طبعی موت یا قتل

کراچی کے عوام کی بد قسمتی یہ ہے کہ ملک کے دوسرے شہروں کے مقابلے میں انھیں بجلی کی زیادہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔


Zaheer Akhter Bedari June 27, 2015
[email protected]

میڈیا کی رپورٹس کے مطابق حالیہ گرمی کی لہر کے دوران کراچی میں 13سو اور ملک بھر میں 15سو افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اگر گرمی کی یہ لہر کچھ دن اور جاری رہی تو مزید جانی نقصان ہوسکتا ہے۔گرمی کی شدت سے جاں بحق ہونے والے ان 15 سو افراد کا مجموعی تعلق ان طبقات سے ہے جن کے گھروں میں ایک دو بجلی کے پنکھے ہوتے ہیں۔ گرمی سے بچائو کا خواہ گرمی کی شدت کتنی ہی کیوں نہ ہوں یہی پنکھے وسیلہ ہوتے ہیں۔

کراچی کے عوام کی بد قسمتی یہ ہے کہ ملک کے دوسرے شہروں کے مقابلے میں انھیں بجلی کی زیادہ لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔ حالیہ گرمی کی لہر کے دوران جو لوگ جاں بحق ہوئے ہیں ان کی ظاہری وجوہات سن اسٹروک حبس، دم گھٹ جانا وغیرہ ہیں لیکن حبس، دم گھٹنا جیسے واقعات اس لیے پیش آئے کہ گھروں میں بجلی نہیں تھی، پنکھے ساکن تھے اگر بجلی ہوتی اور پنکھے ہوا پھینکتے رہتے تو دم گھٹنے، حبس وغیرہ کی کیفیت پیدا نہ ہوتی اور عوام کو اس قدر بھاری جانی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑتا، پاکستان کی 68 سالہ تاریخ میں گرمی کی شدت سے کبھی اس قدر نقصان نہیں ہوا جتنا پچھلے چار چھ دنوں میں ہوا ہے۔

ہماری صوبائی حکومت کا کہناہے کہ اس جانی نقصان کی ذمے دار کے الیکٹرک ہے، صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکمران جماعت کے وزرا بھی کے الیکٹرک پر گرجتے برستے رہے وزیر تعلیم نثارکھوڑو نے کے الیکٹرک کی بد انتظامی کے خلاف دھرنا دینے کا اعلان کیا۔ ہمارا نہ کوئی تعلق ہے نہ اس پر ہمارا کوئی کنٹرول ہے۔

ہمارے وزیراعظم میاں نواز شریف روایت کے مطابق کراچی کے جاں بحق افراد کے لواحقین کے ساتھ اظہار ہمدردی کی اور وزیر بجلی خواجہ آصف نے فرمایا کہ بجلی کے قومی ادارے KESC کی نجکاری پیپلز پارٹی کی حکومت نے کی اور اسے پرائیویٹ پارٹی کے ہاتھوں بیچنے کی ذمے داری بھی پیپلزپارٹی پر عائد ہوتی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ KESC کو پیپلزپارٹی کے دور حکومت ہی میں بیچا گیا لیکن موجودہ حکومت KESC سے زیادہ اہم کئی قومی اداروں کو پرائیویٹ پارٹیوں کے ہاتھوں بیچ چکی ہے اور کئی کو بیچنے کی تیاری کررہی ہے۔

سرمایہ دارانہ معیشت میں نجکاری ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، جس کے دو بنیادی فوائد ہوتے ہیں، قومی اداروں کو اپنے عزیزوں، دوستوں کے ہاتھوں بیچا جاتا ہے اور اس ڈیل میں اربوں روپوں کی خورد برد ہوتی ہے اس کا دوسرا فائدہ اس پارٹی کو ہوتا ہے جو قومی اداروں کو اونے پونے خرید کر انھیں اربوں روپوں کی کمائی کا ذریعہ بنالیتی ہے۔

کلچرکو روکنے ہی کے لیے روس اور اس کے ساتھی سوشلسٹ ملکوں نے قومی اداروں کو قومی ملکیت میں لینے یعنی نیشنلائز کرنے کا کلچر متعارف کرایا تھا جو نصف صدی تک کامیابی سے چلتا رہا، چوں کہ سوویت روس کی اس نیشنلائزیشن کی پالیسی کو دنیا بھر میں مقبولیت حاصل ہورہی تھی اور منڈی کی معیشت کو شدید خطرات لاحق ہوگئے تھے۔ لہٰذا امریکا اور اس کے حواریوں نے سوشلسٹ معیشت کے خلاف نہ صرف پروپیگنڈے کا ایک طوفان اٹھادیا بلکہ سوشلسٹ بلاک کو ناکام بنانے کے لیے ہر محاذ پر جنگ شروع کی اور اس جنگ کو اسٹار وار تک لے جاکر سرد جنگ کو اس مقام تک پہنچادیا کہ سوشلسٹ بلاک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا۔

آج ہم جس منڈی کی معیشت کا سامنا کررہے ہیں اس میں قدم قدم پر ایک کے الیکٹرک کھڑی ہوئی ہے اور بے گناہ عوام بجلی سے محرومی کی وجہ سے دم گھٹ کر مر رہے ہیں۔ صوبائی حکومت اس جرم کی ذمے داری مرکزی حکومت پر ڈال رہی ہے اور مرکزی حکومت اس قتل عام کی ذمے داری صوبائی حکومت پر ڈال رہی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ اس قتل عام کا اصل ذمے دار وہ کارپوریٹ کلچر ہے ۔

جس کا اٹھنا بیٹھنا، جینا مرنا، سب منافع اور منافع سے بندھا ہوا ہے اور اس کی نظر میں غریب انسان کی حیثیت مکھی مچھر سے زیادہ نہیں ہوتی اور ہماری مرکزی اور صوبائی تمام حکومتیں اور تمام ادارے اس کارپوریٹ کلچر کے غلام ہیں، اس کارپوریٹ کلچر کو رواں رکھنے والے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک وغیرہ ہیں جو پسماندہ ملکوں کی معیشت پر قبضہ کیے ہوئے ہیں ہم آئے دن بجلی گیس پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جن اضافوں کا بوجھ برداشت کرتے ہیں، یہ ان ہی اداروں کی مہربانی کا نتیجہ ہیں حتیٰ کہ ہمارا بجٹ تک ان اداروں کا مرہون منت ہوتا ہے۔

اب آئیے اس تناظر میں کراچی میں گرمی کی لہر سے جاں بحق سو بے گناہ افراد کے قتل کے ذمے داروں پر نظر ڈالتے ہیں۔ قتل کرنے کے لیے عموماً کوئی نہ کوئی ہتھیار استعمال ہوتا ہے اور ہتھیار کے ذریعے کسی کو قتل کرنے والے کو قاتل کا نام دیا جاتا ہے جس کی سزا موت ہوتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا قتل ہتھیار ہی کے ذریعے کیے جاتے ہیں؟

دنیا میں ہر سال لاکھوں انسان بھوک کی وجہ سے مرجاتے ہیں، لاکھوں انسان علاج معالجے کی سہولتوں سے محرومی کی وجہ سے مر جاتے ہیں لاکھوں بچے غذا کی محرومی یا ناقص غذا کی وجہ سے مرجاتے ہیں اور لاکھوں خواتین دوران حمل اور زچگی کے دوران ناقص غذا کی وجہ سے موت کا شکار ہوجاتی ہیں موت عموماً طبعی عمر گزارنے کے بعد آتی ہے لیکن جو لوگ بھوک، ناقص غذا کی وجہ سے طبعی عمر گزارنے سے قبل موت کا شکار ہوجاتے ہیں کیا ان کی موت کو طبعی کہا جائے گا یا قتل؟ ظاہر ہے یہ اموات اس نامنصفانہ اور ظالمانہ نظام کا نتیجہ ہیں جس میں ہم زندگی گزار رہے ہیں اور یہ طبعی موت نہیں بلکہ کھلا قتل عام ہے۔

کراچی کے 13 سو بے گناہوں اور پاکستان کے 15 سو بے گناہ افراد کی گرمی کی لہر سے موت ایک کھلا قتل ہے۔ کراچی کے 13 سو اور پاکستان کے 15 سو افراد طبعی موت سے نہیں مرے بلکہ انھیں قتل کیا گیا۔ جس کے گواہ کراچی کے ڈیڑھ کروڑ عوام، ایدھی سینٹر، جناح اور سول اسپتال وغیرہ کے مردہ خانے ہیں اور جس کے ثبوت وہ قبریں ہیں جہاں گرمی کی لہر سے جاں بحق ہونے والوں کو دفن کیا گیا ہے۔

15 سو افراد کے قتل کے گواہ اور ثبوت ہم نے پیش کردیے کیا ہمارے قانون اور انصاف کے نظام میں اس بالواسطہ قتل کے لیے کوئی سزا ہے کیا ایک ایک قتل پر JITتشکیل دینے والا حکمران طبقہ اس قتل عام پر کوئی JITیا جوڈیشل کمیشن قائم کرے گا جو اصل قاتلوں کو تلاش کرکے انھیں تختہ دار تک پہنچا سکے؟

مقبول خبریں