سندھ کی بدنصیبی
پیپلز پارٹی کی سینٹرل کمیٹی نے اپنے چیئرپرسن کے بیان کی توثیق کی۔
رینجرز نے کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفتر پر چھاپہ مارا۔ سندھ کے دو وزراء اورکئی بیوروکریٹس نے سندھ ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت حاصل کرلی۔آصف علی زرداری نے تقریر کی کہ تنگ مت کرو ورنہ اینٹ سے اینٹ بجادیں گے۔
پیپلز پارٹی کی سینٹرل کمیٹی نے اپنے چیئرپرسن کے بیان کی توثیق کی۔ الطاف حسین اورآصف زداری میں رابطہ ہوا۔وزیر اعظم نواز شریف نے سابق صدر سے ملاقات ملتوی کردی۔ زرداری کے افطار ڈنر میں صرف ایم کیو ایم، مسلم لیگ ق اور اے این پی کے رہنماؤں کے علاوہ مولانا فضل الرحمن آئے۔ نومنتخب سینیٹر شیری رحمن نے اپنے چیئرپرسن کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ زرداری نے سابق جرنیلوں کا ذکر کیا تھا۔
رانا ثناء اﷲ کا کہنا ہے کہ اداروں کو اپنے دائرے میں رہ کرکارروائی کرنی چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے رینجرز کے اقدامات کے خلاف اعلیٰ فوجی افسروں سے تحریری شکایت کی۔ نیشنل پارٹی کے سربراہ سینیٹر حاصل بزنجو نے تبصرہ کیا کہ پیپلز پارٹی کو اپنی شکایات ایپکس کمیٹی میں پیش کرنی چاہئیں۔
اس کے ساتھ ہی رینجرز نے کئی افسروں کے خلاف چارج شیٹ عدالت کے حوالے کی، جس کی وجہ سے ٹی وی چینلز کو چارج شیٹ میں لگائے گئے الزامات سارا دن نشرکرنے کا موقع ملا۔ ایک اینکر پرسن کا کہنا ہے کہ کئی افسران اور لیاری گینگ وار کا ایک بڑاملزم جلد ہی گانے گائے گا۔سندھ کی صورتحال پھرگھمبیرہوگئی۔
سندھ صوبے کی بدقسمتی یہ ہے کہ گزشتہ 40 برسوں سے بدترین طرزِ حکومت اورکرپشن کا شکار ہے۔ سابق جنرل ضیاء الحق کے دورِحکومت میں بجلی کا بحران پیدا ہوا۔ کراچی شہر میں مختلف نوعیت کے مافیاز بننی شروع ہوئیں۔ سندھ میں انفراسٹرکچر کی ترقی پر اس طرح توجہ نہیں دی گئی، جس طرح پنجاب اورخیبر پختون خوا میں دی گئی تھی، اسٹیبلشمنٹ کی ایماء پر 1986 سے سندھ مختلف نوعیت کے فسادات کا شکار رہا۔
ان فسادات کا محورکراچی تھا۔اس ماحول میں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کی دو دو حکومتیں قائم ہوئیں اورکراچی کے حالات کے بگاڑ کا الزام لگا کر ان حکومتوں کو برطرف کیا گیا۔ پیپلز پارٹی کا پہلا دور 16 مہینوں کا تھا مگر دوسرا دور 2 سال سے زائد عرصے پر محیط تھا۔اس دور میں کراچی میں انفرا اسٹرکچر کی ترقی پر توجہ دی گئی اور اندرونِ سندھ کچھ ترقیاتی منصوبے شروع کیے گئے مگر اس طرح کی ترقی نہ ہوسکی جیسے میاں صاحب کے دور میں پنجاب میں ہوئی۔ مگر پیپلز پارٹی کی حکومت پر کرپشن کے الزامات لگ گئے، آصف زرداری نے ان الزامات کی بناء پر مجموعی طور پر 10 سال ملک کی مختلف جیلوں میں گزارے۔
سابق صدر پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں نچلی سطح کے بلدیاتی نظام کی بناء پر کراچی اور حیدرآباد میں خاطرخواہ ترقی ہوئی مگر لینڈ مافیا، پانی مافیا، ٹرانسپورٹ مافیا، اسلحہ مافیا اور ان سے منسلک انتہاپسند تنظیموں نے کراچی میں اپنی جڑیں مضبوط کرلیں۔
اس وقت کی برسرِ اقتدار جماعتیں ان مافیاز کی سرپرستی کرنے لگیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی تو سپر ہائی وے، نیشنل ہائی وے اور ناردرن بائی پاس کے درمیانی علاقے میں ہونے والی لڑائی کراچی میں داخل ہوئی،جو پھر ایم کیو ایم اور اے این پی کے کارکنوں کی لڑائی کی شکل اختیار کرگئی۔
آصف زرداری نے سندھ کے سینئر رہنما قائم علی شاہ کو وزیر اعلیٰ مقرر کیا۔ قائم علی شاہ 1988 میں بھی وزیر اعلیٰ تھے۔ اس وقت کی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے اپنی حکومت کی برطرفی کے چند ماہ قبل ہی قائم علی شاہ کو تبدیل کرکے آفتاب شعبان میرانی کو وزیر اعلیٰ بنایا تھا۔ قائم علی شاہ وزیر اعلیٰ تو بن گئے مگر ساتھ میں کئی اہم شخصیتیں بھی وزیر اعلیٰ بن گئیں۔ ایوانِ صدر نے سندھ کے انتظامی معاملات کو درست کرنا شروع کیا۔ مستقل کمانڈ نہ ہونے سے سندھ کا نظامِ حکومت براہِ راست متاثر ہوا۔کرپشن کی داستانیں عام ہونے لگیں۔
ہر محکمے میں یہ شکایت عام ہوگئی کہ وزیر صاحبان نے اپنے شعبے کی ہر آسامی کی قیمت لگائی، ٹرانسفر اور پوسٹنگ کا معاملہ بازار میں طے ہونے لگا۔ شہر میں امن وامان کی صورتحال بگڑتی گئی۔ فرقہ وارانہ لسانی بنیادوں پر ٹارگٹ کلنگ نے تمام حدیں پارکرلیں۔ اغواء برائے تاوان، بھتے کی پرچیوں نے تاجروں، صنعتکاروں، ڈاکٹروں اور پروفیشنلز کی زندگیوں کو زندہ درگور کیا۔ تاجروں و صنعتکاروں نے فوج سے اپیلیں شروع کردیں۔
ایک وقت وہ آیا کہ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے سائٹ کے صنعتکاروں کی اپیل پر کراچی کا دورہ کیا اور ان صنعتکاروں کے تحفظ کے لیے سیکیورٹی پلان تیار کیا۔ سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے یہ الزامات سامنے آنے لگے کہ سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز قائم ہیں اور ٹارگٹ کلنگ میں سیاسی جماعتیں ملوث ہیں۔ اس وقت بھی یہ مطالبہ ہوا کہ سندھ میں حکومت کو تبدیل کیا جائے اور ایک بااختیار وزیر اعلیٰ مقرر کیا جائے۔ مگر زرداری کچھ کرنے پر آمادہ نہیں تھے۔
سندھ میں ترقی کا عمل رک گیا۔ کراچی سمیت تمام شہروں میں انفرا اسٹرکچر تباہ ہوا، ہر سال منظور ہونے والے ترقیاتی فنڈز میں خرد برد ہونے لگی۔ سندھ کا ہر شعبہ اس صورتحال سے متاثر ہوا، حتیٰ کہ یہ بات مشہور ہوگئی کہ سندھ کی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرکے تقررکا معاملہ بھی لین دین سے منسلک ہوگیا ہے۔ میڈیا میں ایسی خبریں عام سی بات بن گئیں۔ حتیٰ کہ سندھی اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا میں بھی کرپشن کی مذمت ہونے لگی۔ گزشتہ سال دسمبر میں پشاور آرمی پبلک اسکول پر حملے کے بعد نیشنل ایکشن پلان تیار ہوا تو ایپکس کمیٹیاں بنیں۔
ان کمیٹیوں میں پیپلز پارٹی بھی شامل ہوئی۔ ایپکس کمیٹی کے ذریعے رینجرز نے یہ اختیار حاصل کیا کہ دہشت گردی کو طاقت دینے والی مالیاتی پائپ لائن کو کاٹنے کے لیے وہ کارروائی کر سکتی ہے۔ اب رینجرزسندھ بھی متحرک ہوئے توفوری طور پر پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم ان کا نشانہ بنے۔
ایک سینئر صحافی کا کہنا ہے کہ اگلا نمبر جماعتِ اسلامی کا ہوگا۔ 18ویں ترمیم کے بعد صوبے مکمل بااختیار ہیں۔کسی وفاقی ادارے کو صوبائی حکومت کی مرضی کے بغیر صوبے کے معاملات مداخلت کا حق نہیں ہے۔ کسی فرد کے خلاف محض میڈیا پر الزامات لگانا جب کہ اس فرد کواپنے مؤقف دینے کا حق حاصل نہ ہو قانونی اور اخلاقی طور پر غلط ہے۔ اس حربے کے ماضی میں بھی منفی نتائج سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کمزور ہوگئی تو وفاق میں مسلم لیگ کی حکومت پر بھی ضرب لگے گی۔ اس کمزور نظام کا اسٹیبلشمنٹ پر انحصار اور زیادہ ہوجائے گا۔ سندھ کے مسائل کا حل ایک بااختیار وزیر اعلیٰ کا تقرر ہے جو کرپشن کے بارے میں صفر برداشت پالیسی اختیار کرے اورکرپشن اور دیگر جرائم میں ملوث افراد کو تحفظ فراہم نہ کرے۔ مگر جمہوری نظام کو لپیٹا گیا تو ملک پھر سنگین بحران کا شکارہوگا۔ مسئلے کا حل اچھی طرزِحکومت میں ہے۔