بی تھری مبارک ہو اے قوم

غالباً پیکر کا انگریزی ترجمہ فگر ہوتا ہے اور فگر کہیں بھی ہو کسی قسم کا بھی ہو ہمیں اچھے لگتے ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq June 21, 2015
[email protected]

وزیر خزانہ جناب اسحاق ڈار نے جب سے داڑھی رکھی ہے تب سے وہ بھی کچھ پرکشش متاثر کن اور خوشنما دکھائی دینے لگے ہیں بلکہ ان کی باتوں میں بھی کچھ زیادہ ہی تاثیر نظر آنے لگی ہے حالانکہ ان کی باتوں میں زیادہ تر ہندسے اور اعداد و شمار ہوتے ہیں ۔

جن کے ساتھ ہماری بہت پرانی بلکہ پشتی دشمنی چلی آ رہی ہے کیونکہ تقریباً ایک سو ایک پشتوں سے ہمارے جتنے بھی اجداد گزرے ہیں اعداد ہی ان کے اعدا تھے اور ان کی زندگیوں میں یہ اعداد و شمار کے اعدا قدم قدم پر ظلم و بربریت کا مظاہرہ کرتے آئے ہیں، تقریباً سب کی اموات کسی نہ کسی عدد کے ہاتھوں ہوئی ہے کسی کی پچاس کسی کے ساٹھ اور کسی کی ستر اسی اور یا درمیان میں کسی نہ کسی عدد نے ہی ان کی جان لی ہے۔

یہ علم ہمیں تب ہو گیا جب ہر جد کی وفات کے آگے کوئی نہ کوئی عدد لکھا ہوا پایا گیا گویا سب کی بیماری یا وجہ قتل کوئی نہ کوئی عدد ہی تھی، خیر چھوڑیئے اب اس پرانی جدی پشتی دشمنی کو لے کر کیا کرنا بلکہ آپ سے کیا پردہ ہم صلح جو قسم کے آدمی ہیں اور اس خاندانی دشمنی کو ختم کرنا چاہتے ہیں چنانچہ تقریباً ہر وزیر خزانہ کی باتیں بڑی دلچسپی سے سنتے ہیں بلکہ داد بھی دیتے ہیں حالانکہ سمجھ سے باہر ہوتی ہیں لیکن جیسا کہ مرشد نے کہا ہے کہ

گو نہ سمجھوں اس کی باتیں گو نہ پاؤں اس کا بھید
پر یہ کیا کم ہے کہ مجھ سے وہ ''پری پیکر'' کھلا

غالباً پیکر کا انگریزی ترجمہ فگر ہوتا ہے اور فگر کہیں بھی ہو کسی قسم کا بھی ہو ہمیں اچھے لگتے ہیں اور پھر جب جناب اسحاق ڈار جیسے خوش نما خوش بیان اور خوش الحان کے منہ سے ہوں تو اور بھی میٹھے ہو جاتے ہیں، مثلاً اب کے بجٹ کے جو سارے فگر تھے وہ ہمیں اتنے ہی اچھے لگے جتنے کنڈولیزا رائس، انجلینا جولی، کم کار دیشان کسی علی عیان یا علی الاعلان یا موم بائی کے اسٹارنیوں کے لگتے ہیں اور ابھی ہم بجٹ کے ان ''فگرز'' پر عش عش کر رہے تھے کہ جناب اسحاق ڈار نے ایک اور دھماکا کر دیا ۔

جس کے ساتھ قوم کو مبارک باد بھی دی گئی ہے، مبارک باد تو ہم نے قوم کی طرف سے قبول کر لی ہے اور جواباً خیر مبارک بلکہ خیر خیر مبارک مبارک بھی کہتے ہیں یہ تو پتہ نہیں کہ یہ مبارک باد کس چیز کی ہے یہ کوئی تیتر یا بٹیر ہے جو پاکستان نے پکڑا ہے یا کسی کھیل میں خواتین کی ٹیم نے ملک کا نام روشن کیا ہے کیوں کہ جو بات مبارک باد کے ساتھ کی گئی ہے وہ ہمارے سر تو کیا چھت کے اوپر سے کہیں گزر گئی ہے... یعنی قوم کو مبارک ہو موڈیز نے پاکستان کو ''بی تھری'' میں شامل کر لیا ہے کیوں کہ اس میں فگر کے ساتھ بی کا اضافہ بھی ہے اب تھری بی کیا ہے، بی بی بے نظیر بھٹو بھی ہو سکتی ہے۔

بلاول بے نظیر بھٹو بھی ہو سکتا ہے لیکن وہ تو بلاول بھٹو کے ساتھ زرداری بھی ہیں، بہت پرانے زمانے میں جب ہم ابن صفی کے ناول بڑی دیوانگی سے پڑھتے تھے اس میں ایک کردار کا نام ٹی تھری بی تھا یعنی تھریسیا بمبل بی آف بوہمیا ... خدا بخشے ابن صفی بڑے کمال کے آدمی تھے انھوں نے ٹی تھری بی کا کردار ایسا تراشا تھا کہ اب بھی ہمارے حواس پر چھایا ہوا ہے۔

ایک تھری بی کی اصطلاح ٹی بی تھری بھی ہے یعنی ٹی بی کا تھرڈ اسٹیج لیکن کم از کم پاکستان کی صحت اتنی گری ہوئی تو نہیں لگتی اس لیے یہ ''تھری بی'' کوئی اور ہی چیز ہے اور یقیناً اچھی ہی چیز ہو گی کیوں کہ مبارک باد جناب اسحاق ڈار نے دی ہے۔

کسی ببو خالہ نے نہیں دی ، ہم جانتے ہیں اب آپ ببو خالہ کا تعارف بھی چاہیں گے اور انکار کرنا ہمیں اچھا نہیں لگتا، ببو (BABU) دراصل کوئی اسم نکرہ نہیں بلکہ ''اسم نخرہ'' یا عمومی عرفیت سمجھ لیجیے جو خالہ پھوپھی، بڑی بہن اور اس طرح کے تمام رشتوں کے لیے بولا جاتا ہے لیکن ببو خالہ کے ساتھ یہ لفظ کچھ زیادہ ہی چپک گیا تھا کیوں کہ وہ بیک وقت گاؤں کی مارک ٹیلی، نوم چومسکی اور گاؤں کے چینل ون کی اینکر پرسن بھی تھی، گائنا کالوجسٹ، پامسٹ اور اردگرد کے علاقے کے سارے پیروں تعویذ گروں کی سول ایجنٹ بھی تھی بلکہ ساتھ ساتھ وہ ایک موبائل گٹھ بندھن اور شادی دفتر بھی تھی۔

اتفاق سے اس کا اکلوتا بیٹا جو نکھٹو پن میں ایم فل اور حرام خوری میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لے چکا تھا کسی باہر کے ملک کو چلا گیا وہ وہاں سے کیسٹ وغیرہ بھیج کر اپنی ماں سے رابطہ رکھتا تھا، جس کے پیچھے ماں کی محبت سے زیادہ گاؤں والوں کو جلانے کا جذبہ کارفرما رہتا تھا، ببو خالہ پھر یہ کیسٹ اڑوس پڑوس کی خواتین کو بلا کر سنواتی تھی جس میں اکثر خوش خبریاں ہوتی تھیں جیسے ماں مجھے نوکری مل گئی ہے... اس پر بیٹھی ہوئی خواتین مبارک مبارک ببو خالہ کا کورس گا دیتی تھیں ... ماں میں نے ٹی وی خرید لیا ہے۔

(مبارک) ماں میں نے حج کر لیا ہے (مبارک) ماں میں نے یہ کر لیا ماں میں نے وہ کر لیا جواب میں وہی مخصوص دونگڑا ... مبارک ہو ببو خالہ، ایک دن تازہ ترین کیسٹ سنی جا رہی تھی علیک سلیک کے بعد لڑکے کی آواز آئی ... ماں میں نے ایکسیڈنٹ کیا ہے ... ایکسیڈنٹ مبارک ہو ببو خالہ ... اور اسپتال میں داخل ہو گیا ہوں ... اسپتال مبارک ہو ببو خالہ ... ایک ٹانگ میں فریکچر ہو گیا ہے ... فریکچر مبارک ہو ببو خالہ ... کمر میں کریک آ گیا ہے ... کریک مبارک ہو ببو خالہ ... ہو سکتا ہے کہ مجھے آئوٹ مل جائے ... آئوٹ مبارک ہو ببو خالہ ... اور ببو خالہ بھی مسکرا مسکرا کر مبارک باد وصول کرتی رہی، لیکن ہم جانتے ہیں کہ جناب اسحاق ڈار نے قوم کو جس ٹی بی یا بی تھری یا ٹی تھری کی مبارک باد دی ہے وہ یقیناً کوئی اچھی اور مژدہ جان فزا قسم کی چیز ہو گی اس لیے ہم خوشی خوشی یہ مبارک باد وصول کر کے قوم تک پہنچا رہے ہیں ... مبارک ہو اہل پاکستان ... تم بی ٹی یا تھری ہو گئے ہو

اے آمدنت باعث آبادی ما

ویسے ٹی یا بی تھری کی طرح ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ یہ ''موڈیز'' کون ہیں خواتین ہیں یا حضرات ہیں ارے ہاں کہیں یہ پڑوس والے ''مودی'' یا مودیوں کا ذکر تو نہیں کیونکہ یہ انگریزی زبان بھی کچھ ناہنجار قسم کی زبان ہے پتہ ہی نہیں چلتا کہ ''ڈی'' کو دال پڑھا جائے یا ڈال ... ٹی کو ت سے ادا کریں یا ٹ سے... جب اچھے خاصے خوب صورت ناموں اسلام اور مسلمانوں کو ازلام اور مسز لمز کیا جا سکتا ہے تو مودی یا مودیوں کو موڈیز کرنا کیا مشکل ہے اگر ایسا ہے تو پھر تو پیاری قوم ۔۔۔ موڈیز بھی مبارک

مژدہ اے ذوق اسیری کہ نظر آتا ہے
''دام خالی'' ... قفس مرغ گرفتار کے پاس

ویسے بھی جب سے جناب اسحاق ڈار نے وزارت خزانہ کو اپنے قدوم سے شرف یاب کیا ہوا ہے تب سے اپنے ہاں خوش خبریوں کا تانتا بندھا ہوا ہے ادھر ڈالر آ رہے ہیں ادھر ریالوں کی آمد آمد ہے اور بیج بیج میں اپنا ''روپیہ'' ہے کہ روپ بدل بدل کر پھولے نہیں سما رہا ہے اور وہ پٹرولیم بجلی اور گیسوں کا ''شیر'' کتنا پیچھے کھسک گیا تھا ٹھیک ہے ''جست بھرنے'' کے لیے پیچھے ہوا تھا لیکن درمیان میں کچھ دن تو عافیت سے گزر گئے آگے اللہ مالک ہے، شیر جب چھلانگ لگائے گا ... دیکھا جائے گا ... اچھا لگا چکا ہے ... کوئی بات نہیں ہے، رحمان بابا نے کہا ہے کہ قسمت اگر تجھے شیر کے منہ میں بھی دے دے تو شیر کے جبڑوں میں بھی ''خیر خیر'' کہتے رہنا، اور شیر تو شیر ہوتا ہے خوبان دل آزار سے زیادہ خطرناک تو نہیں ہوتا کہ

دہن شیر میں جا بیٹھئے لیکن اے دل
نہ کھڑے ہوجئے خوبان ''دل آڈار'' کے پاس