تعلیمی ادارے کیا بنا رہے ہیں
دراصل ہوا یوں کہ مملکت اللہ داد ناپرساں میں اچانک آج آدھ روزہ یوم تعلیم منانے کا اعلان ہو گیا
بہری آنکھوں اور اندھے کانوں کو خاموش بے زبان کا آداب، چینل ''ہیاں سے ہواں تک'' کا اینکر ہونے کے ناتے میں یہ خوش خبری آپ کو ''مارنا'' ضروری سمجھتا ہوں کہ آج ہمارا مشہور و معروف ٹاک شو ''چونچ بہ چونچ'' صرف دو چونچوں پر مشتمل ہے اور یہ دونوں چونچیں ہماری اپنی، وہی ٹوٹی پھوٹی اور گھسی گھسائی چونچیں ہیں جن کو آپ جانتے ہیں لیکن پہچانتے نہیں ہیں۔
دراصل ہوا یوں کہ مملکت اللہ داد ناپرساں میں اچانک آج آدھ روزہ یوم تعلیم منانے کا اعلان ہو گیا کیوں کہ سال کے باقی سارے ''یوم'' بھرے ہوئے تھے ، اس لیے یوم صحت کو نصف لی و نصف کر کے آدھا یوم تعلیم ڈیکلیئر کر دیا گیا۔بدیں وجہ ہم مملکت اللہ داد ناپرساں سے کسی ماہر تعلیم کو نہیں اسمگل کر سکے اور اس کی جگہ اپنے ماہر تعلیم قہر خداوندی سے کام چلا رہے ہیں اور ان سے چونچ لڑانے کے لیے ماہر جہالت و جاہلیت علامہ برڈ فلو کو باندھا گیا ہے۔
جناب قہر خداوندی سابق ڈینگی مچھر گھر کی دال مرغی برابر ہیں ورنہ وہ اپنے گاؤں میں ہر لحاظ سے اکلوتے اور نمبر ون ہیِ۔ گاؤں کے اکلوتے مارک ٹیلی وہ ہیں، اکلوتے صحافی ادیب شاعر وہ ہیں، اکلوتے کلاکار گلوکار اور اداکار بھی وہ ہیں، ماہر تعلیم ماہر صحت اور ماہر جرائم بھی وہ ہیں حتیٰ کہ اپنی زوجہ محترمہ کے اکلوتے شوہر اور اپنے بچوں کے اکلوتے باپ بھی ہیں۔
انھوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ایک پرائمری اسکول میں ''مالی'' کی جاب سے کیا تھا وہاں سے نکالے جانے پر وہ ایک انگلش میڈیم و ماڈل اسکول میں ٹیچر بھرتی ہوا، پانچ سال یہاں ملازمت کے دوران اس نے پانچویں جماعت کی ''ڈگری'' حاصل کی پھر اپنے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا اسکول کھولا جس کے پرنسپل ٹیچر چپڑاسی مالک ڈائریکٹر سب کچھ وہ خود تھے یہاں اس نے خود کو میٹرک کی ''ڈگری'' عطا کر دی، یاد رہے کہ ان کے نزدیک پرائمری کا مدرسہ چھوڑنے کے سرٹیفیکیٹ سے لے کر پی ایچ ڈی تک ساری سندات ڈگری شمار کی جاتی ہیں۔آج ہم ان سے مملکت اللہ داد ناپرساں میں تعلیم اور لٹریسی پر بات کریں گے۔ ہاں تو جناب آل ممتاز صاحب
چشم : آل ممتاز کی جگہ آل ان ون کہیے۔
اینکر : ٹھیک ہے تو آل ان ون صاحب ۔۔۔۔ تعلیم کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔
چشم : نہایت بہترین کاروبار ہے بلکہ اگر میں یہ کہوں کہ یہ بل گیٹس کے کاروبار سے بھی زیادہ نفع بخش کاروبار ہے تو بے جا نہ ہو گا۔
اینکر : مگر کون سی تعلیم، دینی دنیاوی ٹیکنیکل یا مکنیکل۔
چشم : ہر ایک ڈرائیونگ اور بجلی چوری سکھانے کے اسکول سے لے کر کچھ بھی سکھانے کو تعلیم کہا جا سکتا ہے۔
علامہ : تعلیم یا علم۔
چشم : نہیں نہیں ''علم'' بالکل اور ہی چیز ہے، اس کا تعلیم سے اتنا بھی تعلق نہیں ہے جتنا برائن لارا اور لارا دتہ کے درمیان ہے، علم ایک قطعی فضول بیکار نکھٹو اور خسارے والا کام ہے۔ میں تعلیم کی بات کر رہا ہوں۔
علامہ : علم اور تعلیم میں کیا فرق ہے؟
چشم : جو آپ میں اور مجھ میں ہے۔
علامہ : کیا مطلب ۔۔۔ کہاں میں اور کہاں تم ۔۔۔ حیوان اور انسان کو ایک دوسرے سے کیا نسبت۔
چشم : دیکھیں میں بات کو مزید واضح کر کے حیوانوں کی دل آزاری نہیں کر سکتا۔
علامہ : ہاں تمہارے سگے سمبندھی جو ہیں۔
چشم : وہ تو میں مانتا ہوں اور آپ کو بھی اپنا سمبندھی سمجھتا ہوں۔
اینکر : یہ تم لوگ کس جنگل میں نکل گئے۔
علامہ : جنگلیوں کے ساتھ تو جنگل میں ہی نکلنا پڑتا ہے۔
چشم : اس لیے تو میں بھی آپ کے ساتھ ۔۔۔۔
اینکر : ہاں ۔۔۔ تو پھر سمجھنے سمجھانے کا کام آپ کا نہیں ۔۔۔ یہ فضول قسم کے نکمے نکھٹو اہل علم کا کام ہے۔
علامہ : دیکھو عالموں کی بات مت کرو ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔
چشم : وہ تو نہ کبھی تھا نہ ہے نہ ہو گا۔
علامہ : میں عالم ہوں عامل ہوں۔
چشم : نہیں آپ صرف تعلیم یافتہ ہیں۔
اینکر : یہ کیا بات ہوئی، علم اور تعلیم میں فرق کیا ہے؟
چشم : زمین و آسمان کا فرق ہے، علم سراسر خسارے کا سودا اور فلاپ کاروبار ہے جب کہ تعلیم ایک کام یاب بزنس ہے۔
اینکر : بات میرے پلے نہیں پڑ رہی ہے۔
چشم : دیکھو تعلیم لوگ کس کے لیے حاصل کرتے ہیں؟
اینکر : کوئی روزگار یا جاب کر نے کے لیے۔
چشم : اور یہ جو مستری ہوتے ہیں، لوہار ہوتے ہیں، ترکھان ہوتے ہیں پائپ فٹر، اسٹیل فکسر میچ فکسر اور حکومت فکسر الیکشن فکسر ہوتے ہیں یہ کیا کرتے ہیں۔