صوبائی خودمختاری اور پسماندگی
انسداد دہشت گردی کی عدالتیں کچھ کارکنوں کو ضمانتوں پر رہا کر چکی ہیں اور کچھ کے مقدمات زیر سماعت ہیں۔
LOS ANGELES:
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے وزیراعلیٰ سندھ کے اس بیان کو جرات مند قرار دیا ہے کہ ایف آئی اے کی صوبے میں مداخلت کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ الطاف حسین کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم عدالت میں سندھ حکومت کی بھرپور حمایت کرے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ سندھ کے ساتھ کالونی جیسا سلوک ہو رہا ہے اور اس مداخلت کے خلاف قانون سازی ہونی چاہیے۔
اس طرح الطاف حسین اور آصف علی زرداری کے تعلقات بہتر ہو گئے۔ وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے درمیان رینجرز کے اختیارات کے بارے میں اتفاق رائے کے بعد اس بات کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں کہ سندھ اسمبلی میں رینجرز کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو گی۔ سندھ کا صوبہ رینجرز اور ایف آئی اے کے آپریشن کی زد میں ہے۔دو ماہ قبل ایم کیو ایم کے ہیڈ کوارٹر 90 پر چھاپہ اور مبینہ قاتلوں کی گرفتاری کے اعلان کے بعد روز ایم کیو ایم کے بہت سے کارکن پکڑے جاتے ہیں۔
ان کارکنوں کو قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے تحفظ پاکستان کے قانون کے تحت 90 دن تک نظربند کیا جاتا ہے اور آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے۔ رینجرز کے وکیل کی چارج شیٹ کا میڈیا پر خوب ذکر ہوتا ہے۔ پھر عدالتوں میں چالان پیش کیے جاتے ہیں۔
انسداد دہشت گردی کی عدالتیں کچھ کارکنوں کو ضمانتوں پر رہا کر چکی ہیں اور کچھ کے مقدمات زیر سماعت ہیں۔ ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان کو 90 دن تک رینجرز نے اپنی تحویل میں رکھا۔ بعد میں پولیس کے حوالے کیا اور وہ ضمانت پر رہا ہو گئے۔ رینجرز کے اہلکاوں نے گزشتہ دنوں فطرہ اور زکوٰۃ کی پرچیاں تقسیم کرنے والے کارکنوں کو گرفتار کیا۔ رینجرز کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے سیکٹر انچارج عسکری ونگ کی نگرانی کرتے ہیں، اس بناء پر ان کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے۔
رینجرز نے گزشتہ ماہ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور فشریز کے محکمہ کے دفاتر پر چھاپہ مار کر کچھ افسروں کو گرفتار کیا تھا۔ ان افسروں پر کروڑوں روپے رشوت لینے، اغوا برائے تاوان اور بھتہ وصول کرنے اور رقوم بلاول ہاؤس کو دینے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔ پھر ایف آئی اے اور نیب نے سندھ کے کئی موجودہ اور سابق وزراء اور 100 سے زائد افسروں جن میں چیف سیکریٹری اور آئی جی تک شامل ہیں، کے خلاف تحقیقات شروع کر دیں۔
اس صورتحال کے خلاف سابق صدر زرداری نے اسلام آباد میں فوج کے خلاف ایک زوردار بیان دیا۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے دوسرے دن افطار پارٹی میں اس بیان کی وضاحت کی۔ آصف زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، کئی رہنما اور وزراء دبئی چلے گئے۔
آئین میں کی گئی 18 ویں ترمیم کے بعد صوبے مکمل طور پر بااختیار ہیں اور وفاقی ایجنسیوں کو صوبے کے معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔ ہر صوبہ اپنی مرضی سے قانون سازی کرنے اور مختلف ایجنسیاں بنانے کا حق رکھتا ہے۔ سندھ پولیس دہشت گردی کے خلاف آپریشن کے لیے مستعد ہے۔ اسی طرح اینٹی کرپشن کا محکمہ، جس کے ایک وزیر بھی ہیں، صوبے کے ہر فرد کے خلاف کارروائی کا حق رکھتا ہے مگر صوبائی خودمختاری کے اس آئینی تحفظ کے بعد صوبے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ سیاہ دیوار کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ کراچی گزشتہ 20 برسوں سے دہشت گردی کا شکار ہے۔
ایک ایم پی اے کے قتل کے بعد ایک رات میں 60 سے 70 افراد قتل کر دیے جاتے ہیں۔ میاں نواز شریف کو یہ صورتحال ورثہ میں ملی تھی۔ جب 2014 ء میں روزانہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد زیادہ ہو گئی تو میاں نواز شریف وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے ساتھ کراچی آئے اور گورنر سندھ، وزیر اعلیٰ سندھ، رینجرز کے ڈی جی اور منتخب اراکین کا اجلاس ہوا اور کراچی میں ایک دفعہ پھر مربوط آپریشن کا فیصلہ ہوا۔
اس آپریشن کے کپتان وزیراعلیٰ بنائے گئے مگر اس آپریشن کے باوجود ڈسٹرکٹ سینٹرل اور ایسٹ میں ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ نہ رکا۔ رینجرز، پولیس اور انٹیلی جنس حکام ٹارگٹ کلنگ کا الزام ان علاقوں کی منتخب جماعتوں پر عائد کرتے تھے۔ ایم کیو ایم کے سابق سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل میں ان کی جماعت کے کارکنوں کے نام اخبارات کی زینت بنے۔ اسی طرح کے ای ایس سی کے سابق سربراہ ملک شاہد حامد کے قتل میں ایم کیو ایم کے کارکن صولت مرزا کا پھانسی کی کوٹھڑی سے ایک ویڈیو بیان میڈیا کی زینت بنا جس میں ایم کیو ایم کی قیادت پر دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے گئے۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ میں ایم کیو ایم پر پھر سے دہشت گردی کے الزامات لگے مگر ایم کیو ایم نے بی بی سی کے خلاف برطانوی عدالتوں کا دروازہ نہیں کھٹکھٹایا۔ صحافی ولی بابر کے قتل میں گرفتار ہونے والے افراد کا تعلق بھی اسی جماعت سے بتایا گیا۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت میں اچھی طرزِ حکومت کا تصور ختم ہو گیا۔ ہر محکمے کی ہر آسامی فروخت ہونے لگی۔ پولیس کے نظام پرایک ٹی وی کے پروگرام میں ایک ڈی آئی جی نے یہ کہہ کر لاجواب کر دیا کہ جب میرا ایس پی 30 لاکھ روپے دے کر تقررنامہ حاصل کرے گا تو آئی جی صاحب اس سے کیا پوچھ گچھ کر سکتے ہیں؟ اسی طرح محکمہ تعلیم، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر محکموں میں کرپشن کی داستانیں عام ہو گئیں۔
سندھ کے سیکریٹری تعلیم فضل اﷲ پیچوہو نے گزشتہ دنوں ایک ٹی وی انٹرویو میں محکمہ تعلیم میں بدعنوانی کے بارے میں شایع ہونے والی خبروں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اساتذہ کے تقرر میں بنیادی ضوابط کو نظرانداز کیا گیا۔ حکومت سندھ کے بعض سینئر ملازمین کا کہنا ہے کہ سندھ میں بدعنوانی کی اس سے بڑی کہانی کیا ہو گی کہ محکمہ تعلیم اور دیگر محکموں میں ملازمین کو حج پر جانے کے لیے این او سی حاصل کرنے کے لیے فی کس 5 ہزار روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔ محکمہ تعلیم کے ریٹائر ہونے والے ملازمین سے ہر افسر پینشن کے کاغذات پر دستخط کے لیے علیحدہ رقم لیتا ہے۔
اس بدترین طرز حکومت اور غیر شفافیت نے صوبے کے انفرااسٹرکچر کو پوری طرح متاثر کیا۔ کراچی میں صفائی نہ ہونے اور گندے پانی کا اہم سڑکوں پر جمع ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ صفائی کے لیے مختص فنڈز کہیں اور خرچ ہو گئے ہیں۔ گزشتہ ماہ کے آخری ہفتے میں گرمی سے ایک ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کی ذمے داری سے سندھ حکومت کسی طور پر نہیں بچ سکتی۔ وزیراعلیٰ 10 روز بعد شہر کے اسپتالوں کے دورے پر نکلے۔ بلاول بھٹو 10 دن بعد سول اسپتال گئے اور 4 ائیر کنڈیشنر دے کر اپنا فرض ادا کیا۔ انھیں سول اسپتال میں نامکمل بے نظیر بھٹو ٹراما سینٹر کی عمارت نظر نہیں آئی جو 8 سال بعد تک مکمل نہیں ہو سکی۔
اگر یہ عمارت مکمل ہو جاتی اور ٹراما سینٹر پوری رفتار سے کام کر رہا ہوتا تو بہت سے مریضوں کو بہتر طبی امداد مل جاتی۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ جناح اسپتال سمیت سرکاری اسپتالوں میں مخیر حضرات اور غیر سرکاری تنظیموں نے مدد کی۔ کئی لوگوں نے ایئرکنڈیشنر عطا کیے ورنہ حکومت سندھ کی عدم توجہ سے صورتحال مزید خراب ہو جاتی۔ وزیراعلیٰ ایف آئی اے کے اختیارات کو عدالت میں چیلنج کرنے جا رہے ہیں۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت پیپلز پارٹی کے اس مؤقف کی ہمنوائی کرے گی۔ عدالت کا فیصلہ کچھ بھی ہو وفاق کو صوبائی خودمختاری کو پامال نہیں کرنا چاہیے۔ نیشنل ورکرز پارٹی کے رہنما عثمان بلوچ کا کہنا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے صوبائی خودمختاری کے لیے جدوجہد چھوٹے صوبوں کے عوام کی ترقی کے لیے کی تھی۔ اس جدوجہد کا مقصد قطعی طور پر کرپشن اور سیاسی دہشت گردی کو تحفظ دینا نہیں تھا۔
مگر سندھ کے مسئلے کا حل یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں دہشت گردی میں ملوث کارکنوں کو قانون کے حوالے کریں، سندھ میں ایک بااختیار وزیراعلیٰ تعینات ہو جو کرپشن کے بارے میں صفر برداشت کی پالیسی اختیار کرے اور بہتر طرز حکومت کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم کی جائیں۔ دوسری صورت میں صوبائی خودمختاری برقرار رہے گی اور سندھ بھی پسماندہ رہے گا۔