جون کلوزنگ و توانائی بحران کے باعث روئی کی ٹریڈنگ میں کمی کا رجحان

نئی پھٹی سے تیار روئی4900 تا5000، پرانی سے تیار5350 تا 5450 تک مستحکم، اسپاٹ ریٹ150 روپے گھٹ گئے


Business Reporter June 29, 2015
نئی پھٹی سے تیار روئی4900 تا5000 جب کہ پرانی سے تیار5350 تا 5450 تک مستحکم۔ فوٹو: فائل

JOHANNESBURG: مختلف عالمی زرعی اداروں کی جانب سے 2015-16 کے دوران کپاس کی پیداوار میں کمی، کھپت کے بارے میں اضافے کی رپورٹس اور بھارت و آسٹریلیا میں غیر متوقع بارشوں کے باعث گزشتہ کاروباری ہفتے کے آخری روز روئی کی عالمی منڈیوں میں روئی کی قیمتوں میں غیر معمولی تیزی کا رجحان سامنے آیا تاہم پاکستان میں گزشتہ ہفتے کے دوران جون کلوزنگ اور توانائی کے بحران کے باعث ٹریڈنگ میں کمی کا رجحان غالب رہا لیکن روئی کی قیمتوں میں تیزی یا مندی کا کوئی واضح رجحان سامنے نہ آسکا۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ عالمی منڈیوں میں تیزی کے اثرات رواں ہفتے کے دوران پاکستان میں بھی اثر انداز ہوں گے جس کے باعث رواں ہفتے کے دوران پاکستان میں روئی کی قیمتوں میں تیزی کا رجحان سامنے آسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رواں سال فروری مارچ کے دوران ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں کاٹن ایئر 2015-16 جولائی کے پہلے ہفتے میں شروع ہونے کا امکان تھا تاہم غیر متوقع طور پر سندھ کے بعض شہروں سے پھٹی کی جزوی چنائی شروع ہونے کے باعث اس وقت سندھ میں 9 جبکہ پنجاب میں 3 جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہونے کی اطلاعات ہیں تاہم معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے بیشتر جننگ فیکٹریاں جزوی طور پر آپریشنل ہیں جبکہ بعض جننگ فیکٹریوں میں پچھلے سال کی پھٹی بھی نئی پھٹی میں شامل کر کے جننگ کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیںجس کے باعث نئی پھٹی سے تیار ہونے والی روئی کی قیمتیں غیر متوقع طور پر کم دیکھی جا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان میں نئی پھٹی سے تیار ہونے والی روئی کی قیمتیں 4 ہزار 900 سے 5 ہزار روپے فی من تک دیکھی جا رہی ہیں جبکہ پرانی فصل سے تیار ہونے والی روئی کی قیمتیں 5 ہزار 350 سے 5 ہزار 450 روپے فی من تک مستحکم ہیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کے دوران نیویارک کاٹن ایکسچینج میں حاضر ڈلیوری روئی کے سودے 0.75 سینٹ فی پاؤنڈ اضافے کے ساتھ 72.50 سینٹ فی پاؤنڈ، اکتوبر ڈلیوری روئی کے سودے ریکارڈ 2.60 سینٹ فی پاؤنڈ اضافے کے ساتھ 68.21 فی پاؤنڈ، بھارت میں روئی کی قیمتیں 150 روپے فی کینڈی اضافے کے ساتھ 34 ہزار 539 روپے فی کینڈی، چین میں روئی کی قیمتیں 25یو آن فی ٹن اضافے کے ساتھ 12 ہزار 515 یو آن فی ٹن جبکہ کراچی کاٹن ایسوسی ایشن میں روئی کے اسپاٹ ریٹ 150 روپے فی من کمی کے بعد 5 ہزار 200روپے فی من تک رہے۔

احسان الحق نے بتایا کہ وفاقی بجٹ 2015-16 میں ٹیکسٹائل سیکٹر پر عائد مزید ٹیکسز اور توانائی کے بحران کے باعث کاٹن انڈسٹری میں بڑی تشویش پائی جا رہی ہے۔ ٹیکسٹائل اور کاٹن سیکٹر سے متعلقہ تمام تنظیموں میں ٹیکسٹائلز کی کم ہوتی ہوئی برآمدات کے باعث پائی جانے والی تشویش سے کاروباری سرگرمیوں میں دن بدن مندی کا رجحان سامنے آ رہا ہے جبکہ قبل ازیں توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ پاکستان کو ملنے والے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے باعث پاکستانی کاٹن ایکسپورٹس میں غیر معمولی اضافے کا رجحان سامنے آئے گا لیکن حکومتی پالیسیوں کے باعث ٹیکسٹائل ایکسپورٹس میں مسلسل کمی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے جس کے باعث زر مبادلہ کے ذخائر میں ہونے والی کمی کو مہنگے قرضے لے کر تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں جبکہ حقیقت میں یہ چاہیے تھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر مہنگے قرضوں کے بجائے برآمدات سے حاصل ہونے والی زرمبادلہ کے ذخائر سے بھرے جاتے۔ ٹیکسٹائل اور کاٹن تنظیموں نے وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے اپیل کی ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر پر عائد ٹیکسوں میں فوراً کمی کے ساتھ ساتھ اس سیکٹر کو توانائی کی بھی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر میں حقیقی بہتری سامنے آ سکے۔