عید اورکراچی کے شہری

عید کا دن یوں تو خوشیوں کا دن ہے مگرکراچی والوں کے لیے دکھوں، غم اور مشکلات کا دن بن گیا ہے۔


Dr Tauseef Ahmed Khan July 17, 2015
[email protected]

RAWALPINDI: عید کا دن یوں تو خوشیوں کا دن ہے مگرکراچی والوں کے لیے دکھوں، غم اور مشکلات کا دن بن گیا ہے۔ اس سال ڈاکٹر وحید الرحمن المعروف یاسر رضوی اور ڈاکٹر شکیل اوج جیسے جید اساتذہ اور سبین محمود جیسی امن، محبت، رواداری اور برداشت کا درس دینے والی سماجی کارکن آج موجود نہیں ہیں۔

ان کے قاتل آزاد ہیں اور ریاستی ادارے بے بس ہیں۔ ثناء وحید، ڈاکٹر حسام اور سبین کی بوڑھی والدہ اور نانی کے غموں کا مداوا کرنے والا اس عید پرکوئی موجود نہیں۔ اس عید پر پشاور پبلک اسکول کے شہید بچوں کے والدین افسردہ ہیں۔ اس اسکول کے طالب علم حصول علم کے لیے انتہاپسندی کی بھینٹ چڑھ گئے۔

قبائلی علاقے کا طالب علم اعتزاز احسن بھی آج موجود نہیں جس نے اپنے اسکول کے ساتھیوں کی جان بچانے کے لیے اپنی جان کی پرواہ نہ کی اور جنونی خودکش حملہ آور کو شکست دی اور وہ بہت سے بے گناہ ڈاکٹر، وکیل، سیاسی کارکن، سرکاری افسر، پولیس اور رینجرز کے سپاہی جو کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے، ان سب کے گھر والے عید کے موقعے پر اپنے پیاروں کو یادکر رہے ہیں اور عیدکا دن ان کے لیے غم اور ملال لایا ہے۔

وہ ڈیڑھ ہزار سے زائد افراد جو اچانک لو لگنے سے جاں بحق ہوئے، تاحال حکومتِ سندھ ان کی موت کے ذمے داران کا تعین نہیں کر سکی۔ ان غریب، بوڑھے، جوان، بچے اور خواتین کے گھر والوں کے پاس تو سوگ منانے کے لیے بھی کچھ نہیں۔

یہ عیدکراچی میں بجلی اور پانی کے شدید بحران کے ساتھ آئی۔ کراچی اس وقت بنیادی سہولتوں کے اعتبار سے تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہا ہے۔ شہر میں جون کے مہینے سے بجلی ناپید ہے۔ پہلے جن علاقوں میں بجلی کے بلوں کی ادائیگی صد فیصد ہوتی تھی وہاں لوڈ شیڈنگ کی شرح صفر تھی، جہاں بلوں کی ادائیگی 60 فیصد کے قریب تھی وہاں دن میں دو سے تین دفعہ لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی اور جن علاقوں میں بلوں کی ادائیگی کی شرح 50 فیصد سے کم ہے وہاں 6 سے 7 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی۔

اس کے علاوہ جن علاقوں میں بڑی کچی آبادیاں تھیں اور وہ علاقے جہاں بلوں کی ادائیگی کی شرح 30 فیصد سے کم ہے وہاں 8 سے 10 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی۔ اس بحران میں وہ علاقے جہاں کے مکین 100 فیصد بل ادا کرتے ہیں مگر ان کے گھرو ں کے قریب کی آبادیوں میں بل ادا نہ کرنے کا رجحان ہے وہ سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

ان علاقوں کو روزانہ لمبی لوڈشیڈنگ برداشت کرنی پڑتی تھی، مگر اب تو پورے شہر میں بجلی تلاش کے باوجود نہیں ملتی۔ روزانہ 10 سے 12 گھنٹے بجلی کا لاپتہ ہونا لازمی ہو گیا ہے۔ امیر علاقوں کے رہنے والے تو جنریٹر اور یو پی ایس کی سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں مگر نچلے، متوسط طبقے اور غریبوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ لیاقت آباد نمبر 3 میں پی ایم ٹی جل گئی، کے الیکٹرک کے عملے نے پی ایم ٹی کی تبدیلی سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں کثیر تعداد میں کنڈے لگنے اور بل دینے کی شرح کم ہونے کی بناء پر پی ایم ٹی تبدیل نہیں ہو گی۔

علاقے کے لوگ کئی دنوں تک کبھی کے الیکٹرک اور کبھی اپنے علاقے سے منتخب ہونے والی جماعت کے ہیڈ کوارٹر کے چکر لگاتے رہے، بالآخر مظاہرے کی نوبت آئی اور پھر ایک ہفتے بعد پی ایم ٹی لگا دی گئی۔ بجلی کے ساتھ پانی کے بحران نے بھی شدت اختیار کر لی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں سرکاری طور پر پانی کی فراہمی کا شیڈول نافذ ہے۔ اس شیڈول کے مطابق ہفتے میں ایک سے دو دن پانی کی فراہمی بند ہوتی تھی مگر اب ہفتے میںصرف 2 سے 3 دن چند گھنٹوں کے لیے پانی فراہم ہوتا ہے۔

کراچی کی بہت سی بستیوں میں جہاں غریب رہتے ہیں نلوں کے ذریعے مہینوں کے مہینے پانی فراہم نہیں ہوتا۔ متوسط طبقے اور نچلے متوسط طبقے کی آبادیوں فیڈرل بی ایریا، نارتھ کراچی، ناظم آباد، لانڈھی اور کورنگی وغیرہ میں مہینے میں دو چار دفعہ ہی پانی آتا ہے۔ ان علاقوں کے لوگوں نے زیرِزمین بورنگ کرائی ہوئی ہے۔

بورنگ کا پانی کبھی میٹھا اورکبھی کھارا ہوتا ہے۔ بعض دفعہ گٹر کا پانی بھی بورنگ کے پانی میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہ پانی پینے والے مختلف بیماروں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ موٹر سے زیرِ زمین پانی کھینچنے سے عمارتوں کی بنیادیں کمزور ہو جاتی ہیں۔ بری طرزِ حکومت کی بناء پر کراچی کے شہریوں کے ہر سمت مسائل بڑھ گئے۔

رمضان کے چاند کے نظر آنے سے پہلے ہی ہر چیز کی قیمت آسمان کو پہنچ گئی۔ مرغی، پھل، گوشت ، سبزی، دالیں اور مصالحے وغیرہ اور ہر شعبے میں عید کے دن استعمال ہونے والی اشیاء کی قیمتیں آسمان تک پہنچ گئی ہیں۔ یہی حال کپڑوں، جوتوں اور خصوصاً خواتین کے استعمال کی اشیاء کا ہے۔ کراچی کے کمشنر شعیب صدیقی قیمتوں کے معاملے میں متحرک نظر آئے مگر پوری کراچی کو کنٹرول کرنا ان کے بس میں نہ تھا۔

دکانداروں نے یہ عذر بیان کرنا شروع کر دیا کہ منڈی سے اشیاء مہنگی ملتی ہیں۔ شمیم بانو جو ایک صحافی ہیں اور زندگی کی ایک بڑا حصہ امریکا میں گزار کے آئی ہیں وہ گزشتہ روز کراچی پریس کلب میں بتا رہی تھیں کہ امریکا میں ہندو، یہودی اور عیسائی دکاندار اپنے تہواروں کے علاوہ رمضان کے مہینے میں بھی سیل لگاتے ہیں اس طرح مسلمانوں کو سستی اشیاء مل جاتی ہیں۔ مگر پاکستان میں تاجروں کے پاس ایسی کوئی روایت نہیں۔ یہ تاجر مذہبی تہواروں کے موقعے پر زیادہ سے زیادہ نفع حاصل کرنے کی ہوس کا شکار ہوتے ہیں۔

اسلامی امورکے ماہر پروفیسر سعید عثمانی کا کہنا ہے کہ کراچی کے تاجر رمضان میں فطرہ، زکوۃ اور خیرات پر بہت رقم خرچ کرتے ہیں۔ یہ تاجر ہندو، عیسائی اور یہودی تاجروں کی پیروی کریں اور رمضان، عید اور دیگر تہواروں پر اپنے منافعے کی شرح کم کر دیں تو اس طرح انسانوں کی خدمت سے وہ زیادہ ثواب کما سکتے ہیں۔

اس صورتحال میں حکومتِ سندھ نے کراچی کو اسمارٹ سٹی بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا۔ شہری ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں پانی کی تقسیم برے نظام اور بدعنوانیوں کا شکار ہے۔ شہر میں بااثر افراد اور اداروں کے ہائیڈرنٹ قائم ہیں جہاں سے ٹینکر پورے شہر میں پانی فروخت کرتے ہیں۔

پانی کی کمی کی بناء پر ٹینکر مافیا نے قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ پہلے چھوٹا ٹینکر جو 600 سے 800 روپے میں ملتا تھا اب 2 سے 3 ہزار روپے میں دستیاب ہے اور بڑا ٹینکر تو 6 سے 8 ہزار روپے میں ملتا ہے۔ یہ پانی غریب عوام کا ہے جو ٹینکر مافیا کے ذریعے فروخت ہو جاتا ہے۔ واٹر بورڈ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دوران ٹیوب ویل چلانے کے لیے متبادل تلاش نہیں کر سکی۔ دھابیجی میں پانی کے سب سے بڑے ذخائر ہیں اور کراچی کے لیے پانی کی فراہمی کے لیے دیوہیکل مشینیں ہیں۔ روزانہ کئی گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ کے دوران یہ مشینیں کام نہیں کرتیں، یوں پانی کی سپلائی معطل ہو جاتی ہے۔

شہر کے مختلف علاقوں میں قائم پمپنگ اسٹیشنوں کو بھی بجلی کی سپلائی معطل رہنے سے اس مسئلے کی شدت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پرانی پائپ لائنوں سے روزانہ ہزاروں گیلن پانی ضایع ہو جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی حکومت 8 برسوں کے دوران ان مشینوں کو بجلی فراہم کرنے کے لیے جنریٹر مہیا نہیں کر سکی۔ سمندر کے پانی کو قابلِ استعمال بنانے اور بارش اور سیلاب کے پانی کو محفوظ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ اگر ایک طرف لوگ امن و امان کی خراب صورتحال، پانی اور بجلی کی کمی کا شکار ہیں تو دوسری طرف حکومتِ سندھ نے کراچی کو اسمارٹ سٹی بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

یہ خبر بھی ہے کہ دبئی، چین اور امریکا کی کمپنیاں کراچی کی سڑکوں پر سولر اسٹریٹ لائٹس، سی سی ٹی وی کیمرے اور مفت وائی فائی کی سہولت فراہم کریں گی۔ اخبارات کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں کلفٹن سے شاہراہِ فیصل تک سولر اسٹریٹ اور وائی فائی کی تنصیب ہو گی۔ اس پہلے مرحلے پر 20 لاکھ ملین ڈالر کی لاگت آئے گی جب کہ اس منصوبے کی مکمل لاگت 200 ملین ڈالر ہو گی۔ یہ خبر کراچی کے شہریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔

شہری یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ پیپلز پارٹی کی حکومت کو کراچی کی عوام سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ حکومت محض ان منصوبوں میں دلچسپی لیتی ہے جن سے چند بڑے خاندانوں کا فائدہ ہو۔ کچھ لوگو ں کا کہنا ہے کہ سندھ کی حکومت شہریوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کر رہی ہے۔ شہریوں کے لیے یہ عید ایک مشکل دن ہے، مگر کراچی کے شہری عید کے دن پرامید ہیں کہ ایک دن تبدیلی آئے گی۔ آیندہ آنے والی عیدوں پر نہ بجلی کی کمی ہو گی اور نہ ہی پانی غائب ہو گا اور تاجر اپنی اشیاء کی قیمتوں میں کمی کریں گے۔