اسٹاک مارکیٹ 119 پوائنٹس گرکرانڈیکس35815 پر آگیا

جمعہ کو کے ایس ای 100 انڈیکس35900 پوائنٹس کی سطح سے گھٹ کر 35800 پوائنٹس کی سطح پر آگیا


Business Reporter July 25, 2015
جمعہ کو کے ایس ای 100 انڈیکس35900 پوائنٹس کی سطح سے گھٹ کر 35800 پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔ فوٹو : آئی این پی/فائل

کراچی اسٹاک ایکس چینج میں رواں کاروباری ہفتے کے آخری روز (جمعہ) کو کاروبارحصص کی خرید و فروخت میں مندی رہی جس کی وجہ سے 100 انڈیکس 35900کی سطح سے نیچے آگیا۔

جمعہ کو کاروبار کا آغاز45پوائنٹس کی تیزی کے ساتھ ہوا لیکن تیکنیکی کریکشن اور منافع کے حصول کے لیے سرمایہ کاروں کی جانب سے شیئرز کی فروخت کے سبب مارکیٹ منفی زون میں چلی گئی اور ایک موقع پر انڈیکس 35800کی سطح سے بھی نیچے چلا گیا لیکن ٹیلی کام اور کیمیکلز سیکٹرکے شیئرز میں ہونے والی خریداری نے انڈیکس کو مزید گرنے سے روکے رکھا۔

جمعہ کو کے ایس ای 100 انڈیکس35900 پوائنٹس کی سطح سے گھٹ کر 35800 پوائنٹس کی سطح پر آگیا تاہم مارکیٹ کے مجموعی سرمائے میں2ارب سے زائد روپے کااضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ کاروباری حجم بھی جمعرات کی نسبت20کروڑ شیئرز زیادہ رہا۔ماہرین کے مطا بق مارکیٹ 36ہزار پوائنٹس کے قریب ہونے کی وجہ سے تکنیکی گراوٹ کا شکار ہے جبکہ قلیل مدت میں کوئی نیا ٹریگر موجودنہ ہونے کی وجہ سے بھی مارکیٹ میں مندی کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں تاہم مستقبل کے سودے کی وجہ سے مارکیٹ کا سرمایہ بڑھ رہا ہے۔

اسٹاک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں زیادہ تر حصص کی قیمتیں بڑھی ہیں جس کی وجہ سے سرمایہ کار حصص کی فروخت کو ترجیح دے رہے ہیں۔جمعہ کو کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100انڈیکس میں 119.79پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جس سے کے ایس ای 100انڈیکس 35934.99پوائنٹس سے گھٹ کر 35815.20پوائنٹس پر بند ہوا۔ اسی طرح کے ایس ای 30 انڈیکس 106.36پوائنٹس کی کمی سے 22191.51 پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 24962.78 پوائنٹس سے گھٹ کر24957.63 پوائنٹس پر آگیا۔

انڈیکس میں گراوٹ کے باوجود مارکیٹ کا مجموعی سرمایہ 2ارب4 کروڑ 25 لاکھ 12ہزار155 روپے بڑھ کر 77 کھرب 13 ارب27 کروڑ4 لاکھ44 ہزار 20روپے ہو گیا، 78 کروڑ 83 لاکھ 33ہزارحصص کے سودے ہوئے جبکہ جمعرات کو 57 کروڑ 56لاکھ12ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے۔ جمعہ کے روز مجموعی طور پر 387کمپنیوں کا کاروبار ہوا جن میں سے 188کمپنیوں کے حصص کے بھاؤ میں اضافہ، 178میں کمی اور 21کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں استحکام دیکھا گیا۔