پپو یار تنگ نہ کر

آصف علی زرداری بڑے وسیع القلب اور صلح پسند رہنما ہیں، وہ عموماً ہر بات سوچ سمجھ کر کرتے ہیں


Zaheer Akhter Bedari June 22, 2015
[email protected]

پیپلز پارٹی کے رہنما آصف علی زرداری کی وزیر اعظم نواز شریف سے 17 جون کو ملاقات طے تھی لیکن اس طے شدہ ملاقات کو وزیر اعظم نے منسوخ کر دیا اور آصف علی زرداری چھوٹے بھائی کی اس بے رخی پر سٹپٹا کر رہ گئے۔ ایسا کیوں ہوا؟ ایسا اس لیے ہوا کہ زرداری نے اسلام آباد کی ایک ارینجنڈ تقریب میں فوج کے خلاف ایسی حیرت انگیز باتیں کیں، ایسے الزامات لگائے، ایسی تڑیاں دیں کہ اس جرأت رندانہ پر تمام سیاستدان سناٹے میں آگئے، بلکہ دم سادھ لیے۔ حاضر سروس اور سابق جرنیلوں کی مبینہ کرپشن کا راز فاش کرنے کی زرداری نے ایسی دھمکیاں دیں کہ سارا ملک زیر و زبر ہو کر رہ گیا، وفاقی وزراء کرام نے اپنے وزیر اعظم کو یہ مشورہ دیا کہ ایسے حالات میں آصف زرداری سے ملنا خطرات اور شکوک و شبہات کو جنم دے گا، لہٰذا آپ اس شیڈول ملاقات کو گول کر جائیے۔ سو محترم وزیر اعظم نے اپنے خیر خواہوں کے مشورے کو مان لیا اور زرداری سے ملاقات منسوخ کر دی۔

آصف علی زرداری بڑے وسیع القلب اور صلح پسند رہنما ہیں، وہ عموماً ہر بات سوچ سمجھ کر کرتے ہیں اور بلاوجہ کی پنگا بازیوں سے ہمیشہ گریزاں رہتے ہیں۔ انھیں اس بات کا اوروں سے زیادہ احساس رہتا ہے کہ شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں پر سنگ باری کرنے کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے۔ آصف علی زرداری پچھلے کئی سال سے خاص طور پر 2008ء کے بعد سے جس صلح کن پالیسی پر گامزن ہیں اسے انھوں نے مفاہمتی پالیسی کا نام دے رکھا ہے، یہ ان کا اپنا ایجاد کردہ فلسفہ ہے، اسی فلسفے کے تحت وہ شریف برادران کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے ہمیشہ گریز کرتے رہتے ہیں، اگر کبھی حکومت پر تنقید کی ضرورت ہوتی ہے تو اس پیرائے میں تنقید کرتے ہیں کہ یہ تنقید تعریف نما ہوتی ہے، جس سے سانپ بھی مر جاتا ہے اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹتی۔

میاں صاحب سے ان کا رشتہ سیاسی پیر بھائی جیسا ہے اور ہر مشکل گھڑی میں وہ میاں برادران کی مدد کے لیے سب سے پہلے لبیک کہتے نظر آتے ہیں۔ جب عمران خان نے اسلام آباد کے دھرنوں کے دوران نواز شریف استعفیٰ دو کا نعرہ لگایا تو اس کی مزاحمت اور مخالفت سب سے زیادہ زرداری نے کی اور عمران خان کے خلاف پارلیمنٹری دھرنے میں سب سے آگے رہے۔ اب بھی جب عمران خان نواز شریف کے اقتدار کے خلاف کوئی بات کرتے ہیں تو زرداری فوری وارننگ دے دیتے ہیں کہ ''ہم حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے دیں گے اور اگر کوئی اس آئینی مدت کو غیر آئینی عِدّت میں بدلنے کی کوشش کرے گا تو ہم اس کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں گے''۔ زرداری کا یہ موقف کہا جاتا ہے جمہوریت کی بقا اور استحکام کا مظہر ہوتا ہے لیکن عمران خان اسے باری باری کی سیاست کی ضرورت کا نام دیتے ہیں۔

میاں اور زرداری میں یہ رشتہ اس قدر مضبوط رہا ہے کہ زرداری حکومت کو لاحق کسی ممکنہ خطرے کی صورت میں ہمیشہ سب سے آگے نظر آتے ہیں لیکن اس بار مشکل ایسی آن پڑی ہے کہ میاں صاحب زرداری سے ملنے تک سے گریزاں ہیں، سیاسی مطلع میں یہ سخن گسترانہ بات زرداری کی فوج پر بے لگام تنقید اور کھلی دھمکیاں ہیں۔ کیا آصف زرداری' فوج اور موجودہ حکومت کے درمیان رشتے کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں، کیا انھیں پاکستان کی بالادست قوتوں کی بالادستی کا احساس نہیں؟ ایسا نہیں زرداری زیرک سیاستدان ہیں وہ سیاست کی باریکیوں کو دوسروں سے زیادہ سمجھتے ہیں، پھر انھوں نے فوج سے اس طرح براہ راست پنگا لینا کیوں ضروری سمجھا؟

اسلام آباد کی یہ تقریر کوئی زوربیان تھا نہ جذباتی تقریر تھی بلکہ اسے ہم پری پلان اور ایک منصوبہ بند تقریر کہہ سکتے ہیں۔ ہمارے ملک میں اہل دانش ہی نہیں بلکہ سیاست کار بھی 68 سال سے اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی کا رونا رو رہے ہیں اور عموماً ہر اس شخص کی پیٹھ ٹھونکتے دکھائی دیتے ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کے خلاف زبان کھولتا ہے لیکن اس بار جب زرداری صاحب نے جس انداز میں اسٹیبلشمنٹ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے اس کی تائید یا تعریف تو کجا ہر طرف سے ان پر تنقید کے تیر برساتے جا رہے ہیں۔اس بیان کی سنگینی کا اندازہ زرداری سے میاں صاحب کی طے شدہ ملاقات کی منسوخی سے لگایا جا سکتا ہے۔

ہمارے ملک میں اہل سیاست اسٹیبلشمنٹ کے خلاف زبان نہیں کھولتے کہ اس جرأت پر ان کے مفادات متاثر ہوتے ہیں لیکن ملک میں اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی کے خلاف کہیں نہ کہیں سے آواز اٹھتی ہی رہتی ہے اور اس قسم کی آواز اٹھانے والوں کی پذیرائی بھی ہوتی ہے اور انھیں جمہوریت کا سچا دوست اور حامی بھی سمجھا جاتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ زرداری صاحب نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف جو جانبازانہ تقریر فرمائی ہے اس کا تعلق کیا جمہوریت کی بالادستی سے ہے؟ اس سوال کا جواب زرداری صاحب نے خود اپنی اسی تقریر میں دے دیا ہے۔ فرماتے ہیں ''اگر اسٹیبلشمنٹ نے ہمیں تنگ کرنا نہیں چھوڑا تو ہم اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔'' اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ فوج کو اس لیے للکارا جا رہا ہے کہ وہ انھیں تنگ کر رہی ہے۔ ہم حیران ہیں کہ کیا کوئی سنجیدہ اور دور اندیش سیاستدان اس طرح کا جواز پیش کر سکتا ہے۔ اگر زرداری صاحب ''پپو یار تنگ نہ کر'' نہ بھی کہتے تو ان کا مقصد پورا ہو جاتا لیکن جس پارٹی کو دانشورانہ اعانت حاصل نہیں ہوتی اس پارٹی کے رہنما اسی قسم کی تقاریر کرتے رہتے ہیں۔

عوام کے ذہنوں میں فطری طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ زرداری صاحب یا ان کے ساتھیوں کو کون تنگ کر رہا ہے اور کیوں کر رہا ہے؟ اس سوال کے جواب سے میڈیا بھرا پڑا ہے، ڈی جی رینجرز نے اپیکس کمیٹی کو دی جانے والی رپورٹ میں سیاستدانوں سمیت مختلف لوگوں اور اداروں پر الزام لگایا ہے کہ وہ 230 ارب روپوں کی کرپشن میں ملوث ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ڈی جی رینجرز نے کرپٹ افراد کی فہرست بھی پیش کی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اس فہرست میں پیپلز پارٹی کے متعدد ارکان پارلیمنٹ اور سابق وزراء کے نام بھی ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ کہہ رہے ہیں کہ رینجرز اختیارات سے تجاوز کررہے ہیں۔ اس ایک مثال سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ تنگ کرنے کی شکایت بے جا نہیں۔ لیکن میڈیا کے مبصرین فرما رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ نے آپریشن کے حوالے سے جو قدم اٹھایا ہے وہ اسے واپس نہیں لے گی، ادھر پی پی کہہ رہی ہے کہ نہ ہم زرداری کا بیان واپس لیں گے نہ بیک فٹ پر کھیلیں گے؟ پھر۔۔۔۔؟

مقبول خبریں