مجبوری پر صبر یقیناً افضل عمل ہے

انسان کی زندگی امتحانوں سے بھری پڑی ہے، ہر کوئی آپ کو کسی نہ کسی امتحان سے گزرتا ہوا ضرور دکھائی دے گا۔


اسامہ سرور July 01, 2015
جہاں ہمیں مضبوط ہونا ہوتا ھے وہاں ہم کمزور پڑجاتے ہیں۔فوٹو:فائل

لاہور: یہ سردیوں کی ایک خوبصورت صبح تھی اور میں اپنے کسی رشتہ دار کے گھر سے واپس اپنے گھر جا رہا تھا۔ میں ایک ویگن میں تھا اور اپنی منزل کی طرف رواں تھا۔ میرا اسٹاپ آیا اور میں نے اترتے ہوئے ایک ایسا منظر دیکھا جو کہ ہم میں سے اکثر شاید روزانہ دیکھتے ہوں گے مگر مصروف زندگی کے باعث غور نہ کر پاتے ہوں گے۔ اس میں ان کا قصور بھی نہیں کیونکہ زندگی کی دوڑ ہے ہی ایسی کہ انسان کچھ اور سوچ ہی نہیں پاتا۔

ہاں! تو میں آپکو بتا رہا تھا کہ میں نے ویگن سے اترتے کیا دیکھا۔ جیسے ہی میں اُترا تو میرے سامنے ایک بھیڑ لگی ہوئی تھی اور ایک آدمی کو تقریباً پچیس سے تیس لوگوں نے گھیر رکھا تھا، مجھے لگا خدانخواستہ کوئی حادثہ یوگیا ہے۔ میں دیکھنے کے لئے آگے بڑھا تو شکر ہے وہ کوئی حادثہ نہیں تھا، لیکن کسی حادثے سے کم بھی نہیں تھا ۔۔۔ وہ سب مزدور تھے اور اس آدمی سے کام مانگ رہے تھے۔

کسی نے کسّی اور بیلچا اُٹھا رکھا تھا تو کسی نے روغن کے برش اور ڈبّے۔ کوئی آواز لگا رہا تھا کہ مجھے لے جاؤ صاحب، تو کوئی کہہ رہا تھا مجھے۔ کوئی آواز لگا رہا تھا کہ ''سر جی! تِن دن توں دھیاڑی نئ لگّی۔۔۔'' تو کوئی کچھ اور فریاد لگا رہا تھا، غرض سب کی خواہش تھی کہ کام انہیں ہی ملے اور وہ کم اجرت لینے کو بھی تیار تھے۔

انہی سب میں ایک بزرگ بھی تھے جن کی عمر قریباً 70 برس ہوگی۔ ہاتھ میں روغن کا ڈبَہ اور کچھ برش لئے وہ بھی یہی اُمید کے ساتھ خاموش کھڑے تھے کہ یہ کام انہیں مل جائے تو آج کے راشن کا انتظام ہوجائے ۔۔۔ بظایر اِس عام سے منظر نے ایک لمحے کے لیے مجھے جھنجھوڑ دیا اور میں یہ سوچنے لگا کہ جو آدمی اپنی عمر کے اس حصے میں ہے، جہاں اس کا جسم شاید موسم کا ذرا سا تغیربھی برداشت نہ کر پائے اور ایک جگہ مسلسل کھڑے رہنا بھی اس کے لیے کسی اذیت سے کم نہ ہو، لیکن پھر بھی وہ کام کرنے کے لیے قطار میں کھڑا ہے، ناجانے اُس کی کیا مجبوری ہوگی۔

یہ صرف ایک معاملہ نہیں بلکہ روزانہ اِس طرح کے کئی بزرگ اور لوگ ہمیں اپنے اردگرد دیکھنے کو ملتے ہیں، جنکی زندگیاں کسی امتحان سے کم نہیں ہیں۔ ان کی مجبوریاں اور پریشانیاں بھی شاید ہماری مجبوریوں اور پریشانیوں سے کہیں بڑھ کر ہیں اور اس پر ایسے لوگوں کی خودداری، اس بات کو کافی حد تک ثابت کرتی ہے کہ اللہ پر اِن کا یقین اب بھی قائم ہے اور اُمید ابھی ٹوٹی نہیں ہے۔

انسان کی زندگی امتحانوں سے بھری پڑی ہے۔ ہم اگر اپنے گردوپیش نظر دوڑائیں تو بخوبی اس بات کی تصدیق ہوسکتی ہے، کیونکہ ہر کوئی آپ کو کسی نہ کسی امتحان سے گزرتا ہوا ضرور دکھائی دے گا۔ ہر کسی میں ایک بے چینی سی نظر آئے گی اور پریشانی روزمرّہ کے کاموں میں عیاں ہوگی۔ اس کی بڑی وجہ مایوسی ہے۔ جہاں ہمیں مضبوط ہونا ہوتا ھے وہاں ہم کمزور پڑجاتے ہیں۔ اگر یہی مشکل وقت ہم اللہ سے شکوہ کرنے کے بجائے اس پر بھروسہ کرکے گزار لیں تو یقیناً ہم بہت سی پریشانیوں سے بچ جائیں گے۔

[poll id="516"]

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس