حمایت میں اپنی پارلیمانی طاقت کا ایسا شاندار مظاہرہ کیا کہ پارلیمنٹ میں جوابی دھرنا دے دیا۔
عمران اور قادری کی ناکامیوں میں اس جوابی دھرنے کا ہاتھ زیادہ تھا یا ان دونوں بزرگوں کی حماقت کا ہاتھ زیادہ تھا یہ کوئی مشکل سوال نہیں سب اس سوال کے جواب سے واقف ہیں۔ ہمارے وزراء اگر ملک میں سیاسی استحکام کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں تو یہ غلط نہیں کیونکہ ملک بھر میں ''جو ترقیاتی کام'' ہو رہے ہیں ان کا تقاضا یہ ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام برقرار رہے لیکن مہنگائی، بے روزگاری، گیس، بجلی کی لوڈشیڈنگ اور ہر طرف کرپشن کی بھرمار نے سیاسی زندگی میں ہوا کا ایک ایسا خطرناک کم دباؤ پیدا کر دیا ہے کہ یہ کم دباؤ کہیں طوفان کی شکل نہ اختیار کر لے اگر ایسا ہوا تو نہ سیاسی استحکام رہے گا نہ سیاست۔