بلدیاتی نظام پر قبضہ کرنے کی کوششیں
بلدیاتی نظام کا خوف اشرافیہ پر اس قدر حاوی ہے کہ اگر بلدیاتی الیکشن ہوتے ہیں
TURKEY:
پرانے پاپیوں کی طرف سے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں، ٹھیکے کے کارکنوں اور دولت کے انبار کے ساتھ ملک کے ہر علاقے میں اشرافیائی جماعتوں کے بادشاہ بلدیاتی الیکشن کے ذریعے بلدیاتی نظام پر قبضہ کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ پاکستان کی جمہوری تاریخ میں کسی جمہوریت پسند جماعت نے اقتدار میں آنے کے بعد بلدیاتی الیکشن کرانے کی زحمت نہیں کی۔ یہ کوئی اتفاق کی بات نہیں بلکہ اشرافیہ کی منظم حکمت عملی کا حصہ ہے۔
بلدیاتی نظام کا خوف اشرافیہ پر اس قدر حاوی ہے کہ اگر بلدیاتی الیکشن ہوتے ہیں تو سب سے بڑا نقصان مالی اور انتظامی اختیارات سے محرومی کی شکل میں اشرافیہ کے سامنے آتا ہے۔ سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو اٹھتے بیٹھتے آمر اور جمہوریت کا دشمن کہنے والی اشرافیہ کی بددیانتی کا عالم یہ ہے کہ اس آمر کے تشکیل دیے ہوئے بلدیاتی نظام کی محض اس لیے مخالفت کی جا رہی ہے کہ وہ ایک فوجی ڈکٹیٹر تھا۔ یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ فوجی ڈکٹیٹروں نے ہی بلدیاتی انتخابات کروائے اور مالی اور انتظامی اختیارات کو اعلیٰ سطح سے نچلی سطح پر پہنچا کر علاقائی مسائل بلدیاتی اداروں کے ذریعے حل کرنے کی کامیاب کوششیں کیں۔
2002ء کے بلدیاتی انتخابات کی شدت سے مخالف اشرافیہ نے جب دیکھا کہ مالی اور انتظامی اختیارات ان کے ہاتھوں سے نکل رہے ہیں تو اپنی بالادستانہ سیاست اور لوٹ مار کے ذریعے کمائی ہوئی دولت کا استعمال کرتے ہوئے جہاں ممکن ہوا اپنے ناظم لانے کی کوشش کی تا کہ جس قدر لوٹ مار کے مواقع حاصل ہوں انھیں ہاتھ سے نکلنے نہ دیا جائے۔ لیکن ان بددیانتانہ کوششوں کے باوجود ملک کے بیشتر علاقوں میں اختیارات عوام کے حقیقی نمایندوں کے ہاتھوں میں آئے اور انھوں نے علاقائی مسائل حل کرنے کی بھرپور کوششیں کیں۔
اس حوالے سے کراچی کے سٹی ناظم مصطفیٰ کمال کی کوششیں اس قدر کامیاب رہیں کہ یہ ناظم نہ صرف ملک کے اندر مقبول ہوا بلکہ بیرونی دنیا میں بھی اس کی صلاحیتوں کو تسلیم کیا گیا، یوں مصطفیٰ کمال ساری دنیا کا مقبول ناظم بن گیا، کراچی کو سدھارنے اور سنوارنے کا سہرا اسی ناظم کے سر باندھا جاتا ہے۔بلدیاتی نظام جہاں مالی اور انتظامی اختیارات نچلی سطح تک پہنچاتا ہے، وہیں اس کی ایک اہم افادیت یہ ہے کہ اس نظام کے ذریعے نچلی سطح سے سیاسی قیادت کے ابھرنے کے مواقع پیدا ہو جاتے ہیں۔ یوں یہ نظام اشرافیائی سیاست میں دراڑیں ڈالنے اور اس کی لوٹ مار میں رکاوٹیں ڈالنے کا سبب بھی بن جاتا ہے۔
قومی الیکشن کا المیہ یہ ہے کہ اس الیکشن میں غریب طبقات کے لوگ خواہ وہ کتنے ہی ایماندار مخلص اور باصلاحیت ہوں ان انتخابات میں حصہ لینے کی سکت ہی نہیں رکھتے یہ کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک گہری سازش ہے کہ قومی انتخابات کا ڈھانچہ اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ ان میں صرف وہ لوگ شرکت کر سکتے ہیں جن کے ہاتھوں میں کروڑوں روپے کی ریل پیل ہو، بے چارہ غریب ان انتخابات میں حصہ لینے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ پچھلے کچھ عرصے سے بعض سیاسی جماعتوں کی طرف سے انتخابی اصلاحات کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن اشرافیہ پورا زور لگا رہی ہے کہ ایسی انتخابی اصلاحات نہ ہو سکیں جس کے نتیجے میں نچلی سطح کے ایماندار محب وطن اور محب عوام لوگ قانون ساز اداروں میں پہنچ جائیں۔
اشرافیائی سیاست کے طرز عمل کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملکی ترقی اور عوام کی بھلائی کی دعویدار حکومت نے 2015-16ء کے بجٹ میں ملازم پیشہ عوام کی تنخواہوں میں صرف ساڑھے سات فیصد اضافہ کیا جو اس بجٹ کی لائی ہوئی مہنگائی کے سیلاب میں تنکے کی طرح بہہ گیا لیکن ایلیٹ کے نمایندوں نے نہ اس ناانصافی کے خلاف قومی اسمبلی میں آواز اٹھائی نہ سینیٹ میں نہ صوبائی اسمبلیوں میں۔ اس کے برخلاف اپنی تنخواہوں میں سو فیصد اضافہ اور لاکھوں روپوں کی مراعات حاصل کر لیں۔ ہماری بھاری مینڈیٹ کی دعویدار حکومت کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ سب سے زیادہ مظلوم تنخواہ دار طبقے کو وہ ایسی مراعات دینے کے لیے تیار نہیں جس سے ان کی مالی مشکلات میں کمی ہو۔
اس کے برخلاف اس طبقے کی تنخواہوں اور دیگر مالی امور میں اس قدر اضافہ کر رہی ہے کہ یہ لٹیری کلاس کے پوبارہ ہو رہے ہیں۔ہماری اشرافیہ خواہ اس کا تعلق حکمران طبقات سے ہو یا حزب اختلاف سے اس کا تازہ ہدف بلدیاتی انتخابات کو یرغمال بنانا ہے اور اس عوام دشمن سازش میں کامیابی کے امکانات اس لیے نظر آتے ہیں کہ یہ طبقہ حکومت میں بھی موجود ہے اور نام نہاد حزب اختلاف بھی بنا ہوا ہے۔
اس طبقے کی پوری کوشش یہی تھی کہ کسی طرح بلدیاتی انتخابات ہونے ہی نہ پائیں، لیکن عوامی حلقوں میڈیا اور عدلیہ کے سخت دباؤ کی وجہ سے وہ سات آٹھ سال تک ٹال مٹول کرنے کے بعد اب مجبور ہو گیا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا سامنا کرے ان جمہوریت پسندوں کی کارکردگی اس قدر مایوس کن رہی ہے کہ عوام ان طبقات سے نفرت کرنے لگے ہیں اور امید یہی ہے کہ آنے والے بلدیاتی انتخابات میں عوام انھیں مسترد کر دیں گے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ میدان سیاست میں کوئی جماعت ایسی نظر نہیں آتی جو بلدیاتی انتخابات کے ذریعے اس ملک میں کوئی بڑی تبدیلی لا سکے، جو نظریاتی اور عوام دوستی کا دعویٰ کرنے والے ہیں وہ اپنی نالائقیوں کی وجہ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کو متحرک کر سکیں اور اشرافیہ کو بلدیاتی اداروں پر قبضہ کرنے سے روک سکیں۔
اب صورتحال یہ ہے کہ مجبوری میں بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والی اشرافیہ ہر قیمت پر بلدیاتی نظام پر قبضہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اس کے لیے اربوں روپوں کی منافع بخش سرمایہ کاری کے پروگرام بن رہے ہیں طبقاتی بالادستی دولت اور حکومت کو استعمال کرنے کی منصوبہ بندیاں ہو رہی ہیں اور سادہ لوح کارکنوں کو شہیدوں اور غازیوں کے نام پر استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ عوام کے درمیان موجود تقسیم کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس اہم ترین مسئلے پر عوام کی ہمدرد پیشہ وارانہ تنظیمیں، ٹریڈ یونینز، طلبا برادری اور میڈیا اگر اشرافیہ کی سازشوں اور بلدیاتی نظام پر قبضہ کرنے کی کوششوں سے عوام کو منظم طریقے سے ایجوکیٹ کرنے، ان میں طبقاتی شعور بیدار کرنے کی کوشش کرے تو یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ اشرافیہ اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب نہیں ہو سکے گی اور عوام بلدیات نظام پر قبضہ کر سکیں گے۔