محفل میں اس خیال سے پھر آگیا ہوں میں
یعنی جدائی کا دوراہا آگیا ہے جانان تم اپنی دیکھ اور میں اپنی دیکھوں گا
سنا آپ نے ... لگتا ہے آج کل ہمارے ہاں خوش خبریوں کا سیزن پورے جوبن پر ہے یہاں وہاں نہ جانے کہاں کہاں سے مژدہ ہائے جاں فزا پھوٹ رہے ہیں، ابھی بلدیاتی انتخابات پر خوشی کا عالم طاری تھا کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان این جی اوز کی ناچاقی دور ہو گئی اور ابھی ابھی یہ خوش خبری ملی ہے کہ قومی وطن پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان روٹھا روٹھی کا دی اینڈ ہونے والا ہے۔
بلکہ ہو سکتا ہے کہ ان سطور کے چھپنے سے پہلے یہ نکاح تازہ بھی ہو چکا ہو، کیا مزہ اس ملاپ میں ہے جو صلح ہو جائے جنگ ہو کر، اس لیے تو بزرگ کہا کرتے ہیں کہ سارے رشتے ناطے ایک دم نہیں توڑنے چاہیں، کچھ نہ کچھ ''ریشے'' باقی بھی رہنے دینا چاہیے تاکہ دوبارہ جوڑنے میں آسانی ہو، سنا ہے اس سلسلے میں عرب شیوخ بڑے دانا ہوتے ہیں حرم میں نکاحوں کی ساری ویکنسیاں بھری ہوئی ہوں اور اچانک کسی نئے مستحق بے روزگار کو ''سہارا'' دینا پڑ جائے تو اس کے لیے بڑا ہی محفوظ بے ضرر اور کثیر المقاصد طریقہ اختیار کیا جاتا ہے پہلی والی چاروں میں سے کسی ایک کو ایک یا دو طلاقیں دے کر ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے یا یوں کہئے کہ باتنخواہ چھٹی پر بھیج دیا جاتا ہے الگ بنگلہ اور نان و نفقہ ڈال کر وہ نیم مطلقہ یا نیم منکوحہ تعطیلات مناتی ہے اور ادھر خالی ویکنسی پر نئے کنڈیڈیٹ کو رکھ لیا جاتا ہے۔
یوں مشق سخن اور چکی کی مشقت دونوں جاری رہتے ہیں تا آنکہ پھر کوئی ''اونچ نیچ'' ہو جائے کیوں کہ حالات ہمیشہ تو ایک جیسے نہیں رہتے ''حالات'' ایک جیسے رہیں بھی تو ''خیالات'' اور عیالات اور اہلیات تو ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں، کبھی کے دن بڑے اور کبھی کی راتیں، یعنی تعطیلات پر بھیجے ہوئے اہل کار کی ضرورت پڑ جاتی ہے تو حاضر ''اسٹاف'' میں سے کسی ایک کو ''دو طلاقوں'' کے ساتھ الگ کر دیا جاتا ہے اور نکاح تازہ کر کے ڈیوٹی پر بلا لیا جاتا ہے۔
اس کثیر المقاصد اور کثیر الوقوع طریقے سے کام بھی نہیں رکتا کمپنی بھی چلتی رہتی ہے اور ''اہل کار'' بھی بے روزگار نہیں ہوتے بلکہ بچوں کی پروڈکشن بھی حسب معمول چلتی رہتی ہے، سچ پوچھئے تو سیاسی نکاحوں اور طلاقوں میں یہی طریقہ ایک افضل طریقہ ہے ایک ساتھ مکمل تین طلاقیں نہیں دینی چاہئیں نا جانے سیاست کی کس گلی یا چور دروازے میں ضرورت پڑ جائے، گویا
سرمیںسودابھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں
لیکن اس ترک تعلق کا بھروسہ بھی نہیں
مدتیں گزریں تری یاد بھی آئی نہ ہمیں
ہم تجھے بھول گئے ہوں مگر ایسا بھی نہیں
اب اس نئی صورت حال پر بلکہ صحیح معنوں میں خوش خبری ملنے پر ہمارا ''پھولے نہ سمانا'' قطعی ایک فطری امر ہے بلکہ اس پر خوشی کا کچھ نہ کچھ اظہار تو بنتا ہی ہے، چاہیے تو یہ کہ ہم کچھ مٹھائی وٹائی کا چکر بھی چلا دیتے لیکن وہ جو کسی نے کہا ہے کہ اے ''خالی ہاتھ'' تو ہی میرا سب سے بڑا دشمن ہے لیکن الفاظ اور قصہ کہانیوں پر تو ہمارا زور نہیں چلتا ہے اور اپنے پاس مال بھی بہت ہے اس لیے سب سے پہلے تو ان دونوں پارٹیوں کو شکریہ کہنا چاہتے ہیں۔
وہ پاؤں میں پڑ جائے گا
تو مان بھی جاؤں گی میں
یعنی جدائی کا دوراہا آگیا ہے جانان تم اپنی دیکھ اور میں اپنی دیکھوں گا، آپ نہیں جانتے جتنا عرصہ یہ فراق کا درد رہا ہماری کیا حالت رہی، دن رات یہی فکر لگی رہتی تھی کہ اللہ جانے کیا ہو گا مولا جانے کیا ہو گا آگے
یہ سانحہ بھی محبت میں بارہا گزرا
کسی نے حال بھی پوچھا تو آنکھ بھر آئی
بارے خدا خدا کر کے ہجر کے وہ دن چلے گئے، اگرچہ اتنے عرصے میں باقی تین ٹانگوں نے سارا بوجھ اٹھایا ہوا تھا لیکن یہ صرف ہم جانتے ہیں کہ ان تین ٹانگوں پر کیا گزر رہی تھی، بہرحال جو کچھ ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے دونوں کو یہ احساس ہو گیا کہ ایک دوسرے کے بغیر اگر وہ زندہ بھی ہیں تو شرمندہ رہیں گے تب وہی بات ہو گئی، کہانی پرانی ہے اور ہم اکثر سناتے رہتے ہیں کیوں کہ سیاست میں یہی ہوتا رہتا ہے کہ
شاید مجھے نکال کے ''کچھ'' کھا رہے ہوں آپ
محفل میں اس خیال سے پھر آگیا ہوں میں
بیوی جب تازہ تازہ بیاہ کر آئی تو بات بات پر شوہر کو میکے جانے کی دھمکیاں دینے لگی اور ماں باپ کے گھر کے ''وارے نیارے''بتاتی رہی، شوہر بھی تنگ، ایک دن جب اس نے برقعہ اٹھایا تو اس نے پلٹ کر خبر تک نہیں لی، اب وہ میکہ کہاں تھا چنانچہ کچھ ہی دنوں میں بے چاری زچ ہو کر رہ گئی چپکے چپکے شوہر کو سندیسے بھی بھیجے لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا ،آخر کار ایک دن تنگ آکر گھر کے باہر کھڑی ہو گئی شام کو جب جانور گھر آنے لگے تو اس نے بھی ایک گائے کی دم پکڑ اور پیچھے پیچھے گھر میں ''ان'' ہو گئی۔ شوہر نے کہا کیوں آگئی نا ۔۔۔ بولی کون میں ؟ میں کہاں آنے والی تھی لیکن وہ تو یہ گائے مجھے چھوڑ نہیں رہی تھی اس لیے پیچھے پیچھے آگئی، ایسے معاملات میں ''گائے'' اور اس کی دم کہیں نہ کہیں ہاتھ لگ ہی جاتی ہے۔