اسٹیٹ بینک نے بحرانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کام شروع کردیا

اہم ملکی بینکوں کی شناخت، نگرانی ودیگرامورکے لیے فریم ورک کامسودہ تیار


Business Reporter July 31, 2015
فریم ورک میں پاکستان میں نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینکوں کی شناخت کی غرض سے معیار مقرر کرنے کے لیے بی سی بی ایس کا نشانیہ طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔ فوٹو : فائل

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالی نظام کے استحکام کو یقینی بنانے اور نگرانی وریگولیٹری ریجیم کو مزید مستحکم بنانے کے سلسلے میں پاکستان میں نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینکوں (ڈی۔ ایس آئی بیز۔ڈومیسٹک سسٹمیٹکلی امپورٹڈ بینکس) کی شناخت، نگرانی/ضابطہ کاری کے لیے فریم ورک تیار کرلیاہے اور اس کے نفاذ سے قبل مسودے پربینکاری صنعت، دانشوروں، اقتصادی ماہرین اور دیگر فریقین کی 31 اگست 2015 تک رائے طلب کر لی ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے جاری اعلامیے کے مطابق حالیہ عالمی معاشی بحران کے تناظر میں نظام کے لحاظ سے اہم مالیاتی ادارے توجہ کا مرکز بنے، مالی استحکام بورڈ / بازل کمیٹی برائے بینکاری نگرانی (بی سی بی ایس) نے نومبر 2011 میں بڑے مالیاتی اداروں کی لچک بڑھانے کی غرض سے ایک G-SIFIs فریم ورک جاری کیا تھا، بعد میں اکتوبر 2012 میں اس فریم ورک کو ''ڈی۔ایس آئی بیز'' تک وسیع کر دیا گیا، اسٹیٹ بینک بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں سے آگاہ ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ اسے پاکستان کے مالیاتی اداروں میں نظامیاتی اکتشاف (سسٹمیٹک ایکسپوزر) کے بڑھنے سے بہتر طور پر نمٹنا بھی ہے چنانچہ اسٹیٹ بینک نے یہ فریم ورک تیار کیا ہے جس میں نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینکوں کی شناخت کے لیے معیار مقرر کرنا اور ڈی۔ ایس آئی بیزکی لچک بڑھانے کے لیے ان کے حوالے سے پالیسی مضمرات پر مستقبل کی راہ کاتعین شامل ہے، فریم ورک میں پاکستان میں نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینکوں کی شناخت کی غرض سے معیار مقرر کرنے کے لیے بی سی بی ایس کا نشانیہ طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔

نظامیاتی اہمیت کی پیمائش کے لیے جو اظہاریے استعمال کیے گئے ہیں وہ حجم، مالی لین دین کا باہمی ربط، پائیداریت اور پیچیدگی ہیں، اس کے علاوہ فریم ورک میں نظام کے لحاظ سے اہم ملکی بینکوں کے لیے ممکنہ مخصوص ضوابط، نگرانی اور کوائف کے اظہار کی شرائط جیسے امور پر بھی توجہ دی گئی ہے تاکہ مالی استحکام برقرار رکھا جائے اور بحران کے دوران ایسے اداروں کے انتظام کے لیے براہ راست مدد اور حکومت کی مضمر ضمانت حاصل کرنے کا امکان کم کیا جائے۔

توقع ہے کہ نظام کے لحاظ سے اہم ملکی مالی اداروں کی شناخت اور ضوابطی و نگراں فریم ورک کی تشکیل کے سلسلے میں مستقبل میں ہونے والا کام نظام کے خطرے کو محدود کرنے اور مالی شعبے کا استحکام یقینی بنانے میں بہت کارآمد ثابت ہو گا۔