بھارت نوازپالیسیوں کے باعث کاٹن انڈسٹری بدترین بحران کا شکار

بجلی و گیس ٹیرف میں غیرمعمولی اضافے اور توانائی بحران کے باعث 70 ٹیکسٹائل ملزبندہوچکیں ہیں


Business Reporter August 04, 2015
بجلی و گیس ٹیرف میں غیرمعمولی اضافے اور توانائی بحران کے باعث 70 ٹیکسٹائل ملزبندہوچکیں ہیں۔ فوٹو: فائل

موجودہ حکومت کی اینٹی کاٹن انڈسٹری اوربھارت نوازپالیسیوں کے باعث پاکستانی کاٹن انڈسٹری اس وقت تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے دوچارہے۔

بجلی اورگیس کے نرخوں میں غیرمعمولی اضافے کے باوجود ٹیکسٹائل انڈسٹری کودرپیش توانائی کے بحران کے باعث 70سے زائدٹیکسٹائل ملزمکمل طورپربندجبکہ بیشترپوری پیداواری صلاحیت پرآپریشنل نہ ہونے کے باعث روئی اورپھٹی کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے رجحان کے ساتھ لاکھوں مزدوروں کے بے روزگار ہونے جبکہ کسانوں کی فی ایکٹرآمدنی میں ریکارڈ کمی کا خدشہ۔ چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ پاکستان کی کل تقریباً 300ٹیکسٹائل ملزمیں 80فیصد سے زائد پنجاب میں واقع ہیں لیکن پنجاب کی ٹیکسٹائل ملزکوبجلی صوبہ سندھ اورخیبرپختونخوا کے مقابلے میں تقریباً 125فیصدمہنگی ملنے کے ساتھ گیس کی فراہمی بھی روزانہ صرف 8گھنٹے کی جارہی ہے جس کے باعث پیداواری لاگت میں غیرمعمولی اضافہ ہونے سے ٹیکسٹائل ملزکا آپریشنل رہنا اب تقریباً نہ ممکن ہوگیاہے اس لیے اپٹمانے 7اگست کو ایک ملک گیرہٹرتال کااعلان بھی کر رکھاہے تاکہ حکومت ان کے مسائل کوحل کرے۔

انہوں نے بتایا کہ توانائی کے بحران کے ساتھ ساتھ پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسٹری موجودہ حکومت کی بھارت نواز پالیسیوںکی وجہ سے بھی زوال پذیرہے کیونکہ پاکستان نے بھارت سے درآمدہونے والے سوتی دھاگے پر صرف 5فیصد اورکپڑے پر28فیصد ڈیوٹی عائد کر رکھی ہے جبکہ بھارت نے پاکستان سے سوتی دھاگے کی درآمد پر 28 فیصدجبکہ کپڑے کی درآمد ریکارڈ 120 فیصد ڈیوٹی عائد کررکھی ہے ۔

جس کے باعث پاکستان میں بھارت سے سوتی دھاگے کی ریکارڈ درآمدکے باعث پاکستانی ٹیکسٹائل انڈسڑی کو سوتی دھاگے کی مقامی فروخت اور برآمد کرنے میں غیرمعمولی مسائل کاسامنا کرنا پڑرہاہے۔ احسان الحق نے بتایا کہ پاکستان کویورپی یونین کی جانب سے ملنے والے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے باعث ہماری کاٹن ایکسپورٹس میں 1ارب 50 کروڑ ڈالرکااضافہ ہواہے، ورنہ ٹیکسٹائل انڈسٹری دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ سکتی تھی۔

مقبول خبریں