بینک لین دین ٹیکس پراپرٹی مارکیٹ کی ترقی میں رکاوٹ قرار

پاکستان کو پہلے ہی نو ملین گھروں کی کمی کا سامنا ہے اور نئے ٹیکس کے نفاذ سے ریئل اسٹیٹ کا شعبہ مزید سکڑ جائے گا


Business Reporter July 16, 2015
پاکستان کو پہلے ہی نو ملین گھروں کی کمی کا سامنا ہے اور نئے ٹیکس کے نفاذ سے ریئل اسٹیٹ کا شعبہ مزید سکڑ جائے گا فوٹو: فائل

ISLAMABAD: ٹیکس نان فائلرزپر 50 ہزارسے زیادہ کے تمام بینکاری ٹرانزیکشنز پر 0.3 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کے حالیہ نفاذ سے ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔

پاکستان کی ریئل اسٹیٹ کے شعبے کو 2015 کی پہلی سہ ماہی میں سست روی کا سامنا رہا اورتمام پراپرٹی ڈیلرز اوربروکرز کی جانب سے 50 ہزارسے زیادہ کے ہر بینکاری لین دین پر 0.3 فیصد کی ادائیگی سے اس کی شرح نمومیں مزید گراوٹ کی توقع ہے۔ نیا ٹیکس ریئل اسٹیٹ کے سرمایہ کاروں کے منافع کے مارجن کو متاثر کرتاہے اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کی بھی حوصلہ شکنی ہورہی ہے۔

یہ ٹیکس نان فائلرز کے درمیان غیر بینکاری اور نقد لین دین کو فروغ دیتا ہے جو معیشت میں غیر رسمی شعبے کو جنم دیتا ہے اور پراپرٹی مارکیٹ میں دھوکہ دہی کی سرگرمیوں کوجنم دینے کا باعث بنے گا۔پاکستان کی ریئل اسٹیٹ ویب سائٹ Lamudi.pk کے کنٹری ڈائریکٹر سعد ارشد کا کہنا ہے کہ ودہولڈنگ ٹیکس نہ صرف ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری میں رکاوٹ پیدا کرے گا بلکہ اس سے افراط زرمیں بھی اضافہ ہوگا جس کا حتمی بوجھ بالآخر رہائشی مکان خریدنے والوں کوہی منتقل ہوگا کیونکہ انھیں خریداری کے وقت زیادہ اب زیادہ قیمت ادا کرنا پڑے گی۔

پاکستان کو پہلے ہی نو ملین گھروں کی کمی کا سامنا ہے اور نئے ٹیکس کے نفاذ سے ریئل اسٹیٹ کا شعبہ مزید سکڑ جائے گا۔حکومت نے ابتدا میں 0.6 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس کے نفاذ کا اعلان کیا تھا جس کو تاجروں کے سخت احتجاج کے بعد 0.3 فیصد کردیا گیا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کو رسمی اور دستاویزی معیشت کو فروغ دینے اور ریئل اسٹیٹ کے شعبے میں کسی بھی غیر قانونی لین دین کے خاتمے کیلیے اس ٹیکس کو مکمل طورختم کردینا چاہیے۔