آفت اور طرزِ حکومت
کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں قائم ایدھی کے مردہ خانے کے سامنے ہجوم جمع تھا۔
کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں قائم ایدھی کے مردہ خانے کے سامنے ہجوم جمع تھا۔ بہت سے لوگ اپنے پیاروں کو تلاش کررہے تھے۔ شہرکے دیگر مردہ خانوں کے سامنے بھی کچھ ایسا ہی سماں تھا۔ محمد فیصل کے والد پہلے روزے کے دن اپنے دکان پرگئے مگر پھر گھر لوٹ کر نہیں آئے۔ ان کی لاش ایدھی سرد خانے میں ملی۔کراچی میں سورج نے آگ اگلنا شروع کردی۔
4دن میں صرف بڑے اسپتالوں میں 1000کے قریب افراد کی اموات رپورٹ ہوئیں اورکئی ہزار افراد متاثر ہوئے۔ وزیر اعلیٰ سندھ گھر سے نہیں نکلے اور وزیر اعظم نے کراچی آنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ چھوٹے اسپتالوں اورگھروں میں کتنے لوگ جاں بحق ہوئے وہ اعداد وشمار مرتب نہیں ہوسکے۔ مردہ خانوں میں جگہ خالی نہ رہی، قبرستانوں میں قبروں کی جگہ کی قلت پیدا ہوگئی ، بجلی اور پانی کی نایابی نے صورتحال کو مزید خراب کردیا۔ حکومتِ سندھ اور وفاقی حکومت لوگوں کے دکھوں کا مداوا نہیں کرسکی۔
اس آفت پر ایمرجنسی نافذ نہیں ہوئی۔ مرنے والوں کی اکثریت غریبوں پر مشتمل ہے۔ ماہِ رمضان میں کراچی شہر میں اس عذاب کی ذمے داری کس پر ہے؟ کراچی میں عمومی طور پر گرمیوں کے مہینوں میں درجہ حرارت 30 سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا ہے، کبھی کبھار ایک یا دو دن کے لیے درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے تو شہر میں ایک شور مچ جاتا تھا۔ بحیرہ عرب سے آنے والی ٹھنڈی ہواؤں کی بناء پر کراچی کی شامیں ہمیشہ خوشگوار محسوس ہوتی تھیں۔ محکمہ موسمیات نے اس دفعہ کراچی میں غیر معمولی گرمیوں کی پیشگوئی نہیں کی تھی۔
گزشتہ دو ماہ کے دوران بھارت میں شدید اور غیر معمولی گرمی پڑ رہی تھی۔ یہ گرمی بھارت کی ریاست پنجاب سے لے کر بہار تک پڑی تھی۔ پاکستان کی سرحد سے متصل علاقے بھی اس شدید گرمی کی لپیٹ میں تھے۔ مگر محکمہ موسمیات نے اس کے پاکستانی علاقوں خاص طور پر جنوبی پاکستان میں ممکنہ اثرات پرکوئی توجہ نہیں دی تھی۔ خطے میں ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو محسوس ہی نہیں کیا گیا تھا۔ اس بناء پر کراچی کے شہر ی میں رمضان المبارک میں اچانک اس آفت کا شکار ہوگئے۔ سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے پروفیسر ڈاکٹر مرلی دھر اس صورتحال کی ذمے داری محکمہ موسمیات، سٹی گونمنٹ کے شعبہ صحت اور میڈیا ہاؤسز پر عائد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محکمہ موسمیات گرم موسم کے بارے میں درست پیشگوئی کرنے میں ناکام رہا۔
محکمہ صحت نے گرمی کی شدت بڑھتے ہی ایمرجنسی نافذ نہیں کی۔ حکومت ِ سندھ اور سٹی گورنمنٹ کے شعبہ صحت نے پورے شہر میں امدادی کیمپ قائم نہیں کیے۔ اسی طرح میڈیا نے لو سے بچاؤ کی احتیاط پر مبنی ہدایات کے لیے کمپین نہیں چلائی۔
کراچی میں بجلی اور پانی کا نظام گزشتہ کئی برسوں سے بگڑا ہوا ہے۔ کراچی میں بجلی کی فراہمی کی ذمے دار کراچی الیکٹرک نے شہرکو طبقاتی بنیاد پر تقسیم کیا ہوا ہے۔ امراء اور درمیانی طبقے کے وہ علاقے جہاں بجلی کے بلوں کی ادائیگی کی تناسب 100 فیصد ہے وہاں لوڈ شیڈنگ نہیںہوتی ،جن علاقوں میں بلوں کی ادائیگی کا تناسب 50 فیصد سے قریب ہے جہاں دن میں دو سے تین دفعہ ایک ایک گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے اور جہاں بجلی کی چوری کا تناسب بہت زیادہ ہے وہاں 8 سے 10 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔
بجلی والوں نے کاپر کے تیار کردہ ایسے تار بچھانے شروع کیے ہیں جن پر کنڈا نہیں لگ سکتا مگر شدید گرمی پڑتے ہی بجلی کا لوڈ مینجمنٹ بگڑ گیا۔ کاپر سے تیار کردہ تار گرمی کی شدت کو برداشت نہیں کرسکتا۔ لوڈ برداشت نہ کرنے کی بناء پر مختلف علاقوں میں نصب پی ایم ٹی جل گئیں۔ جس کے بعد متعلقہ عملہ بجلی کی فوری بحالی میں ناکام رہا۔ لوگ گھروں سے سڑکوں پر نکل آئے۔ کے الیکٹرک کے دفاتر اورگاڑیوں پر حملے بھی ہوئے۔ اس صورتحال میں بجلی کے عملے نے دفتروں میں پناہ لے لی۔ یوں اس افراتفری کا نقصان یہ ہوا کہ کئی کئی دن تک بجلی بحال نہ ہوسکی۔
لوڈ کی مانگ بڑھ جانے سے بجلی کے کرنٹ کا لوڈ کم ہوگیا۔ اس صورتحال میں پنکھوں اور ایئرکنڈیشنر نے کام کرنا چھوڑ دیا، بجلی کی بندش نے پانی کے بحران کو مزید گھمبیرکردیا۔ شہر کے بیشتر علاقوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی۔ امیروں کے علاقوں میں تو مہنگے داموں پانی کے ٹینکر دستیاب ہوگئے مگر غریب بستیوں میں پانی بالکل نایاب ہوگیا۔
بجلی اور پانی کی فراہمی معطل ہونے سے برف کی تیاری بھی رک گئی۔ اس سے عام آدمی کو گرمی سے بچاؤ کے لیے ٹھنڈا پانی اور برف بھی دستیاب نہیںہوسکے۔ اسپتالوں تک میں بجلی اور پانی موجود نہیں تھا۔ جو مریض بھی اسپتال تک پہنچ پاتا وہ ڈاکٹروں کی عدم موجودگی، ڈرپس اور دیگر دوائیوں کی کمی کی بناء پر موت سے نہ بچ سکا۔ جب ٹی وی چینلز نے رینجرز کے قائم کردہ طبی امداد کے سینٹرز کے بارے میں خبر بریکنگ نیوز کے طور پر چلائی تو صوبائی وزیر صحت معائنے کے لیے سول اسپتال پہنچے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے کسی اسپتال کا دورہ نہیں کیا اور دو دن بعد بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا نوٹس لیا۔ باقی وزراء سندھ اسمبلی کے ٹھنڈے ہال میں اپوزیشن کے ساتھ الفاظ کی جنگ میں مصروف رہے۔ زیادہ تر اموات لیاری، شاہ فیصل کالونی، کورنگی، ملیر، اورنگی اور دیگر غریب بستیوں میں ہوئیں۔
اگر سندھ کی حکومت اپنے وزراء کو فوراً شہرکے متاثرہ علاقوں میں بھیجتی، محکمہ صحت اور سٹی گورنمنٹ کے صحت کے محکمے سوشل سیکیورٹی کے صحت کے عملے کو متحرک کرتی اور مختلف علاقوں میں اسٹروک سینٹر قائم کردیے جاتے، جہاں جنریٹروں کے ذریعے ایئرکنڈیشنر لگا کر مریضوں کو طبی امداد فراہم کی جاتی تو مرنے کی شرح کم ہوتی۔ ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں جنگلات کے کٹاؤ سے موسم پر منفی اثرات رونما ہوتے ہیں۔
موٹر ویز اور بڑی عمارتوں کی تعمیر،کوئلے اور ایٹم سے بجلی پیدا کرنے، صنعتی اداروں سے خارج ہونے والی زہریلی گیسوں نے ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔گزشتہ دنوں جنوبی ایشیاء کے ماحولیات فورم کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جنوبی پاکستان میں شدید نوعیت کی خشک سالی کا خطرہ ہے۔ بھارت کے محکمہ موسمیات نے بھی اسی طرح کی پیشگوئی کی تھی۔ پاکستان کے محکمہ موسمیات نے جون کے آخر تک جنوبی پاکستان میں معمول سے زیادہ بارشوں کی پیشگوئی کی تھی۔
اس خشک سالی سے سندھ اور بلوچستان کے کپاس کے کسانوں کے براہِ راست متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے مگر اس رپورٹ کے اثرت پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا۔ جون کا مہینہ بغیر بارشوں کے گزرگیا اور اب پورے سندھ میں گرمی کی شدید لہر نے ایک دفعہ پھر ماحولیات کی بگاڑ کی طرف پوری قوم کی توجہ دلادی ہے۔ ماحولیات کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ قدرتی آفات کے اثرات کو سائنسی بنیادوں پر اقدامات اٹھا کرکم کیا جاسکتا ہے۔
اگر جنگلات کے کٹاؤ کو سخت جر م قرار دیا جائے، موٹر ویز اور بڑی عمارتوں کی تعمیر کو ماحولیات کے نقصان سے منسلک کیا جائے، صنعتی آلودگی کو روکنے کے لیے بین الاقوامی معیار کے مطابق اقدامات کیے جائیں ، کراچی میں اس سال 10 لاکھ درخت لگائے جائیں اورکراچی میں بجلی اور پانی کی فراہمی میں رکاوٹوں کو ختم کیا جائے ، اس کے علاوہ محکمہ موسمیات میں جدید آلات کی فراہمی، عملے کی تعلیم اور تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے ۔ صوبائی حکومت اچھے طرزِ حکومت کے ذریعے کام کرے اور عام آدمی کی زندگی کی اہمیت کو محسوس کیا جائے تو آیندہ ایسی صورتحال کا تدارک ہوسکتا ہے۔