ناپرسان میں بیروزگاری کا خاتمہ

بلکہ ان کا ڈوبنا بھی صرف نظر کا دھوکا ہے یہ کبھی نہیں ڈوبتے دوسروں کو ڈبوتے رہتے ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq July 09, 2015
[email protected]

پیارے حاضرین و غائبین ''ہیاں اینڈ ہواں'' کمپنی کو نہایت ہی ٹھوس افسوس ہے کہ کچھ عرصہ آپ ہمارے بدنام عالم اور رسوائے جہاں چینل ''ہیاں سے ہواں تک''... کے نشریات و خرافات عالیہ نہ سن سکے اور نہ دیکھ سکے، دراصل ہمارا جو اینکر تھا وہ تھنکر ہو کر منکر ہو گیا تھا اور دوسرے چینل چلا گیا تھا، دراصل یہ اینکر لوگ بھی کچھ کچھ وہ ہوتے جارہے ہیں جن کا مادہ ''طوف'' سے ہے اور جو اکثر ''ملوک'' کے آگے ''ملوکی'' کرتی رہتی ہے اور تماش بینوں میں گھری رہتی ہے چنانچہ تاکتی رہتی ہے کہ کون سا کونہ سرسبز ہے اور وہیں جا کر منہ ماری کرنے لگتی ہے اس وقت تک جب تک کسی دوسرے کونے میں ہری ہری گھاس نہ دکھائی دے، خیر چھوڑیئے، مژدہ جاں فزا یہ ہے کہ ایک مرتبہ پھر چینل ہذا آپ کی خدمت میں حاضر ہے ... مزید خوشی کی بات یہ ہے کہ ٹاک شو چونچ بہ چونچ بھی اپنی چونچ میں لیے ہوئے ہے تالیاں، آج اس پروگرام اوہ سوری ٹاک شو میں دو چونچیں تو وہی کم بخت بدبخت پرانی والیاں ہیں یعنی ایک وہی قہر خداوندی چشم گل چشم جو ماہر سیاسیات، قیاسیات، بکواسیات اور منحوسیات ہیں اور دوسرے ہیں ماہر عملیات و تعویزات و زوجیات و نکاحات حضرت علامہ بریانی عرف برڈ فلو کدو سرہ، ان کے ساتھی مہمان خصوصی کی وردی میں مملکت اللہ داد ناپرسان کے ایک وزیر جناب ''سابق خان لاحق'' تشریف فرما ہیں، جناب سابق خان لاحق ممتاز موسمی سیاسی رہنما لاحق گل سابق کے فرزند آرزو مند ہیں، موسم کے خاندان کا پیشہ سو پشت سے یہی ہے کہ کبھی لاحق کبھی سابق کبھی سابق کبھی لاحق رہتے ہیں، علامہ اقبال نے ان ہی کے ایک بزرگ کے بارے میں کہا تھا کہ

جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
ادھر ڈوبے ادھر نکلے، ادھر نکلے ادھر ڈوبے

بلکہ ان کا ڈوبنا بھی صرف نظر کا دھوکا ہے یہ کبھی نہیں ڈوبتے دوسروں کو ڈبوتے رہتے ہیں، تو آئیے شروع کرتے ہیں چونچ بازی

اینکر : جناب سابق خان لاحق آپ مملکت ناپرسان کی کس کس وزارت کو لاحق رہ چکے ہیں؟
لاحق : تقریباً ساری وزارتوں کو میں نے اپنے قدوم میمنت ممدوم سے ایک ایک دو دو مرتبہ شرف یاب کیا ہے اور دوسری تیسری چوتھی پانچویں بار لاحق ہونے کی ہوس ہے
چشم : آخری ہچکی وزارت میں ہی آئے ... موت بھی اپنی وزیرانہ چاہتا ہوں
علامہ : شعر غلط پڑھ رہے ہو بے شعور
چشم : اس بے شعور وقت میں بے شعور شعر ہی لاشعور میں آسکتے ہیں
اینکر : یہ مشاعرہ نہیں ہے کنٹرول یور ماؤتھ ... ہاں تو جناب لاحق سابق
لاحق : سابق لاحق
اینکر : ٹھیک ہے ... آپ ہمیں بتائیں کہ مملکت ناپرسان میں کہتے ہیں بے روزگاری کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے اور کوئی چڑیا کا بچہ بھی بے روزگار نہیں ہے
اینکر : چڑیا کے بچے پہلے بھی بے روزگار نہیں تھے کیوں کہ چرنے کے لیے بہت بڑا کھیت تھا لیکن اب تو اینٹ پتھر اور قبریں تک باروزگار اور کماؤ ہو چکی ہیں
علامہ : قبریں تو یہاں بھی کماؤ ہوتی ہیں
چشم : ہر کسی کی نہیں بلکہ آپ جیسے سب کچھ فروش
علامہ : دیکھو بدزبان کج مج بیاں، باز آجاؤ ورنہ یہ دیکھ رہے ہو
اینکر : یہ تو تعویز ہے
علامہ : جی ہاں میرا لیٹسٹ ماڈل تعویز ڈرون نمبر ون
لاحق : ڈرون اور تعویز
علامہ : یہ خاندانی ڈرون ساز ہے چاہے تو کسی بھی چیز مثلاً بجلی، پٹرولیم، گیس، مٹی کا تیل بلکہ مٹی رمضان عید کسی بھی چیز کو ڈرون بنا سکتے ہیں
اینکر : بریک بریک بریک ... میرا خیال ہے پروگرام کچھ کمرشل سا ہوتا جا رہا ہے آپ بتائیں لاحق صاحب یہ کیسے ہوا، کب ہوا۔
لاحق : دراصل مملکت خدا داد ناپرسان میں لٹریسی بہت زیادہ تھی حکومت کی حوصلہ افزائی این جی اوز کی مساعی جمیلہ اور محکمہ تعلیم کی برکت سے تعلیم کی تجارت بہت زیادہ ہو گئی تھی، یہ بڑے بڑے اسٹور شاپنگ مال دکانیں حتیٰ کہ کیبنوں، کھوکھوں، چھابڑیوں، ریڑھیوں پر تعلیم ہی تعلیم بکنے لگی تھی اور تو اور لوگوں نے گدھوں پر کتابیں لاد کر موبائل تعلیم گاہیں بھی لانچ کر دی تھیں، چائلڈ لیبر، وائیلڈ لیبر بلکہ ہر لیبر کا خاتمہ کر دیا گیا تھا اور آٹھ سال کے بچوں سے لے کر اسی سال کے بوڑھے تک اسکولوں میں ڈال دیے
اینکر : واہ مطلب یہ تعلیم پر پورا زور دیا گیا
لاحق : نہ صرف پورا بلکہ باہر سے بھی بہت سارا زور درآمد کر کے ڈالا گیا
علامہ : اتنے زیادہ زور سے تو تعلیم کی کمر دہری ہو گئی ہو گی؟
لاحق : چیخیں نگل گئیں بے چاری کی
چشم : میں نے ایک گانا بھی سنا تھا ... کچھ ہاں ...
ڈولی چڑھدیاں تعلیم ماریاں چیکاں
میں نئیں جانا کھیڑیاں دے نال
اینکر : یہ گانے کی محفل نہیں ہے
علامہ : ایسے ایسوں کو بلاؤ گے تو یہی ہو گا
اینکر : آپ چپ رہیے مجھے لاحق صاحب سے بات کرنے دیجیے
لاحق : آپ بار بار مجھے لاحق کہہ رہے ہیں میں فی الحال سابق ہوں اور لاحق رہنے کی آرزو ہے
اینکر : فیلڈ مارشل، بندر اور وزیر کبھی ریٹائرڈ نہیں ہوتے سابق ہو کر بھی لاحق رہتے ہیں
لاحق : تیرے منہ میں گھی شکر
اینکر : ہاں تو اس کے بعد
لاحق : اس کے بعد اچانک پتہ چلا کہ اتنے زیادہ تعلیم یافتہ اور پڑھے لکھے لوگوں کے لیے روزگار بھی تو ہونا چاہیے کیوں کہ پڑھ لکھ کر اب کسی بھی دوسرے کام کے نہیں رہ گئے سوائے دفتروں میں جا کر سونے کے
چشم : اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں ... مجھے دیکھو اپنے چار بیٹوں کو میں نے چائلڈ لیبر کروایا ہے ان میں ایک مستری، ایک ٹھیکیدار، دوسرا ٹرانسپورٹر اور تیسرا دکان دار ہے جب کہ پانچواں ایم اے کرنے کے بعد بھائیوں کے بچے سنبھالتا ہے
علامہ : اب بس بھی کرو کہیں مجھے رونا نہ آجائے میں نے پانچ کو پڑھایا وہ پانچوں گھر بیٹھے ہوئے ایک کی کمائی پر جی رہے ہیں جو باربر شاپ چلاتا ہے
لاحق : لیکن ناپرسان میں ہم نے اس کا حل ڈھونڈ لیا ہے
اینکر : وہی بتا دیجیے
لاحق : مملکت ناپرسان کے سارے وزیر، باتدبیر اور امیر و کبیر سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور جب اچھی طرح ان کے سروں کی جوؤں نے چھاؤنیاں بدل لیں مسئلے کا حل نکل آیا
اینکر : وہ کیسے؟
لاحق : وزیروں نے سارے ملک کے لیے وہی روزگار چنا جو وہ خود کر رہے تھے
اینکر : کیا مطلب سب وزیر بن گئے
لاحق : جی نہیں بھکاری ...