دائرہ کار

ملک 68برسوں سے الیٹ کی شکارگاہ بنا ہوا ہے، اربوں، کھربوں کی کرپشن کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے،


Zaheer Akhter Bedari July 17, 2015
[email protected]

ملک 68برسوں سے الیٹ کی شکارگاہ بنا ہوا ہے، اربوں، کھربوں کی کرپشن کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے،18 کروڑ عوام بھوک، بے کاری، جہل، تعلیم اور علاج سے محروم بھیڑ بکریوں کی طرح زندگی گزار رہے ہیں، کرپشن کو ختم کرنے کے دعوے تو ہوتے رہے ہیں لیکن کرپشن کا عالم یہ ہے کہ ''مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی '' آج کل بھی کرپشن کے خلاف کئی ادارے لاٹھیاں اٹھائے نظر آتے ہیں لیکن ان لاٹھیوں کی زد میں چھوٹی چھوٹی مچھلیاں ہی آتی ہیں۔

ایک مگرمچھ بھی قابو نہیں آیا، ہم نے ان ہی کالموں میں بار بار اس حقیقت کی نشان دہی کی ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں کرپشن کا خاتمہ ممکن ہی نہیں کیوں کہ اس نظام میں قانون اور انصاف حکمرانوں کے اشارۂ ابرو پر کام کرتا ہے۔ کسی بھی ایسے جمہوری ملک میں جہاں قانون ساز اداروں میں عوام کے حقیقی نمایندے موجود ہوتے ہیں، قانون سازی عوام کے مفادات کے مطابق ہوتی ہے لیکن جن ملکوں میں قانون ساز اداروں میں اشرافیہ کے بدعنوان بیٹھے ہوں ،ان ملکوں میں نہ قانون عوام کے اجتماعی مفادات میں بنتے ہیں نہ انصاف کے ادارے عوام کی داد رسی کے قابل ہوتے ہیں۔

پچھلے دنوں جب کراچی میں آپریشن شروع ہوا تو پہلی بار دیکھا گیا کہ دوسرے درجے کی بڑی مچھلیوں کے خلاف بھی تحقیق شروع ہوئی جن میں اعلیٰ سطح کے بیورو کرپٹ بھی شامل ہیں لیکن آج تک یہ سارا سلسلہ ''زیر تفتیش''ہے اس دوران درجنوں اعلیٰ سطح کے ملزمان یا تو ملک سے فرار ہوگئے یا قبل از گرفتاری ضمانت حاصل کرچکے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن پر بد عنوانیوںاور کرپشن کے الزامات ہیں' اس کے برخلاف ایک ماڈل گرل کو جس پر 5لاکھ ڈالر کی رقم بر آمد ہونے کا الزام ہے اور وہ چار ماہ جیل میں بند رہی' اب وہ ضمانت پر رہا ہو گئی ہے۔

ماڈل ایان علی کے بارے میں کہا جارہاہے کہ وہ ہماری اشرافیہ کی آلہ کار کے طور پر منی لانڈرنگ کا کام انجام دے رہی تھی۔ ایان خود نہ کوئی بڑی سرمایہ دار ہے نہ جاگیر دار بلکہ وہ سرمایہ داروں، اگر اس نے کوئی کام کیا ہے تو بطور ایجنٹ کیا ہو گا۔ اگر یہ درست ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اصل مجرموں پر ہاتھ کیوں نہیں ڈالا جارہاہے ۔

یہی وہ تخصیص ہے جس نے ملک اور معاشرے کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ ہمارے ایک سابق وزیر تعلیم پر 13 ہزار نوکریاں بیچنے کا الزام ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ الزامات خود ان کی پارٹی کے وزرا ان پر لگارہے ہیں۔ بلاشبہ ان کے خلاف تحقیق ہورہی ہے لیکن اس قسم کی تحقیقوں کا انجام کیا ہوگا اس کا اندازہ کرنے کے لیے ہمیں ماضی پر ایک نظر ڈالنی ہوگی۔ کوئی قومی ادارہ ایسا نہیں جو کرپشن میں ملوث نہیں اور ان اداروں کے سربراہوں کے خلاف برسوں سے تحقیق ہورہی ہے، پیپلزپارٹی کے دور میں ایک قومی ادارے کے سربراہ پر 80 ارب کی کرپشن کا الزام تھا۔

اس ملزم کو ملک سے فرار کرایا گیا لیکن اسے برملا واپس لایاگیا اور اس کیس کو میڈیا نے سر پر اٹھالیا لیکن اب وہ ملزم اور وہ کیس دونوں ہی گوشۂ گمنامی میں ہیں۔ ایسا اس لیے ہورہا ہے کہ ان مجرموں کا سرپرست وہ حکمران طبقہ ہے جو اپنے کارندوں کو مکھن سے پانی کی طرح نکال لیتا ہے۔

ہمارے وزیراعلیٰ سندھ کو یہ شکایت ہے کہ بعض تفتیشی ادارے آپریشن میں اپنے دائرہ کار سے تجاوز کررہے ہیں، ہوسکتا ہے ان کی بات درست ہو لیکن جو وزرا نوکریاں بیچ کر کروڑوں روپے کماچکے ہیں۔ کیا یہ بھاری کرپشن ان کے دائرۂ اختیار میں تھی! ظاہر ہے جب حکمران اشرافیہ اپنے دائرۂ کار سے باہر نکل کر اربوں کی کرپشن کر رہی ہو تو اس احتسابی ادارے ان کے خلاف قدم اٹھائیں گے، ان کے اس اقدام کو ان کے دائرۂ اختیار سے تجاوز کہنا درست ہوگا؟

احتسابی ادارے اپنی کارروائیوں کے دوران اگر تخصیص اور امتیاز کا رویہ اپناتے ہیں تو اس پر اعتراض بھی کیا جاسکتا ہے اور تنقید بھی کی جاسکتی ہے۔ اگر احتسابی ادارے غیر جانبداری سے ہٹ کر امتیازات کے ساتھ کارروائیاں کرتے ہیں تو بلا شبہ ان کا یہ رویہ قابل افسوس ہی نہیں بلکہ قابل مذمت بھی ہے۔

ہمارا ملک کرپشن کے بڑے اڈے میں بدل گیا ہے، چوں کہ اربوں کی کرپشن اشرافیہ اور ان کے ایجنٹ ہی کررہے ہیں، لہٰذا منطقی تقاضا یہی ہے کہ احتساب کا ہدف بھی ان ہی طبقات کو ہونا چاہیے لیکن ہو یہ رہا ہے کہ اصل مجرموں کو چھوڑ کر دوسرے درجے کے مجرموں اور ان کے ایجنٹوں پر ہاتھ ڈالا جارہاہے' اس پر ستم یہ ہے کہ برسوں کی اس پریکٹس کے دوران کسی ملزم کو بھی وہ سزا نہیں ملی جس کا وہ حق دار ہے۔

بد قسمتی یہ ہے کہ غریب طبقات بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں، مثال کے طور پر محکمہ تعلیم میں جو غیر قانونی بھرتیاں ہوئیں اور ان نوکریوں کو حاصل کرنے کے لیے غریب اور بے روزگار لوگ قرض لے کر پیسے دے کر نوکری حاصل کرتے رہے ہیں جب ہماری حکومت کو ان جعلی نوکریوں کا علم ہوا تو اس نے ''غیر قانونی نوکریوں کے ملازمین کی ملازمتیں ختم کردیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے لاکھوں روپے دے کر نوکریاں خریدیں' آج وہ ایک بار پھر بے روزگار ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مقروض بھی، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نوکریوں کی فروخت سے جن لوگوں نے دولت کمائی' ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پہلے ان مجرموں سے یہ روپے ریکور کیے جاتے اور جن لوگوں نے یہ نوکریاں خریدیں انھیں ان کی رقم واپس کرکے انھیں قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے مفت ملازمتیں فراہم کی جائیں یا انھیں ملازمتوں پر بحال کیا جاتا، تاکہ وہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں لیکن ہو یہ رہا ہے کہ مہینوں سے ان کی تنخواہیں روک دی گئی ہیں، یہ ہمارے نظام کا وہ کرشمہ ہے جو قدم قدم پر دیکھا جاسکتا ہے۔

مقبول خبریں