سیاسی حمایت اور مخالفت

اے این پی ماضی میں حکومت میں تھی وہ الیکشن ہاری اور تحریک انصاف برسراقتدار آئی


Zaheer Akhter Bedari July 07, 2015
[email protected]

سرمایہ دارانہ جمہوریت میں ہزار خرابیاں ہوسکتی ہیں لیکن ترقی یافتہ ملکوں میں رائج جمہوریتوں میں سیاسی حمایت اور مخالفت اصولوں اور پارٹی کے منشوروں پر عملدرآمد کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ بدقسمتی سے پسماندہ ملکوں خصوصاً پاکستان میں نہ اصولی مخالفت ہوتی ہے نہ حکمران جماعت کے منشور پر عملدرآمد کے حوالے سے تنقید ہوتی ہے۔

لہٰذا ہمارے ملک میں ہر انتخابات کے بعد ایک ہنگامی صورتحال پیدا ہوجاتی ہے۔ 2014 میں جب عمران خان اور طاہر القادری نے حکومت کے خلاف دھرنا تحریک شروع کی تو یہ نہ اصولی تحریک تھی نہ حکومت کے منشور پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف احتجاج تھا۔ عمران خان کا واحد مطالبہ تھا کہ وزیر اعظم استعفیٰ دیں اور طاہر القادری کا مطالبہ انقلاب تھا۔ چونکہ یہ دونوں ہی مطالبے مبہم اور بے معنی تھے سو اس تحریک کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ۔اس حوالے سے اگر ہم خیبر پختونخوا کی سیاست پر نظر ڈالیں تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کی دو بڑی جماعتیں اس لیے تحریک انصاف پر تنقید کر رہی ہیں اور تحریک چلانے کی کوشش کر رہی ہیں کہ تحریک انصاف نے انھیں یا تو الیکشن میں شکست دی یا تحریک انصاف کو وہ پسند نہیں کرتیں۔

اے این پی ماضی میں حکومت میں تھی وہ الیکشن ہاری اور تحریک انصاف برسراقتدار آئی۔اب اے این پی اسی وجہ سے تحریک انصاف پر تنقید کرتی ہے۔جے یو آئی کی 2013 کے الیکشن میں ناکامی اگرچہ منطقی تھی لیکن یہ ناکامی جے یو آئی کو ہضم نہیں ہو رہی ہے، دوسری بات یہ ہے کہ جے یو آئی ہمیشہ حکمرانی کے ہم رکاب رہی ہے اور خیبر پختونخوا کی موجودہ حکومت میں ایسا کوئی چانس نظر نہیں آرہا ہے اور پھر نظریاتی حوالے سے بھی تحریک انصاف جے یو آئی کو پسند نہیں۔

لہٰذا اس کی مخالفت کے کسی موقعے کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا۔ اس قسم کی غیر اصولی اور غیر منطقی مخالفت کی وجہ ان جماعتوں کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہوتی۔خیبر پختونخوا ایک قبائلی معاشرت کا حامل صوبہ ہے جہاں معاشرت اور سیاست کے حوالے سے فیصلے قبائلی بنیادوں پر بھی ہوتے ہیں ، جن کا نہ اصولی سیاست سے کوئی تعلق ہوتا ہے نہ حکمران جماعت کے منشور پر عملدرآمد کا مسئلہ مخالفت کی بنیاد بنتا ہے۔ بس عمائدین کی مرضی سے فیصلے ہوتے ہیں اور قبائلی عوام اس قسم کے فیصلوں کے حوالے سے ہی متحرک نظر آتے ہیں۔

سندھ کراچی کی اہمیت کے حوالے سے ایک اہم ترین صوبہ ہے۔ بدقسمتی سے یہاں بھی حکومتی کارکردگی اور سیاسی جماعتوں کی حمایت اورمخالفت کا پیمانہ ذاتی اور جماعتی مفادات ہیں، سندھ میں عشروں سے دو جماعتیں پیپلزپارٹی اور متحدہ اقتدار کا حصہ بھی رہی ہیں اور بڑی سیاسی طاقت بھی ہیں۔متحدہ 2008 سے 2013 میں سندھ میں تشکیل پانے والی حکومتوں کا حصہ رہی ہے لیکن چونکہ اس حکومتی اتحاد میں اصول اور منشور ہمیشہ پس پشت رہے، لہٰذا یہ اتحاد ہمیشہ ناپائیدار رہے۔

اس حوالے سے دوسری بدقسمتی یہ ہے کہ ان دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات بھی ذاتی اور جماعتی مفادات کے تابع رہے۔ سندھ کا سب سے بڑا مسئلہ کراچی پر بالادستی کا ہے چونکہ 1988 کے بعد سے 2013 تک ہونے والے تمام انتخابات میں متحدہ بھرپور اکثریت سے کامیاب ہوتی رہی ہے، اس کی یہ کامیابی اس کی مخالف جماعتوں کو ہضم نہیں ہوتی۔ کراچی میں متحدہ کی آمد سے پہلے مذہبی جماعتوں کا ہولڈ تھا، متحدہ نے اس ہولڈ کو توڑ دیا اور متحدہ کی یہی ''حرکت'' مذہبی جماعتوں کی طرف سے متحدہ دشمنی کا سبب بن گئی۔ کسی مذہبی جماعت نے متحدہ کی متحدہ کے منشور کے حوالے سے مخالفت نہیں کی بلکہ مخالفت کی اصل وجہ یہ رہی کہ متحدہ نے عشروں پر پھیلا ہوا کراچی پر ان کا تسلط ختم کردیا۔

متحدہ پچھلے چند ماہ سے آپریشنوں کی زد میں ہے۔ آئے دن متحدہ پر نئے نئے اور سنگین الزامات عائد ہو رہے ہیں، متحدہ کے روایتی مخالفین کی متحدہ پر الزامات سے خوب بن آئی ہے اور ہر متحدہ مخالف جماعت ان الزامات سے سیاسی فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے ملک دشمن اور سیکیورٹی رسک ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے، یہاں بھی نہ اصول ملتے ہیں نہ منشور کے حوالے بس میڈیا کی رپورٹیں ہی مخالفت کی اصل بنیاد بنی ہوئی ہیں۔ حالیہ انکشافات میں بی بی سی کے ایک نمایندے نے متحدہ پر بھارت سے فنڈنگ حاصل کرنے اور متحدہ کے سیکڑوں کارکنوں کو بھارت میں عسکری تربیت حاصل کرنے کا خطرناک انکشاف کیا ہے۔

بلاشبہ یہ الزامات بہت سنگین ہیں لیکن ایک تو ابھی ان الزامات کی تحقیق جاری ہے دوسرے یہ کہ متحدہ پر اس سے زیادہ سنگین الزامات پہلے بھی لگتے رہے ہیں۔ ہر جماعت ان الزامات کے حوالے سے متحدہ کو ملک دشمن بھی ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے اور متحدہ پر پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کر رہی ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت ساری ایسی دہشت گرد تنظیمیں جن پر برسوں سے پابندی لگی ہوئی ہے ان کی قیادت دوسرے ناموں سے سیاست میں حصہ بھی لے رہی ہے اور ہماری مذہبی جماعتوں کی قیادت اس کالعدم قیادت کی ہم نوالہ و ہم پیالہ بنی ہوئی ہیں ۔دوسری بات یہ کہ اگر متحدہ کی مخالفت اصولوں پر مبنی ہوتی تو پھر ہر جماعت یہ اعتراض اٹھاتی کہ دس سال سے متحدہ بھارت سے فنڈز بھی حاصل کر رہی ہے اور اس کے سیکڑوں کارکن بھارت میں تربیت بھی حاصل کر رہے ہیں تو پھر ہماری حکومت اور حکومتی ادارے کیا کرتے رہے جب کہ متحدہ مرکز میں اور سندھ میں حکومتوں کا حصہ بھی رہی ہے۔

عمران خان کی سیاست کا بھی المیہ یہی ہے کہ وہ کراچی میں اپنی جگہ بنانا چاہتے ہیں لیکن یہ خواہش وہ مثبت طریقوں سے پوری کرنے کے بجائے متحدہ دشمنی کے ذریعے پوری کرنا چاہ رہے ہیں اور کراچی کے 226 کے ضمن انتخابات نے ان کی امیدوں پر بھی پانی پھیر دیا ہے لیکن اب بی بی سی کی رپورٹ ان کا سہارا بنی ہوئی ہے، یہ غیر اصولی سیاست پنجاب میں بھی جاری ہے اور کسی حد تک بلوچستان میں بھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس غیر اصولی اور مفاداتی سیاست سے ملک اور عوام کو کوئی فائدہ ہوسکتا ہے؟

مقبول خبریں