میٹھی عید کی عیدیاں

پیاروں سے عید ملنے، مزیدار کھانا کھانے اور بچوں کی تیاری کے بعد اگر کچھ تفریح بھی ہوجائے تو عید کا مزہ دوبالا ہوجائے۔


الماس ایوب July 20, 2015
بچوں کی چہل پہل، مہندی، چوڑیاں اور باربی کیو کے دھوئیں کی اٹھتی ہوئی مہک نے عید کی خوشیاں دو بالا کردیں۔ فوٹو:فائل

لو ختم ہوا انتظار مل گیا ایمان والوں کو انعام۔ عید ایک خوبصورت اور ایمان افروز انعام ہے جو رمضان کے روزوں کے اختتام پر اللہ کی جانب سے عطا کیا گیا ہے۔ عید کا یہ تہوار اپنے ساتھ خوشیوں کا خزانہ لے کر آتا ہے۔ اپنے پیاروں سے ملنا، دوستی نبھانا، بچوں کے نخرے اٹھانا اور ساتھ ہی ساتھ رمضان کے روزوں کے بعد انواع و اقسام کے کھانے، یہ سب نعمتیں اس تہوار کا حُسن ہے۔

عید سعید کے دو دن تو نماز کی ادائیگی، فیملی سے ملنے جلنے، روزوں کے بعد ڈٹ کر کھانے اور سب سے اہم چیز عیدی بانٹتے اور جمع کرتے گزر گئے۔ کوئی عیدی لینے کی فکر میں تھا تو کسی کو عیدی دینے نے پریشان کیا ہوا تھا۔ مگر عید تو نام ہی عیدی کا ہے اور آج عید کا تیسرا دن ہے اور عید کی گرینڈ پارٹی کے لیے سب ہی دادا جان کے گھر پر جمع تھے اور رنگ وبو کا سیلاب امڈ آیا تھا۔ ایک طرف بچوں کی چہل پہل، لڑکیوں کی مہندی، چوڑیاں اور رنگین آنچل تو دوسری طرف باربی کیو کے دھوئیں کے ساتھ اٹھتی ہوئی مہک۔ کوئی میٹھی عید پر مٹھائی کھانے میں مصروف ہے تو کوئی بریانی پر ہاتھ صاف کر رہا ہے۔ باہر لان میں بڑوں کی محفل جمی تھی تو لاونج میں نوجوانوں کا ڈیرہ تھا۔ ننھے بچے بھی اپنی ایک دنیا بسائے بیٹھے تھے اور سب کی باتوں کا موضوع ایک ہی تھا کہ عیدی تو جمع ہوگئی مگر اب ہے باری جمع کی گئی عیدی کو خرچ کرنے کی اور خرچ کی گئی عیدی سے بھی عیدی بٹورنے کی۔

بچوں کا ارادہ فن لینڈ جا کر عیدی خرچ کرنے اورمزے کرنے کا ہے۔ نوجوان اپنی تفریح کا الگ منصوبہ بنائے بیٹھے ہیں تو گھر کے بڑے سمندر کی تفریح کا سوچ رہے ہیں۔ اب فیصلے کے لیے کہا گیا کہ ووٹنگ کا سہارا لیا جائے۔ تین پرچیاں ڈالی گئیں اور قرعہ فال سمندر کی سیر کے نام نکلا۔ تو اب جہاں جیتنے والی ٹیم کی خوشی دیدنی تھی تو وہیں بچوں اور نوجوانوں نے دھاندلی دھاندلی کا شور ڈال دیا جس کے بعد دادا نے فیصلہ کیا کہ پہلے بچوں کو فن لینڈ لے کر جایا جائے گا اس کے بعد ہی کوئی اور تفریح قابل غور ہوگی۔

''ہرےےےے'' ۔۔۔ دادا کا فیصلہ آتے ہی ننھے بچوں کی جانب سے ایک زور دار نعرہ لگایا گیا۔بچوں کی عیدی کا سامان تو پیدا ہوگیا اور وہ پھر سے اپنی دنیا میں مگن ہوگئے۔ ارے یہ کیا بڑے بھیا بھی ایک عیدی لیے گھر میں داخل ہوئے اور کہنے لگے کہ '' کل ہم سب چار بجے والا شو دیکھنے سینما جائے گے''۔۔۔ بس یہ اعلان ہونا اور '' بڑے بھیا زندہ باد '' کے نعرے لگنا شروع ہوگئے، آخر نوجوانوں کا مسئلہ بھی جو حل ہوچکا تھا۔ اب بڑوں کی فرمائش تھی کہ ساحل سمندر بھی جایا جائے جس کو اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔

طے یہ پایا کہ تفریحی قافلہ 12 بجے سہ پہر گھر سے نکلے گا پہلے بچوں کی عیدی کے لیۓ فن لینڈ جایا جائے گا اس کے بعد ٹکٹ کی ٹائمنگ کے مطابق سینما کا رخ ہوگا اور رات کے پُرتکلف کھانے کا مزہ ساحل سمندر کی تازہ ہوا میں لیا جائے گا۔ اب کس بات کی دیر تھی فٹافٹ تیاری شروع کی گئی۔ بچوں اور نوجوانوں کو اپنی تیاری اور کپڑوں کی فکر لگ گئی تو بڑے پکنک کا سامان جمع کرنے میں لگ گئے تاکہ کل کوئی پریشانی نہ ہو۔

رات گئے جب بچے تو نیند میں بھی دوسرے دن کی پکنک کے خواب سجاتے رہے اور نوجوانوں اور بڑوں کی محفل بھی جب تھک ہار کر ماند پڑی تو اس وقت بھی ہر ایک کے چہرے پر دوسرے دن کی تفریح کے خیال سے چمک واضح تھی اور سب کا روزوں کے بعد عید اللہ کی جانب سے انعام کی صورت ملنے پر ایمان اور بھی پختہ ہوگیا کیونکہ اللہ جانے کل ہمارے نصیب میں کہاں سے اور کتنی عیدی ملنا لکھی ہے کیونکہ عید تو تہوار ہی خوشی منانے اور خوشیاں عیدی کی صورت میں بانٹنے کا نام ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر ، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس