سپریم کورٹ کا مثبت فیصلہ

دہشت گرد گروہ اس قدر طاقت ور ہو چکے تھے کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ پورے ملک کی سالمیت اور بقاء داؤ پر لگ چکی ہے


Editorial August 07, 2015
متعلقہ اداروں کو اپنے فرائض خوش اسلوبی سے ادا کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف متحرک ہونا چاہیے تاکہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑا جاسکے۔ فوٹو: فائل

PESHAWAR: سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے قیام کو درست اور آئینی قرار دیتے ہوئے21ویں اور18ویں آئینی ترامیم کے خلاف درخواستیں خارج کردیں، چیف جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں17 رکنی فل کورٹ کے11ججوں نے فوجی عدالتوں کے حق میں فیصلہ جب کہ6ججوں نے اسے غیرآئینی قرار دیا۔ 18ویں ترمیم کے تحت ججوں کی تقرری کے طریقہ کار، خواتین اور اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کو14ججوں نے درست اور 3 ججوں نے آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم قرار دیا۔

پاکستان بارکونسل، سپریم کورٹ بار، لاہورہائیکورٹ بار سمیت مختلف وکلاء تنظیموں نے 21ویں ترمیم کے خلاف15پٹیشنزدائرکیں اور موقف اپنایا تھا کہ فوجی عدالتوں کے قیام کی اجازت دینا موجودہ عدلیہ پرعدم اعتماد کرنے کے مترادف ہے۔ دوسری جانب 18ویں ترمیم کے خلاف 16درخواستیں عدالت میں پہلے سے زیرالتوا تھیں۔

902صفحات پر مشتمل تحریری فیصلے میں7ججوں نے اپنی الگ رائے بھی دی ہے۔ چیف جسٹس ناصر الملک، جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس ثاقب نثار، جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس امیر ہانی مسلم، جسٹس گلزار احمد، جسٹس مشیر عالم، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اقبال حمید الرحمان ،جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس مقبول باقر نے فوجی عدالتوں کا قیام درست قرار دیا تاہم یہ بھی قرار دیا کہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اعلٰی عدلیہ کو عدالتی جائزے کا اختیار حاصل ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس اعجاز افضل خان، جسٹس اعجاز احمد چوہدری، جسٹس دوست محمد خان اور جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے فوجی عدالتوں کے قیام کو غیرآئینی، امتیازی اور بنیادی ڈھانچے سے متصادم قرار دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد دہشت گردوں کے خلاف مقدمات کی سماعت کے لیے 21 ویں آئینی ترمیم کی فوجی عدالتوں کی راہ میں آئینی رکاوٹ دور ہو گئی ہے اور ان کے قیام اور فیصلوں کو آئینی حیثیت ملنے کے بعد اب وہ موثر طور پر اپنے فرائض سرانجام دے سکیں گی۔

16اپریل کو سپریم کورٹ نے حکم امتناعی جاری کر کے فوجی عدالتوں کی جانب سے سنائی جانے والی چھ دہشت گردوں کی سزائے موت پر عمل درآمد روک دیا تھا۔ اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد فوجی عدالتوں سے ملنے والی سزاؤں پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔ 16 دسمبر 2014ء کو سانحہ پشاور کے بعد سیاسی اور عسکری قیادت نے دہشت گردی کے خاتمے اور دہشت گردوں کو فوری سزائیں دلانے کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ کیا تھا جس کے تحت 6جنوری 2015ء کو پارلیمنٹ نے 21 ویں آئینی ترمیم کو متفقہ طور پر منظور کرتے ہوئے فوجی عدالتوں کے قیام کی اجازت دے دی تھی۔

دہشت گرد گروہ اس قدر طاقت ور ہو چکے تھے کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ پورے ملک کی سالمیت اور بقاء داؤ پر لگ چکی ہے' بعض ماہرین بار بار یہ اعتراضات اٹھا رہے تھے کہ دہشت گرد عدالتوں سے رہا ہو رہے ہیں' یہ بات بھی سامنے آئی کہ گواہان خوف کی بنا پر عدالتوں میں نہیں آتے اس طرح دہشت گرد عدم ثبوت کی بنا پر سزاؤں سے بچ جاتے ہیں' اس طرح پولیس اور سیکیورٹی ادارے جو دہشت گردوں کو گرفتار کرتے ہیں ۔

ان کی ساری محنت اکارت جاتی ہے' دوسری جانب دہشت گردوں کے کیس کئی کئی سال تک چلتے رہتے لہٰذا ان حالات میں یہ ناگزیر ہو چکا تھا کہ دہشت گردوں کو بلاتاخیر سزائیں دے کر دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کیا جائے۔ وزیراعظم نواز شریف نے بھی قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اسی حقیقت کی جانب توجہ دلائی کہ عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے سے دہشت گردوں کی حوصلہ شکنی ہو گی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو تقویت ملے گی۔

پاکستان میں اب دہشت گردی کے حوالے سے اعلیٰ سطح پر کوئی ابہام نہیں رہا' حکومت' فوج' عدلیہ' سیاسی جماعتیں اور عوام دہشت گردی کے حوالے سے یکساں سوچ رکھتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ دہشت گردوں کو کسی قسم کی رعایت نہیں ملنی چاہیے۔سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ اس اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے کہ ملک میں بعض طبقے فوجی عدالتوں کے آئین سے متصادم سمجھتے تھے۔ اسی لیے 21 ویں ترمیم کے خلاف پٹیشن دائر کی گئی 'بہر حال اب عدالت عظمیٰ بھی اس حوالے سے اپنا فیصلہ دے کر صورت حال کو بالکل واضح کر دیا ہے۔

اس فیصلے سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جب ملک و قوم کو غیرمعمولی حالات کا سامنا ہو تو پھر ان حالات سے عہدہ برا ہونے کے لیے غیر معمولی فیصلے بھی کرنے پڑتے ہیں۔ اب متعلقہ اداروں کو اپنے فرائض خوش اسلوبی سے ادا کرتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف متحرک ہونا چاہیے تاکہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑا جاسکے۔