بائیں بازو کا ایک مثبت قدم
دنیا کے معروف انقلابی رہنما ماؤزے تنگ نے کہا تھا کہ ترقی پسند انقلابی کارکن عوام کے سمندر میں مچھلی کی طرح رہتا ہے۔
دنیا کے معروف انقلابی رہنما ماؤزے تنگ نے کہا تھا کہ ترقی پسند انقلابی کارکن عوام کے سمندر میں مچھلی کی طرح رہتا ہے۔ اس مثال سے ماؤزے تنگ یہ بتانا چاہتے تھے کہ عوام کے بغیر انقلابی کارکن کا سانس لینا دوبھر ہوجاتا ہے۔
اگر مچھلی کو پانی سے الگ کردیا جائے تو وہ زندہ نہیں رکھ سکتی۔ اس حوالے سے اگر ہم پاکستان کے سیاسی سمندر پر نظر ڈالیں تو ترقی پسند کارکن سمندر سے باہر ریت پر پڑے رینگتے نظر آتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ نظر آتی ہے کہ ہمارے ملک کی انقلابی جماعتیں اور کارکن روایتی انقلابات کی رومانیت میں اس طرح پھنسے ہوئے ہیں کہ ان کی نظر ملک کے معروضی حالات اور تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا پر جاتی ہی نہیں اس مایوس کن صورتحال میں ہمارے دوست اور عوامی ورکرز پارٹی کے سینئر رہنما یوسف مستی خان نے جب یہ مژدہ سنایا کہ عوامی وکرز پارٹی بلدیاتی الیکشن میں حصہ لینے کی تیاری کر رہی ہے اور پنجاب سندھ میں خصوصی توجہ دے رہی ہے تو ہمیں بڑی خوشی ہوئی کہ چلو ہمارے دوستوں کو دیر ہی سے سہی عوام میں جانے کا خیال تو آیا۔
پاکستان کی سماجی ہیئت ترکیبی کے پیش نظر 68 سال سے سیاست اور اقتدار پر قابض اشرافیہ کی طاقت اور بے پناہ وسائل کے پیش نظر کسی بھی انتخابات میں عوام کے حقیقی نمایندوں کی کامیابی بہ ظاہر مشکل نظر آتی ہے لیکن پاکستان کے 18 کروڑ عوام 68 سال کی اشرافیائی سیاست سے نفرت کی حد تک اس طرح بیزار ہیں کہ اگر عوام کے مخلص ایماندار اور اہل نمایندے میدان میں آتے ہیں تو عوام انھیں سر آنکھوں پر بٹھانے کے لیے تیار ہوں گے، لیکن بدقسمتی یہ رہی ہے کہ اس 68 سالہ طویل عرصے کے دوران سماج کو تبدیل کرنے والی طاقتیں ایسی بھول بھلیوں میں پھنسی رہیں کہ عوام سے ان کا تعلق قطعی ٹوٹ پھوٹ کر رہ گیا۔
اس خلا کو ایسی طاقتوں نے طلسمی نعروں اور دعوؤں کے ساتھ پورا کرنے کی کوشش کی جن کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہ تھا لیکن اشرافیائی سیاست سے بیزار عوام ہر اس رہنما کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھنے لگے جو ان کی تباہ حال زندگی کو بدلنے کی نوید سناتا تھا۔
دھرنا تحریک بھی اسی لیے عوام میں مقبول ہوئی کہ اس تحریک کے قائدین نے انقلاب اور نئے پاکستان کے نعرے بلند کیے لیکن جب عوام نے یہ محسوس کیا کہ یہ سارا کھیل حصول اقتدار کا کھیل ہے تو انھیں پھر ایک بار مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ اب عوام کی نظریں کسی ایسے مسیحا کی تلاش میں ہیں جو انھیں 68 سالہ عذاب ناک زندگی سے نجات دلا دے۔
سیاست اور اقتدار پر جن طاقتوں کی گرفت مضبوط ہے اور جو برسر اقتدار ہونے کی وجہ ریاست اور سیاست کے وسائل کو اپنے مفادات کے لیے آسانی سے استعمال کر رہی ہیں، ان کا مقابلہ انتہائی کمزور پوزیشن کی حامل قوتوں کے لیے آسان نہیں لیکن جن طاقتوں کے پاس خلوص، ایمانداری اور عوام کی زندگی بدلنے کی تڑپ ہوتی ہے وہ آخرکار عوام کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں، بشرطیکہ وہ عوام کے سمندر میں کود پڑیں۔
بدقسمتی یہ رہی ہے کہ ہماری انقلابی سیاست کے رسیا اپنا سارا وقت ساری صلاحیتیں انقلاب روس انقلاب چین کی سالگرہ منانے میں، یوم مئی، یوم حسن ناصر منانے میں گزارتے رہے ہیں اور بدقسمتی یہ رہی ہے کہ یہ تقریبات بھی چند مخصوص جگہوں پر ہی منعقد کی جاتی رہیں چونکہ ان انقلابی دوستوں کا رشتہ عوام سے کٹا رہا لہٰذا اس قسم کی تقریبات میں بھی مقررین اور سامعین وہی گھسے پٹے لوگ رہے جو ریٹائرمنٹ کی حدیں کراس کر چکے ہیں، عوام ان تقریبات سے اس لیے دور رہے کہ کسی نے عوام میں جانے کی زحمت ہی نہیں کی۔
بلدیاتی انتخابات عوام سے رابطہ کرنے کا ایک موثر ذریعہ ہیں اس سڑے گلے ناکارہ اور مکروہ نظام کو تبدیل کرنے کے لیے عوام میں جانا اور انھیں متحرک کرنا انھیں بڑی بامعنی تبدیلیوں کے لیے ترغیب فراہم کرنا اولین شرط ہے اور بلدیاتی انتخابات تبدیلیوں کے دعویداروں کو یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ عوام میں جائیں اور انھیں بامعنی تبدیلیوں کے پراسس سے آگاہ کریں میدان سیاست میں ڈنڈ بیٹھک کرنے والی منفی قوتوں کے عزائم سے عوام کو آگاہ کریں اور 1977-1968 کی تحریکوں میں عوامی طاقت کی اہمیت کے ساتھ اس کے غلط استعمال سے عوام کو آگاہ کرتے ہوئے مثبت انداز میں اجتماعی طاقت کے استعمال کے فوائد سے عوام کو آگاہ کریں۔
بدقسمتی اور حماقتوں اور انقلابی نظریات کے نام پر انڈر گراؤنڈ سیاست نے انقلاب کی دعویدار قوتوں کو عوام کے سمندر سے دور پھینک دیا ہے۔ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا مطلب عوام تک اپنے نظریات اور منشور کو براہ راست پہنچانا ہے۔
ہمارے دوستوں کی یہ شکایت بجا ہے کہ میڈیا کے اس دور میں میڈیا انھیں نظر انداز کر رہا ہے جس کی وجہ سے ان کی سرگرمیوں سے عوام ناواقف رہتے ہیں جب کہ مذہبی انتہا پسندوں ، زبان، قومیت اور مسالک کی سیاست کرنے والوں کو میڈیا کوریج دیتا ہے بلاشبہ یہ شکایت سو فیصد بجا اور درست ہے لیکن محض شکایت سے میڈیا کی توجہ حاصل نہیں کی جاسکتی بلکہ اس حوالے سے اپنی کمزوریوں کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے جدید تکنیک سے کام لینا بھی ضروری ہے۔
اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ بالادست قوتوں کے اشارے کے بغیر میڈیا کسی کی حمایت اور مخالفت نہیں کرتا لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ جن جماعتوں کے ساتھ عوام کی طاقت ہوتی ہے میڈیا ان جماعتوں کو نظرانداز نہیں کرسکتا۔
عشروں سے بایاں بازو بے شمار ٹکڑوں میں بٹا ہوا ہے اور ایسی انقلابی رومانیت کا شکار ہے جو اسے عوام سے دور کر دیتی ہے۔ روایتی انقلاب کے داعی ہوسکتا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کو فضول اور انقلاب دشمن فعل قرار دیں لیکن ان دوستوں کے پاس اس کا کیا جواب ہے کہ بلدیاتی انتخابات کا کون سا ایسا متبادل ہے جو بڑے پیمانے پر عوام سے رابطے کا ذریعہ بن سکتا ہے؟بلدیاتی انتخابات میں شرکت کا ایک مقصد تو بلدیاتی نظام پر قبضہ کرنا ہے یہ کام اشرافیہ بلدیاتی انتخابات کے ذریعے کر رہی ہے لیکن جن لوگوں کا مقصد بڑے پیمانے پر عوام سے رابطہ اور عوام تک اپنے نظریات پہنچاکر عوام میں سیاسی بیداری پیدا کرنا ہے وہ لوگ نہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج سے مایوس ہوتے ہیں نہ اس عوامی رابطے کے وسیلے کو نظرانداز کرسکتے ہیں۔
عوامی ورکرز پارٹی بلدیاتی الیکشن میں حصہ لے کر عوام سے اپنے ٹوٹے ہوئے رابطوں کو بحال کرنے کی مثبت کوشش کر رہی ہے لیکن کیا ہی اچھا ہوتا تمام انقلابی دھڑے متحد ہوکر ایک منظم طریقے سے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیتے اور عوام کو مثبت اور منفی طاقتوں کے مقاصد سے آگاہ کرتے۔