سرینگر پولیس کا احتجاجی ملازمین پر وحشیانہ لاٹھی چارج درجنوں گرفتار

سول سیکریٹریٹ کی طرف مارچ کرنیوالے ملازمین پرآنسو گیس شیلنگ، پبلک سیفٹی ایکٹ منسوخ کیاجائے،ایمنسٹی انٹرنیشنل.


News Agencies October 15, 2012
حکومت وعدے پورے کرنے میں سنجیدہ نہیں، مظاہرین، ضلع بڈگام کی پنچایت کے مزید ممبروں نے استعفے دیدیے. فوٹو: اے ایف پی/ فائل

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے قابض انتظامیہ کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے ملازمین پر طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے درجنوں ملازمین کو گرفتار کر لیا۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس نے پریس کالونی سے سول سیکریٹریٹ کی طرف مارچ کرنے والے ملازمین پرشدید لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ پولیس نے احتجاجی ملازمین کو منتشر کرتے ہوئے درجنوں ملازمین کو گرفتارکر کے پولیس تھانہ رام منشی باغ میں بند کر دیا۔اس موقع پر مظاہرین نے الزام لگایا کہ حکومت ملازمین سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ ادھر انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں رائج کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کی منسوخی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے کی کٹھ پتلی انتظامیہ اس کالے قانون کو لوگوں کو بلا جواز طورپر عدالتوں میں پیش کیے بغیر نظربند کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل نے نئی دلی میں جاری ہونے والے ایک بیان میں پبلک سیفٹی ایکٹ کو ایک غیر قانونی قانون قراردیا جس کے تحت پولیس کسی بھی مشتبہ شخص کو گرفتارکر کے مقدمہ چلائے بغیر دو سال تک جیل میںنظربند رکھ سکتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے ضلع بڈگام سے تعلق رکھنے والے پنچایت کے مزید ممبروں نے مقامی اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے اپنے استعفے دے دیے ہیں۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق یہ استعفے ہفتے کے روز اس وقت دیے گئے ہیںجب بھارتی وزیر داخلہ سشیل کمار مقبوضہ علاقہ کے تین روزہ دورہ پر ہیں۔