وفاقی بجٹ کے خلاف احتجاج کاروباری برادری نے رابطے شروع کر دیے

راولپنڈی اورکراچی چیمبرزکے صدورکی ملاقات میں فیڈریشن اور ملک بھرکی تجارتی وصنعتی انجمنوں کواعتمادمیں لینے کافیصلہ


Ehtisham Mufti June 28, 2015
راولپنڈی اورکراچی چیمبرزکے صدورکی ملاقات میں فیڈریشن اور ملک بھرکی تجارتی وصنعتی انجمنوں کواعتمادمیں لینے کافیصلہ۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزارت خزانہ کی آل چیمبرزآف کامرس کے نشاندہی شدہ بجٹ اناملیزکودور کرنے میں عدم دلچسپی پرملک بھرکے چیمبرزآف کامرس سیخ پا ہوگئے۔

ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ ملک کے مختلف چیمبرزآف کامرس اورتجارتی وصنعتی انجمنیں وفاقی وزیر خزانہ اسحق ڈار کے رویے کے خلاف سخت احتجاجی لائحہ عمل اختیارکرنے پرمتفق ہوگئے ہیں اور اس سلسلے میں راولپنڈی چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدرسید اشہد مشہدی اور کراچی چیمبرآف کامرس کے صدرافتخاروہرہ نے مشترکہ حکمت عملی کے تحت ملک گیر احتجاج وہڑتال کے لیے روابط کا آغاز کردیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ہفتہ کو ہی دونوں چیمبروں کے صدور کے درمیان طویل دورانیے کا اجلاس منعقد ہوا جس میں یہ طے پایا کہ ملک بھر کے چیمبرزآف کامرس، تجارتی وصنعتی انجمنوں اور ایف پی سی سی آئی کے نمائندوں کو مکمل اعتماد میں لیتے ہوئے ملک گیراحتجاج یا ہڑتال پراتفاق رائے پیدا کیا جائے گا۔ ذرائع نے امکان ظاہر کیا کہ آل پاکستان چیمبرزآف کامرس کی جانب سے ماہ رمضان المبارک کے دوران ہی ملک گیر احتجاج اور ہڑتال کے شیڈول کا اعلان کر دیا جائے گا۔ اس سلسلے میں کراچی چیمبر آف کامرس کے صدر افتخار وہرہ نے ''ایکسپریس'' کے استفسار پر بتایا کہ ملک بھرکے تاجراعلان کردہ وفاقی بجٹ سے مایوس ہوچکے ہیں جبکہ وفاقی وزیرخزانہ اسحق ڈار اپنے رویے کی وجہ سے تجارتی وصنعتی شعبے میں مایوسی کو مزید پھیلارہے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ قبل ازبجٹ وفاقی حکومت کے کراچی چیمبر سمیت ملک کے دیگرچیمبرز آف کامرس کے نمائندوں کے ساتھ طویل دورانیے کے اجلاس منعقد ہوئے جس میں طویل تحقیق اور تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے قابل عمل نوعیت کی بجٹ تجاویز دی گئیں اور حکومتی نمائندوں نے ان تجاویز سے اتفاق بھی کیا لیکن بجٹ میں کسی ایک تجویز کو بھی شامل نہیں کیا گیا، حکومت کے اس یکطرفہ بجٹ پر ملک بھر کی تاجربرادری کو تحفظات لاحق ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ چیمبرز آف کامرس نے اعلان کردہ وفاقی بجٹ کی دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد متعدد نوعیت کے غیردانشمندانہ فیصلوں، اناملیز کی نشاندہی کی اور انہیں دور کرنے کے لیے وفاقی حکومت کو دوبارہ سفارشات ارسال کیں، بعد ازاں ملک بھرکے چیمبرزآف کامرس کے اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اجلاس میں بجٹ کا دوبارہ جائزہ لیا گیا اور بجٹ پرتاجربرادری کو درپیش خدشات کے حوالے سے حکومت کووارننگ دی گئی لیکن محسوس ہوتا ہے کہ وزیرخزانہ اسحق ڈار ملکی معیشت کو حقیقی معنوں میں تباہی کے دہانے پر پہنچانے کے ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔

اسی لیے بجٹ کے اعلان کے بعد نہ تو تاجربرادری کے نمائندوں کا سامنا کرنے کی ہمت سے محروم ہوگئے ہیں اور ملاقات کی متعدد درخواستوں کے باوجود تاجربرادری کے نمائندوں سے ملنے سے گریز کررہے ہیں لیکن وزیرخزانہ کے اس طرز عمل سے تاجربرادری میں مایوسی کی فضا بڑھتی جا رہی ہے جو بالآخر ملک گیراحتجاج وہڑتال میں تبدیل ہوجائے گی۔

مقبول خبریں